உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: ہندوستانی فضائیہ کے شہید افسرکی آخری رسومات میں عوام کا جم غفیر، نم آنکھوں سے دی گئی وداعی

    ہندوستانی فضائیہ کے پائلٹ فلائنگ آفیسر ادوتیا بال کی آخری رسومات جموں کے علاقے آر ایس پورہ میں ان کے آبائی مقام پر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ آخری رسومات  میں شامل لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں نم آنکھوں سے وداع کیا۔

    ہندوستانی فضائیہ کے پائلٹ فلائنگ آفیسر ادوتیا بال کی آخری رسومات جموں کے علاقے آر ایس پورہ میں ان کے آبائی مقام پر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ آخری رسومات میں شامل لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں نم آنکھوں سے وداع کیا۔

    ہندوستانی فضائیہ کے پائلٹ فلائنگ آفیسر ادوتیا بال کی آخری رسومات جموں کے علاقے آر ایس پورہ میں ان کے آبائی مقام پر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ آخری رسومات میں شامل لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں نم آنکھوں سے وداع کیا۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: ہندوستانی فضائیہ کے پائلٹ فلائنگ آفیسر ادوتیا بال کی آخری رسومات جموں کے علاقے آر ایس پورہ میں ان کے آبائی مقام پر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ آخری رسومات  میں شامل لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں نم آنکھوں سے وداع کیا۔ جیسے ہی فلائنگ آفیسر آنجہانی ادوتیہ بال کی میت جموں کے آر ایس پورہ علاقے میں ان کے آبائی گاؤں پہنچی، تو ہزاروں لوگوں کی بھیڑ وہاں پر جمع ہو گئ اور ہندوستانی فضائیہ کے بہادر افسر کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر لواحقین، عزیز و اقارب اور گاؤں والوں نے بڑی تعداد میں بہادر کو گلہائے عقیدت پیش کیا۔

    انڈین ایئر فورس کے افسروں اور جوانوں کے ساتھ ایئر فورس کی گاڑی میں میت کو ان کے آبائی مقام پر لایا گیا۔ گاؤں میں ہر طرف اداسی چھائی ہوئی تھی اور ہر آنکھ نم تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ بہادر افسرکو آخری سلامی پیش کی۔ ہزاروں لوگ جو بہادر جانباز کے آخری سفر کا حصہ تھے، ’بھارت ماتا کی جئے اور ادوتیہ امر رہے‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ اہل علاقہ نے اس المناک موت کو اپنے اور پورے ملک کا بڑا نقصان قرار دیا۔

    گاؤں میں ہر طرف اداسی چھائی ہوئی تھی اور ہر آنکھ نم تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ بہادر افسرکو آخری سلامی پیش کی۔
    گاؤں میں ہر طرف اداسی چھائی ہوئی تھی اور ہر آنکھ نم تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ بہادر افسرکو آخری سلامی پیش کی۔


    مقامی لوگوں نے کہا کہ شہید ایک زندہ دل انسان تھے اور وہ واقعی انسانیت کا دل رکھتے تھے۔ لوگوں نے کہا کہ ان کی شہادت سے نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ علاقے کے لوگوں کو افسوس کے ساتھ ساتھ فخر بھی ہے۔ کیونکہ انہوں نے ڈیوٹی کے دوران وطن کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ فوجی اہلکار، سول انتظامیہ کے افسران سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ جلوس کا حصہ تھے۔ خراب موسم کے باوجود ہزاروں افراد نے کاروں، موٹر سائیکلوں اور پیدل جلوس کے ساتھ گئے۔

    شہید ادوتیہ بال کے اسکول کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے، سینک اسکول نگروٹہ کے ان کے اساتذہ نے کہا کہ وہ ایک ذہین طالب علم تھے اور مسلح افواج میں شامل ہوکر ملک کی خدمت کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ اساتذہ نے شہید فوجی کو خراج عقیدت پیش کرکے ان کی شہادت کو ملک اور سینک اسکول کی شان قرار دیا۔ شہید ادوتیا بال کو ان کے آبائی گاؤں میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 28 جولائی کو راجستھان میں مگ 21 کے گرکر تباہ ہونے کے بعد ادوتیہ بال اپنے پائلٹ کے ساتھ شہید ہوگئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: