உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: بجلی ملازمین کی اموات کا سلسلہ جاری، عارضی ملازم کرنٹ لگنے سے ہلاک

    جموں وکشمیر: عارضی بجلی ملازمین کی اموات کا سلسلہ جاری

    جموں وکشمیر: عارضی بجلی ملازمین کی اموات کا سلسلہ جاری

    وادی کشمیر میں کے پی ڈی سی ایل کے ساتھ منسلک عارضی بنیادوں پر تعینات ملازمین کی حادثاتی اموات کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے ان ملازمین اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ جنوبی کشمیر میں شبیر احمد خان ولد محمد اقبال خان ساکنہ چک اشر داس نامی ایک اور عارضی بجلی ملازم کی موت نے پھر ایک بار کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: وادی کشمیر میں کے پی ڈی سی ایل کے ساتھ منسلک عارضی بنیادوں پر تعینات ملازمین کی حادثاتی اموات کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے ان ملازمین اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ جنوبی کشمیر میں شبیر احمد خان ولد محمد اقبال خان ساکنہ چک اشر داس نامی ایک اور عارضی بجلی ملازم کی موت نے پھر ایک بار کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات تیز ہواؤں کی وجہ سے ضلع اننت ناگ کے کئی دیہی علاقوں میں بجلی سپلائی متاثر ہوگئی۔ ونتراگ علاقے میں بھی بجلی سپلائی کو بحال کرنے کی غرض سے شبیر خان نے بجلی ترسیلی لائن کی مرمت شروع کی۔ اس دوران جب شبیر اپنے کام میں مشغول تھا تو اچانک نزدیکی گرڈ اسٹیشن سے بجلی کو بحال کر دیا گیا اور شبیر اس کی زد میں آکر کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

    شبیر کی موت سے علاقے میں صف ماتم بچھ گئی اور کہرام  کا ماحول برپا ہوگیا۔ لواحقین اور مقامی لوگوں کے مطابق شبیر خان نے ترسیلی لائن کی مرمت سے قبل متعلقہ بجلی گرڈ اسٹیشن کو مطلع کیا تھا اور ان سے علاقے کی بجلی سپلائی منقطع رکھنے کو کہا تھا، لیکن اس کے باوجود بھی مرمتی کام کے دوران بجلی سپلائی کو بحال کیا گیا، جس کی وجہ سے شبیر احمد خان کرنٹ کی زد میں آکر موت کی نیند سو گیا۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    PM Modi`s Jammu Visit: لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہانے سیکورٹی اوردیگر انتظامات کا لیا جائزہ
    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شبیر کی لاش کو پرائمری ہیلتھ سینٹر مٹن پہنچایا گیا، جہاں سے پوسٹ مارٹم کے لئے جی ایم سی منتقل کیا گیا۔ تاہم لوگوں نے وہاں پر تب احتجاج کیا، جب تین گھنٹے سے زائد وقت کے باوجود بھی کوئی بھی ڈاکٹر لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے نہیں آیا۔ اس دوران لوگوں نے الزام لگایا کہ بجلی محکمے کا کوئی بھی افسر اسپتال نہیں آیا۔

    دوسری جانب کے پی ڈی سی ایل میں کام کر رہے عارضی ملازمین کی انجمن کے سرکل صدر راجا وسیم نے کہا کہ عارضی ملازمین کی اموات کا سلسلہ باعث تشویش ہے اور تا حال تین سو سے زائد عارضی ملازم کام کے دوران موت کی ابدی نیند سوگئے، لیکن اس کے باوجود بھی نا ہی محکمہ اور نا ہی سرکار ٹس سے مس ہو رہی ہے۔ راجا وسیم نے الزام لگایا کہ محکمہ انہیں مناسب اور اعلیٰ میعارکا سیفٹی ایکوپمنٹ فراہم کرنے میں بھی ناکام ہو گیا ہے۔ جبکہ شبیر کی موت سراسر بجلی محکمہ کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ بصورت دیگر عارضی ملازمین ہمہ گیر احتجاج اور کام چھوڑ کر ہڑتال پر جائیں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: