ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: دہشت گردوں نے دراندازی کے لئے بنائی تھی سرنگ، بی ایس ایف نے پاکستان کی سازش ناکام کردی

گزشتہ 6 ماہ میں بارڈر سیکورٹی فورسیز (بی ایس ایف) نے پاکستان کے ذریعہ دہشت گردوں کی دراندازی کے لئے سرحد پر بنائی گئی 10 خفیہ سرنگوں کا پتہ لگایا ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: دہشت گردوں نے دراندازی کے لئے بنائی تھی سرنگ، بی ایس ایف نے پاکستان کی سازش ناکام کردی
جموں وکشمیر: دہشت گردوں نے دراندازی کے لئے بنائی تھی سرنگ، بی ایس ایف نے پاکستان کی سازش ناکام کردی

نئی دہلی: جموں وکشمیر (Jammu and Kashmir) میں بین الاقوامی سرحد سے متصل کٹھوعہ علاقے میں بارڈر سیکورٹی فورسیز (Border Security Force) نے پاکستان کے ناپاک ارادوں کی پول کھول دی ہے۔ بی ایس ایف نے ہفتہ کو کٹھوعہ کے پنسار علاقے میں پاکستان کے ذریعہ دہشت گردوں کی دراندازی کے لئے بنائی گئی 150 میٹر لمبی اور 30 فیصد گہری سرنگ (Pakistan secret tunnel) کا پتہ لگایا ہے۔ یہ بتانا اہم ہے کہ جون 2020 میں اسی علاقے میں پاکستان کے ذریعہ ہتھیار اور گولہ بارود کے ساتھ بھیجے گئے ہیکسا کاپٹر کو بی ایس ایف نے مار گرایا تھا۔ بارڈر سیکورٹی فورسیز (بی ایس ایف) کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے حوالے سے اے این آئی نے بتایا ہے کہ اسی علاقے میں نومبر 2019 میں بی ایس ایف نے دراندازی کی کوشش کر رہے پاکستانیوں پر فائرنگ کی تھی۔ گزشتہ 6 ماہ میں سانبا، ہیرا نگر اور کٹھوعہ علاقوں میں بی ایس ایف نے چار سرنگوں کا پتہ لگایا ہے اور پورے جموں علاقے کی بات کریں تو کل 10 سرنگوں کا پتہ چلا ہے۔


خبروں کے مطابق، بی ایس ایف نے سال 2020 میں سرحد پر پاکستان کی طرف سے بنائی گئی سرنگوں کا پتہ لگانے کے لئے مہیم شروع کی۔ گزشتہ 10 دنوں میں دو سرنگوں کا پتہ چلا ہے۔ پنسار علاقے میں ملی سرنگ کے دوسرے اینڈ پر شکر گڑھ ضلع میں پاکستانی فوج کے پوسٹ ہیں۔ شکر گڑھ دہشت گردوں کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ یہاں دہشت گردوں کی ٹریننگ کے لئے کیمپ کے ساتھ جیش محمد کا ٹھکانہ بھی ہے۔ جیش محمد کے کمانڈر قاسم جان کے پاس علاقے کی ذمہ داری ہے۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ قاسم جان ہی 19 نومبر 2020 کو ہوئے نگروٹہ انکاونٹر کے لئے ذمہ دار ہے۔ ساتھ ہی سال 2016 کے پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے معاملے میں اہم ملزم بھی ہے۔ ہندوستان میں جیش محمد کے دہشت گردوں کی دراندازی کے لئے قاسم جان اہم لانچ کمانڈر ہے۔


ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، بی ایس ایف افسران نے کہا کہ سرنگ 6 سے 8 سال پرانی لگ رہی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دراندازی کے لئے لمبے وقت سے اس کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ سرنگ ایسے علاقے میں ملی ہے، جہاں گزشتہ کچھ سالوں سے دہشت گرد دراندازی کے معاملے سامنے آتے رہے ہیں۔


نومبر 2020 میں نگروٹہ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل راکیش استھانا نے افسران کو خفیہ سرنگوں کا پتہ لگانے کے لئے کہا تھا، سیکورٹی افسران نے پایا ہے کہ سرنگ کی تعمیر میں انجینئرنگ کا پورا دھیان رکھا گیا ہے اور پاکستانی ملٹری کی طرف سے سرنگوں کو پوری سیکورٹی فراہم کرائی گئی ہے۔ اس ددرمیان بارڈر سیکورٹی فورسیز (بی ایس ایف) کے جوانوں نے خفیہ ذرائع سے ملی اطلاع کے بنیاد پر چھاپہ مار کر پونچھ ضلع میں اے کے-47 رافئل، چین میں تیار کی گئی پسٹل، انڈر بیریل گرینیڈ لاوڈر اور ریڈیو سیٹ برآمد کیا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 23, 2021 07:47 PM IST