ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیر کے عادل تیلی نےکشمیر سے کنیا کماری تک سائیکل ریس میں بنایا نیا ریکارڈ

عادل نے ایک سال پہلے سرینگر سے لہہ تک کا چار سو چالیس کلو میٹر کا سفر صرف چھبیس گھنٹے اور تیس سکینڈ میں طے کیا۔ عادل تیلی نے کشمیر سے کنیاکماری تک تین ہزار چھ سو پچاس کلو میٹر تک کا سفر سائیکل cycle race پر کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔

  • Share this:
وادی کشمیر کے عادل تیلی نےکشمیر سے کنیا کماری تک سائیکل ریس میں بنایا نیا ریکارڈ
عادل تیلی نے کشمیر سے کنیاکماری تک تین ہزار چھ سو پچاس کلو میٹر تک کا سفر سائیکل cycle race پر کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔

وسطی ضلع بڈگام کے نارہ بل سے تعلق رکھنے والے تئیس سالہ نیشنل سائیکلسٹ عادل احمد تیلی سائیکلنگ میں جوش وجذبے کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ عادل تیلی نے کشمیر سے کنیاکماری تک تین ہزار چھ سو پچاس کلو میٹر تک کا سفر سائیکل cycle race پر کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ انہوں نے یہ سفر آٹھ روز ،ایک گھنٹہ ،تیس سکینڈ میں مکمل کیا۔ عادل تیلی نے رواں مہینے کی تئیس مارچ کی صبح سات بجےسرینگر کے لالچوک سے اس ریس کی شروعات کی اور رواں مہینے کے تیس مارچ صبح نو بجے کنیاکماری پہنچ کر ایک نیاریکارڈ قائم کیا۔

اس سے پہلے اوم ہتندرامہاجن نے گزشتہ سال نومبر میں آٹھ دنوں ،سات گھنٹے تیس منٹ میں یہ سفر طے کرکے ریکارڈ قائم کیا تھا جسے عادل تیلی نے آج توڑ دیا۔عادل تیلی نے نیوز18 اردو کو بتایاکہ انہیں آج بہت خوشی ہوئی کہ انہوں نے نیا ریکارڈ قائم کیا۔ عادل نے قومی سطح کی سائیکلنگ مقابلو ں میں کئی بار حصہ لیکر میڈل جیتے ہیں ۔ عادل کی صلاحیتیوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے کئی سائیکلسٹس نے دو ہزار چودہ ،پندرہ اور دوہزار اٹھارہ میں سرینگر سے لہہ تک کے سفر کا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن عادل نے ان تما م سائیکلسٹس کے ریکارڈ بھی توڑد یئے تھے ۔


عادل نے ایک سال پہلے سرینگر سے لہہ تک کا چار سو چالیس کلو میٹر کا سفر صرف چھبیس گھنٹے اور تیس سکینڈ میں طے کیا ۔عادل اس وقت پہلے انڈین سائیکلسٹ بنے جنہوں نے اس کم وقت میں سرینگر سے لہہ تک کا سفر طے کرکے نیا ریکارڑ قائم کیا تھا۔ عادل اب مزید ریکارڈ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ عادل کی کامیابی پر ان کے دوست بھی کافی خوش ہیں ۔عاصف احمد ڈار نامی ان کے ایک دوست نے نیوز18اردوبتایاکہ انہیں اپنے دوست کی کامیابی پر کافی فخرہے۔ ان کے نئے ریکارڈ سے جموں وکشمیر کانام روشن کیا اور ہمارے شان دوبالا کر دی۔


عادل تیلی پنجاب کے امرتسر میں گو رونانک یونیورسٹی میں بی پی ایڈ کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں ۔ عادل پنجاب میں ہی سائیکلنگ کی کوچنگ بھی کررہے تھے ۔ عادل کا کہنا ہے کہ ساز وسامان کی کمی کی وجہ سے انہیں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جموں وکشمیر اسپورٹس کونسل اورسرکار کو ایسے کھلاڑیوں کو آگے پہنچانے کے سازو سامان ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنا چاہے۔ وادی کے نوجوانوں میں صلاحیتیو ں کی کمی نہیں ہے ان صلاحیتوں کو آگے لے جانےکے لئے بہتر پلیٹ فارم اور مضبوط سازو سامان کی ضرورت ہے ۔ محکمہ کھیل کو بھی عادل جیسے نوجوانوں کو آگے لے جانے کے لئے زیادہ سے زیادہ اقدامات اٹھانے چاہے ۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 30, 2021 07:52 PM IST