اپنا ضلع منتخب کریں۔

    نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے مختلف اقدامات کر رہی جموں۔کشمیر انتظامیہ

     جہاں ایک طرف مختلف سرکاری محکموں میں خالی پڑی اسامیوں کو پُر کرنے کا عمل جاری ہے وہیں سرکار نجی سیکٹر میں روزگار کو بڑھاوا دینے کے لئے نئی صنعتی پالیسی کو اپنا کر روزگار کے مواقع میسر کرانے کے لئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کر رہی ہے۔

    جہاں ایک طرف مختلف سرکاری محکموں میں خالی پڑی اسامیوں کو پُر کرنے کا عمل جاری ہے وہیں سرکار نجی سیکٹر میں روزگار کو بڑھاوا دینے کے لئے نئی صنعتی پالیسی کو اپنا کر روزگار کے مواقع میسر کرانے کے لئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کر رہی ہے۔

    جہاں ایک طرف مختلف سرکاری محکموں میں خالی پڑی اسامیوں کو پُر کرنے کا عمل جاری ہے وہیں سرکار نجی سیکٹر میں روزگار کو بڑھاوا دینے کے لئے نئی صنعتی پالیسی کو اپنا کر روزگار کے مواقع میسر کرانے کے لئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کر رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
      جموں و کشمیر انتظامیہ یہاں کے پڑھےلکھے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ جہاں ایک طرف مختلف سرکاری محکموں میں خالی پڑی اسامیوں کو پُر کرنے کا عمل جاری ہے وہیں سرکار نجی سیکٹر میں روزگار کو بڑھاوا دینے کے لئے نئی صنعتی پالیسی کو اپنا کر روزگار کے مواقع میسر کرانے کے لئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڑ اور پبلک سروسز کمیشن کی طرفسے بیس ہزار کے قریب اسامیاں مشتہر کی گئیں جن میں سے اب تک قریب پندرہ ہزار اسا میوں کو پُر کرکے پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا گیا۔ یو ٹی کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے ان دونوں بھرتی ایجنسیوں کو پہلے ہی ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ وہ بھرتی عمل میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ بھرتی عمل کو شفاف طریقے سے انجام دیں تاکہ مستحق امیدواروں کونوکریاں فراہم کی جاسکیں۔

      بھرتی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے میں سرکارکی سنجیدگی کا اسبات سے بھی ثبوت مل رہا ہے کہ گزشتہ مہینوں کے دوران بھرتی عمل میں دھاندلیاں پائے جانے کے بعد ان بھرتیوں کوقلعدم قراردیا گیا اور اب اس ماہ کے دوران ان اسامیوں پر دوبارہ تحریری امتحانات منعقد کرنے کا شیڈول جاری کیا گیا ہے تاکہ قابل اور مستحق امیدواروں کوہی نوکریاں مہیا کی جاسکیں۔ ان دنوں بھی سروسزسلیکشن بورڈ کی طرفسے کئی اسامیاں مشتہر کی گئی ہیں اور نوجوان ان اسامیوں کے لئے فارم بھرنے میں مشغعول ہیں۔ سرکاری نوکریوں کے علاوہ موجودہ یو ٹی انتظامیہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو خود روزگار یونٹ قائیم کرنے کے لئے بھر پور مالی مدد فراہم کررہی ہے۔

      پہلی بار فلائٹ میں بیٹھی دنیا کی سب سے لمبی خاتون، ایئرلائن کو ہٹانی پڑی 6 سیٹیں

      سائرس مستری حادثہ: پولیس نے کار چلا رہی اناہیتا پنڈول پر درج کیا غیر ارادتا قتل کا کیس

      اس سلسلے میں مختلف بینکوں کی طرف سے ایسے نوجوانوں کو سبسڑی پر قرضے فراہم کئے جارہے ہیں اور اس طرح کے اقدامات سے ہزاروں کشمیری نوجوان اپنے یونٹ قائیم کرکے جہاں اپنے لئے وہیں دوسروں کے لئے بھی روزگار کے مواقع میسر کر پا رہے ہیں۔ ایل جی انتظامیہ کے مطابق جموں و کشمیر کی طرف راغب کی گئی سرمایہ کاری کی بدولت مستقبل قریب میں مزید ستھر ہزار نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوگا اور اسطرح یو ٹی کے موجودہ بے روزگاری کے مسلے سے نپٹنے میں کافی مدد ملے گی۔

      ملکی اور بیرون ملکی کمپہنیوں کی طرفسے جموں و کشمیر میں سرمایہ لگانے سے یہاں صنعتی پھیلائو ہوگا اور ان صنعتوں میں جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوگا۔ جموں و کشمیر میں بیرونی سرمایہ کاری اور صنعتی پھیلائو تبھی ممکن ہو پایا ہے جب جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم ہوا ہے اوراس طرح یہاں کے کاروبار میں بھی کافی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے نوجوان اب اس بات کو بخوبی محسوس کررہے ہیں کہ واقعی میں دفعہ تین سو ستھر انکی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہو ا تھا۔

      (رپورٹ: رمیش امباردار)
      Published by:Sana Naeem
      First published: