உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : 32 سال کے بعد کشمیری پنڈتوں نے جہلم کے کنارے کی خصوصی پوجا ، نظر آیا مذہبی ہم آہنگی کا نظارہ

    جموں و کشمیر : 32 سال کے بعد کشمیری پنڈتوں نے جہلم کے کنارے کی خصوصی پوجا ، نظر آیا مذہبی ہم آہنگی کا نظارہ

    جموں و کشمیر : 32 سال کے بعد کشمیری پنڈتوں نے جہلم کے کنارے کی خصوصی پوجا ، نظر آیا مذہبی ہم آہنگی کا نظارہ

    Jammu and Kashmir News : کشمیری پنڈتوں کی خاصی تعداد نے پرشار حبہ کدل میں جہلم کے کنارے پر مٹی کے دئے راشن کرکے خصوصی پوجا اور آرتی میں شرکت کی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    سری نگر : اٹھارہ ستمبر دوہزار اکیس کی شام ٫٫وتستا ماتا کی جے؛؛ کے نعروں اور خصوصی آرتی کے بیچ جہلم کے کنارے پر مٹی کے چراغ روشن کرنے میں مصروف کشمیری پنڈت اور کثیر تعداد میں کشمیری مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی جہلم کے دونوں کناروں پر چراغاں۔ یہ دلکش نظارہ تھا پرشار حبہ کدل سرینگر کا ، جہاں کشمیری پنڈت بتیس سال کے وقفے کے بعد ویتھ تروہ منانے کے لئے جمع ہوگئے تھے۔ کشمیری پنڈت مانتے ہیں کہ وتستا جسے عرف عام میں دریائے جہلم کے نام سے جانا جاتا ہے ، کشمیر وادی میں ہزاروں سال قبل اسی روز ظاہر ہوئی تھی ۔ لہذا وہ اس دن کو ندی کے جنم دن کے طور پر صدیوں سے مناتے آرہے ہیں ۔ تاہم انیس سو نوے میں کشمیر وادی میں ملی ٹینسی کے سبب زیادہ تر کشمیری پنڈتوں کو مجبوراً وادی سے ہجرت کرنا پڑی ، جس کے نتیجے کے طور پر بتیس سال تک یہ تہوار سرینگر میں منایا نہیں جاسکا ۔ تاہم تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اس برس یہ تہوار مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔

    اس موقع پر کشمیری پنڈتوں کی خاصی تعداد نے پرشار حبہ کدل میں جہلم کے کنارے پر مٹی کے دئے راشن کرکے خصوصی پوجا اور آرتی میں شرکت کی ۔ اس موقع پر حبہ کدل علاقے میں دریائے جہلم کے کناروں پر حسب روایت چراغ روشن کئے گئے اور کچھ چراغ کنول کے پتوں پر جہلم دریا میں تیرنے کے لیے چھوڑے گئے ۔ اس موقع پر کشمیری پنڈتوں کے علاوہ کشمیری مسلم اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کافی تعداد میں موجود تھے ۔ ویتھ تروہ کے سلسلے میں حبہ کدل اور اس سے ملحقہ علاقوں میں چراغاں کیا تھا ۔ خصوصی پوجا میں شریک کشمیری پنڈتوں نے بتیس سال کے عرصے کے بعد منعقدہ اس مذہبی تقریب میں شریک ہونے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ۔

    بھاونا نامی ایک کشمیری پنڈت خاتون نے کہا کہ وہ ماتا وتستا کے جنم دن کے موقع پر کی جانے والی اس خصوصی پوجا میں شریک ہونے سے کافی خوش ہیں ۔  نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بھاونا نے کہا کہ انہیں پہلی بار اس پوجا میں شریک ہونے کا موقع ملا ہے اور وہ اپنے آپ کو خوش نصیب مانتی ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال میں آئندہ مزید بہتری آئے گی ۔ تاکہ کشمیری پنڈت ایک مرتبہ پھر ماضی کی طرح جوش و خروش کے ساتھ اپنے تہوار منا سکے ۔

    تقریب میں شامل ایک اور کشمیری پنڈت مہاراج کرشن بھٹ نے ماتا وتستا ندی کے جنم دن کے موقع پر خصوصی پوجا میں شریک ہونے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بتیس سال کے وقفہ کے بعد پرشار حبہ کدل میں یہ تقریب منعقد ہونا حالات میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے ۔ نامور صوفی گلوکار دھنن جے کول نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس پوجا میں شریک ہونے سے سکون قلب حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تہوار کشمیر کی مشترکہ تہذیب و تمدن کا حصہ ہیں اور آج انہیں ایک بار پھر یہ احساس ہوا کہ حالات کیسے بھی رہے ہوں ، عام کشمیری بلا لحاظ مذہب وملت اپنی تہذیب اور تمدن کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ لہذا عین ممکن ہے کہ اس طرح کے تہواروں سے کشمیری تہذیب و تمدن مزید پروان چڑھے گا ۔

    تقریب میں موجود مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسے ایک نیک شگون قرار دیا ۔ عبد الرشید نامی ایک مقامی شخص نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری پنڈت اور مسلمان صدیوں سے بھائی چارے کے زندگی بسر کرتے رہے ہیں ، لیکن بدقسمتی سے انیس سو نوے کے نامساعد حالات کے بعد وہ ایک دوسرے سے پچھڑ گئے ، جس کا انہیں کافی ملال ہے ۔ ماضی کو یاد کرتے ہوئے عبدالرشید نے کہا کہ وہ بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ اس تہوار کو دیکھنے کے لیے آتے تھے ، لیکن کشمیری پنڈتوں کی وادی سے ہجرت کے بعد آج تک یہاں کوئی تقریب منعقد نہیں ہوپائی ۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ خوش ہیں کہ کشمیری پنڈت اور مسلمان بتیس سال کے لمبے وقفے کے بعد ایک بار پھر اس تہوار کو مل کر منا رہے ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیری پنڈت ایک بار پھر اپنے مادر وطن کو لوٹیں گے اور یہاں پرانی رونقیں بحال ہوجائیں گی ۔

    پینتیس سال کی عمر کے ارشد احمد نے نیوز18 اردوکے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے والدین سے سنا تھا کہ کشمیری پنڈت وتھ تروہ کے موقع پر پرشار حبہ کدل میں خصوصی پوجا کیا کرتے تھے ۔ تاہم کشمیری پنڈتوں کی وادی سے ہجرت کی وجہ سے آج تک وہ اس تقریب میں شریک نہیں ہوپائے ۔ انہوں نے کہاکہ حبہ کدل علاقے میں جہلم دریا کے کنارے منعقدہ اس تقریب کا حصہ بننا ان کے لیے نہ صرف باعث مسرت ہے ، بلکہ باعثِ فخر بھی ۔

    کشمیر کے ڈویژنل کمشنر پی کے پولے جنہوں نے اس خصوصی پوجا میں شرکت کی ، نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تہوار کشمیر کی ملی جلی تہذیب کا عکاس ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں ملی ٹینسی شروع ہونے سے قبل یہاں کے لوگ مل کر یہ تہوار مناتے تھے اور کافی لمبے عرصے تک یہ تہوار منایا نہیں جاسکا ۔ تاہم یہ سلسلہ آج سے دوبارہ شروع ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بتیس سال قبل کشمیر وادی سے جن لوگوں نے ہجرت کی ان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں ۔ پولے نے کہا کہ کشمیر سے ہجرت کرنے والے زیادہ تر کشمیری خاندان تھے۔ لیکن لگ بھگ ڈھائی ہزار کے قریب مسلم خاندان اور ایک ہزار کے قریب سکھ کنبے بھی وادی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال میں بہتری واقع ہونے لگی ہے اور امید ہے کہ کشمیر سے ہجرت کرچکے لوگ رفتہ رفتہ اپنی مادر وطن لوٹ آئیں گے ۔ واضح رہے کہ اس تقریب کا انعقاد شانتی مانس نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے شری سناتن دھرم شیتل ناتھ آشرم سبھا کے اشتراک سے کیا تھا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: