ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر: دفعہ 370 کی منسوخی کے دو سال بعد بھی اس معاملہ پر ہورہی ہے جم کر سیاست، جانئے کیوں

Jammu and kashmir News : جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کو ہٹائے ہوئے آج پورے دو سال ہوگئے ہیں ، لیکن ابھی بھی یہ سیاسی گلیاروں میں ایک ایشو بنا ہوا ہے ۔ جب جموں و کشمیر سے دفعہ 370 منسوخ کیا گیا تھا تب لگ رہا تھا کہ کچھ وقت تک یہ سیاسی گلیاروں میں یہ ایک گرم موضوع رہے گا اور رفتہ رفتہ پارٹیاں اس کو بھلا دیں گی ، مگر دو برس گزر جانے کے بعد بھی یہ زندہ ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر: دفعہ 370 کی منسوخی کے دو سال بعد بھی اس معاملہ پر ہورہی ہے جم کر سیاست، جانئے کیوں
جموں و کشمیر: دفعہ 370 کی منسوخی کے دو سال بعد بھی اس معاملہ پر ہورہی ہے جم کر سیاست، جانئے کیوں

جموں : دفعہ تین سو ستر ہٹنے کے دو برس پورے ہونے کے بعد بھی اس معاملہ پر سیاست ہورہی ہے ۔ بی جے پی جہاں اسے ہٹانے کو جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے ضروری قرار دے رہی ہے تو وہیں نیشنل کانفرنس ، کانگریس اور پی ڈی پی اس دفعہ کی بحالی کی مانگ کررہی ہیں ۔ جموں و کشمیر سے دفعہ تین سو ستر اور پنتیس اے کو ہٹائے ہوئے آج پورے دو سال ہوگئے ہیں ، لیکن ابھی بھی یہ سیاسی گلیاروں میں ایک ایشو بنا ہوا ہے ۔ جب جموں و کشمیر سے دفعہ تین سو ستر منسوخ کیا گیا تھا تب لگ رہا تھا کہ کچھ وقت تک یہ سیاسی گلیاروں میں یہ ایک گرم موضوع رہے گا اور رفتہ رفتہ پارٹیاں اس کو بھلا دیں گی ، مگر دو برس گزر جانے کے بعد بھی یہ زندہ ہے ۔ ایسا اس لئے ہے کہ آج بھی سبھی سیاسی پارٹیاں اس معاملہ کو لے اسی انداز میں سیاسی سطح پر سرگرم ہیں ، جیسے دو ہزار انیس سے اس ایشو کو اچھال کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس ایشو سے اپنی سیاسی روٹی سینکنے میں مصروف ہیں ۔


جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے تو پارٹی نے اس معاملہ کو ہمیشہ ہی اپنا سب سے بڑا سیاسی ایجنڈا بنایا ہے ۔ اب جبکہ بی جے پی نے اس کو ہٹادیا تو وہ اب لوگوں کے سامنے اس کے ہٹائے جانے کے فوائد گنا رہی ہے۔ جموں و کشمیر بی جے پی کے ترجمان بلبیررتن کا کہنا ہے کہ دفعہ تین سو ستر کے خلاف پارٹی نے کئی قربانیاں دی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑا سیاسی قدم ہے کہ بی جے پی نے اس دفعہ کو ہٹاکر جموں و کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ پارٹی نےآج دفعہ تین سو ستر ہٹائے جانے کے دو سال مکمل ہونے پر پورے جموں و کشمیر میں جشن منایا ۔


ان کا دعوی ہے کہ سیاسی ایشو ہونے کے ساتھ ساتھ یہ پارٹی کے کروڑوں لوگوں کے لئے ایک جذباتی معاملہ بھی تھا ، جس کو آخر کار بی جے پی سرکار نے ہٹاکر لوگوں کا خواب شرمندہ تعبیر کیا ہے ۔ ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ دفعہ تین سو ستر ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوا ، جس کے نتائج کچھ وقت میں دیکھنے کو ملیں گے ۔ ان کا الزام ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اس معاملہ پر صرف سیاست کر رہی ہیں ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر دفعہ تین سو ستر پرسیاسی بیان بازی کب ختم ہوگی تو انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پر اس کی ساری ذمہ داری ہے کہ وہ یہ تسلیم کرلیں کہ یہ اب ایک تاریخ بن گیا ہے اور اسے دوبارہ بحال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔


دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی پر یہ الزام لگا رہی ہیں کہ اس نے جموں و کشمیر کی انفرادی شناخت کو ختم کیا ہے اور اپنے سیاسی فائدہ کے لئے اس نے اس دفعہ کو ختم کیا اور جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ۔ پردیش کانگریس کے نائب صدر رمن بھلا کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور چند ووٹوں کے لئے بی جے پی نے جموں و کشمیر کی شناخت کو تار تار کردیا ۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی بھی لگاتار اس معاملہ کو اچھال رہی ہیں اور اس سے اپنا سیاسی فائدہ اٹھارہی ہیں۔ پی اے جی ڈی کا کہنا ہے کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، جب تک کہ دفعہ تین سو ستر کو مکمل طور پر بحال نہ کیا جائے ۔

اس معاملہ پر جب نیوز 18 اردو نے سیاسی تجزیہ نگار پرکھشت منہاس سے بات کی ، تو ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی ہر سیاسی پارٹی تین سو ستر کے معاملہ پر اپنی مجبوریوں کی وجہ سے سیاست کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ترقی کے وعدے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں اور دوسری طرف پی ڈی پی پر یہ الزامات لگ رہے ہیں کہ اس نے بی جے پی سے ہاتھ ملاکر دفعہ تین سو ستر کی منسوخی کا راستہ صاف کیا ۔ اسی لئے دونوں پارٹیاں اس معاملہ پر الگ الگ رائے ظاہر کرتے ہوئے اپنی سیاست چمکا رہی ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں ۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس ایک واحد جماعت ہے ، جو اس معاملہ پر کچھ حد تک نرم رہی ہے اور اس طرح وہ اپنی سیاسی ساخت کو بچانے میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو رہی ہے ۔ پرکھشت منہاس کا کہنا ہے کہ جب تک نوجوان ووٹرس دفعہ تین سو ستر کو ایک طرف چھوڑ کرترقیاتی معاملات پر ووٹ کا استعمال نہیں کریں گے ، تب تک یہ معاملہ گرم ہی رہے گا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 05, 2021 06:17 PM IST