உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں ریلوے اسٹیشن سے جانے والی تمام ٹرینیں دوسرے روز بھی منسوخ، مسافروں کو مشکلات کاسامنا

    جموں ریلوے اسٹیشن سے جانے والی تمام ٹرینیں دوسرے روز بھی منسوخ، مسافروں کو مشکلات کاسامنا

    جموں ریلوے اسٹیشن سے جانے والی تمام ٹرینیں دوسرے روز بھی منسوخ، مسافروں کو مشکلات کاسامنا

    Jammu and Kashmir News : جموں ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینیں بھی آج دوسرے روز بھی منسوخ کی گئیں ، جس کے سبب جموں سے ملک کے دیگر حصوں کی جانب سفر کرنے والے مسافروں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    • Share this:
    جموں : جموں ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینیں بھی آج دوسرے روز بھی منسوخ کی گئیں ، جس کے سبب جموں سے ملک کے دیگر حصوں کی جانب سفر کرنے والے مسافروں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آج لگاتار دوسرے روز بھی سینکڑوں کی تعداد میں مسافر جموں کے ریلوے اسٹیشن کے باہر اس انتظار میں رہے کہ ٹرین سروس کب بحال ہوگی ۔ تاکہ وہ اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہو سکیں ۔ تاہم انہیں سوائے انتظارِ کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔ پنجاب میں کسانوں کے گروپ کی طرف سے ریلوے ٹریکس کے نزدیک کئی مقامات پر ریلوے اہلکاروں کو بیس دسمبر کے روز کئی ٹرینیں منسوخ کرنی پڑی ۔ اگر چہ کچھ مسافر کل رات بسوں میں سوار ہوکر اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہوئے تاہم مسافروں کی ایک بھاری تعداد آج بھی جموں ریلوے اسٹیشن کے باہر انتظار کرتے ہوئے دیکھی گئی۔ رات کے درجہ حرارت میں کمی کے سبب مسافروں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    ریاست اتر پردیش کے کانپور شہر سے تعلق رکھنے والے ویشنو دیوی کی یاترا انجام دینے والے آنند جھا نے کہا کہ ٹرینیں منسوخ ہونے کے سبب مسافروں کو کئی مشکلات سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آنند جھا نے کہا " ہمارا گروپ لگ بھگ چالیس افراد پر مشتمل ہےاور ہم ہر سال کی طرح اس برس بھی ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لئے جموں پہنچے۔ کٹرا کے ترکوٹا پہاڑی سلسلہ میں واقع ماتا ویشنو دیوی کے درشن کرنے کے بعد ہم آج گھر واپس لوٹنا چاہتے تھے ۔ تاہم ٹرینیں منسوخ ہونے کے سبب ہم جموں ریلوے اسٹیشن کے باہر ٹرین سروس بحال ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ ہم بار بار ریلوے حکام سے گزارش کررہے ہیں کہ وہ ہمیں ٹرین سروس بحال ہونے کے بارے میں صحیح اطلاعات فراہم کریں تاہم ریلوے حکام یا کسی سرکاری ایجنسی کی طرف سے اس بارے میں کوئی بھی مصدقہ اطلاع فراہم نہیں کی جارہی ہے۔"

    آنند جھا نے کہاکہ ریلوے حکام ہر تیس منٹ کے بعد اطلاع فراہم کرنے کی باتیں دہرا رہے ہیں جس کی وجہ سے مسافر ذہنی پریشانی کے شکار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے اسٹیشن پر موجود زیادہ تر مسافروں کے پاس جموں میں رہائش کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا " یہاں کئی مسافر  چھوٹے بچوں کے ساتھ موجود ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے کا کوئی انتظام بھی نہیں ہے۔جس کے باعث وہ پریشانی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ریلوے حکام ٹرین سروس کی بحالی کے حوالے صحیح جانکاری فراہم کریں تاکہ ہم آگے کے سفر سے متعلق کوئی متبادل انتظام کرسکیں۔"

    گورکھپور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مسافر پونم دیوی نے کہاکہ انہیں آج ہی جموں سے گورکھپور جانا تھا تاہم جموں سے روانہ ہونے والی ٹرینیں منسوخ ہونے کی وجہ سے وہ پریشان ہیں انہوں نے کہاکہ سرکار کی جانب سے درماندہ مسافروں کے لئے کھانے پینے یا عارضی رہائش کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ پنجاب کے امرتسر ضلع سے تعلق رکھنے والے سریندر سنگھ نے کہاکہ وہ آج کٹرا سے امرتسر کا سفر کرنا چاہتے تھے کٹرا ریلوے اسٹیشن پر انہیں بتایا گیا کہ وہ جموں ریلوے اسٹیشن پہنچ جائیں جہاں سے وہ امرتسر کا سفر کرسکتے ہیں۔ تاہم جموں ریلوے اسٹیشن پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ اس اسٹیشن سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینیں منسوخ کی جاچکی ہیں۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا " کٹرا میں ریلوے حکام نے ہم سے کہاکہ آپ جموں چلے جائیں اور وہاں سے امرتسر کے لئے ٹرین میں سوار ہوجائیں ہم سب لوگ بس میں سوار ہوکر جموں ریلوے اسٹیشن پہنچے تاہم یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ جموں اسٹیشن سے چلنے والی تمام ٹرینیں کل سے ہی منسوخ کی گئی ہیں۔

    نیوز18 اردو نے ڈویژنل ٹریفک منیجر جموں ریلوے اسٹیشن مہیش کمار سے اس پورے معاملے پر خصوصی بات چیت کی۔ بات چیت کے دوران ڈی ٹی ایم نے کہاکہ محکمے کو آج دوسرے روز بھی  ریل سروس منسوخ کرنی پڑی تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا " بیس اور اکیس دسمبر کو جموں سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینوں کو مجبوراً منسوخ کرنا پڑا ہے کیونکہ پنجاب میں کئی مقامات پر کسانوں کے ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے ریلوے ٹریک پر دھرنا دیا ہے ، جس کی وجہ سے ریلوے حکام کو یہ فیصلہ لینا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ شمالی ریلوے کی طرف سے کچھ مقامات سے ٹرین سروس چالو کی گئی ہے جن میں امبالہ، بھٹنڈہ کے ریلوے اسٹیشن شامل ہیں۔

    مہیش کمار نے بتایا کہ ریلوے حکام کسانوں کی جانب سے پنجاب میں ریل روکو دھرنا ختم کئے جانے کے بعد ہی بائیس دسمبر کو جموں سے باقاعدہ ٹرین سروس بحال کرنے کا فیصلہ لیں گے۔ تاہم انہوں نے کہاکہ بدھ کے روز کٹرا سے امرتسر تک ایک ٹرین چلائی جائے گی۔ واضح رہے کہ کسانوں کا ایک گروپ سے وابستہ اراکین  پنجاب کے کئی مقامات پر "ریل روکو" احتجاجی پروگرام کے تحت ریلوے ٹریک پر دھرنا دیاہے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ احتجاجی زرعی قوانین کو واپس لئیے جانے سے متعلق احتجاج کے دوران جاں بحق ہوئے کسانوں کے لواحقین کی قرضہ معافی، لواحقین کے حق میں معاوضہ دینے اور مارے گئے افراد کے لواحقین کے حق میں فی گھر سرکاری نوکری فراہم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: