ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

شری امرناتھ یاترا 2020 : ہمالیائی گپھا میں آخری درشن کے ساتھ یاترا اختتام پذیر

اس سال کورونا کی وبائی صورتحال کی وجہ سے امرناتھ یاترا کو ملتوی کر دیا گیا تھا ، تاہم جولائی میں بھومی پوجن کے ساتھ ہی مذہبی طور اور حسب روایت یاترا کا آغاز ہوا تھا ۔

  • Share this:
شری امرناتھ یاترا 2020 : ہمالیائی گپھا میں آخری درشن کے ساتھ یاترا اختتام پذیر
شری امرناتھ یاترا 2020 : ہمالیائی گپھا میں آخری درشن کے ساتھ یاترا اختتام پذیر

اننت ناگ : شیو اور شکتی کی پرتیک چھڑی پیر کی صبح بذریعہ طیارہ جنوبی کشمیر کے ہمالیائی پربتوں پر واقع امرناتھ کی مقدس گپھا پہنچایا گیا ۔ مہنت دپیندرا گری کی نگرانی میں چھڑی کو مقدس برفانی شیو لنگم کے قریب رکھا گیا اور امرناتھ گپھا میں ویدک منتروں کے ساتھ پوجا کے بعد اس سال کی شری امرناتھ جی یاترا اختتام پذیر ہوئی ۔ مقدس گپھا میں چھڑی کے پہنچنے پر یہاں پر آخری درشن اور پوجا ارچنا کا اہتمام کیا گیا ۔ اگرچہ کورونا کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے اس سال کی یہ یاترا بنا جوش او ولولے کے اختتام پذیر ہوئی ۔ تاہم لوگ سرکار کے اس اقدام سے بھی مطمئن نظر آ رہے ہیں ۔


اس سال کورونا کی وبائی صورتحال کی وجہ سے امرناتھ یاترا کو ملتوی کر دیا گیا تھا ، تاہم جولائی میں بھومی پوجن کے ساتھ ہی مذہبی طور اور حسب روایت یاترا کا آغاز ہوا تھا ، جس کے بعد سرکار نے کورونا کے بڑھتے معاملات اور یاتریوں کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے بابا برفانی کی یاترا بنا یاتریوں کے ہی اختتام کرنے کی حامی بھری ۔ جس کے بعد آج صبح سرینگر کے دشنامی اکھاڑے سے مہنت دپیندرا گری کی نگرانی میں مقدس چھڑی کو بذریعہ طیارہ امرناتھ گپھا پہنچایا گیا اور واپسی پر پہلگام میں یاترا کی اختتامی پوجا ہوئی ۔


شیو اور شکتی کی پرتیک چھڑی پیر کی صبح بذریعہ طیارہ جنوبی کشمیر کے ہمالیائی پربتوں پر واقع امرناتھ کی مقدس گپھا پہنچایا گیا ۔
شیو اور شکتی کی پرتیک چھڑی پیر کی صبح بذریعہ طیارہ جنوبی کشمیر کے ہمالیائی پربتوں پر واقع امرناتھ کی مقدس گپھا پہنچایا گیا ۔


اس سال امرناتھ یاترا میں یاتریوں کی شرکت نہ ہونے سے جہاں ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں کو مایوسی ہوئی وہیں بلکہ کشمیر میں بھی لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ۔ لیکن اس کے باوجود بھی لوگ سرکار کے اس فیصلے کو صحیح اور دانشمندانہ اقدام قرار دے رہے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ وبائی صورتحال میں سرکار نے جو فیصلے کئے ہیں وہ اس سے مطمئن ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شری امرناتھ یاترا کشمیر کے صدیوں پرانے مذہبی بھائی چارے اور کشمیریت کی زندہ مثال ہے ۔ ایسے میں یہاں کے مقامی لوگ بھی اس سال کی یاترا کے ملتوی ہونے سے ناخوش ضرور ہیں ، لیکن ساتھ ہی کورونا کی سنگین صورتحال کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال میں یاترا کو ملتوی کرنا ایک اچھا قدم قرار دے رہے ہیں ۔

پہلگام کے ایک مقامی رضاکار مشتاق پہلگامی کا کہنا ہے کہ امرناتھ جی یاترا کے ساتھ کافی لوگوں کا روزگار بھی جڑا ہے اور اس سال یاترا نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ جبکہ یاترا کے منعقد نہ ہونے سے کشمیر کے مقامی لوگوں کو بھی دھچکا ضرور لگا ہے، لیکن کورونا سے جس طرح کے حالات پیدا ہوئے ہیں ، ایسے میں یاترا کو منعقد کرانا یقینی طور پر ایک خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا ۔ مشتاق پہلگامی نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال میں بنا خلل اور خوش اسلوب امرناتھ یاترا کا اہتمام ہوگا ۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی دفعہ 370 اور جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو مرکزی حکومت کی جانب سے ختم کرنے سے قبل ہی امرناتھ یاترا کو قبل از وقت ہی روک دیا گیا تھا اور سرکار نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر تمام یاتریوں اور سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کی ایڈوائزری جاری کی تھی ۔ جس کے بعد اس سال کی امرناتھ یاترا پر تمام نظریں اور امیدیں مرکوز تھیں ۔ لیکن کورونا کی وجہ سے ان امیدوں پر پانی پھر گیا اور اس سال بھی امرناتھ یاترا کا اہتمام نہیں ہو سکا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 03, 2020 08:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading