ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ڈل جھیل میں تیرتی ایمبولنس لوگوں کیلئے راحت ، کووڈ حالات میں جانکاری پھیلانے کا بھی کررہی ہے کام

Jammu and Kashmir News : یہ ایمبولنس ڈل جھیل میں رہنے والے طارق پتلو نے بنائی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال اگست میں جب وہ کووڈ 19 کا شکار ہوئے ، تو اسپتال پہنچنے کے لئے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ شکارا والوں نے اُنہیں سڑک تک پہنچانے سے منع کردیا ، کیونکہ ہر طرف ڈر کا ماحول تھا ۔ اُسی دن انہوں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کیا ۔

  • Share this:
ڈل جھیل میں تیرتی ایمبولنس لوگوں کیلئے راحت ، کووڈ حالات میں جانکاری پھیلانے کا بھی کررہی ہے کام
ڈل جھیل میں تیرتی ایمبولنس لوگوں کیلئے راحت ، کووڈ حالات میں جانکاری پھیلانے کا بھی کررہی ہے کام

سرینگر : سڑکوں پر دوڑتی ایمبولنس تو سب نے دیکھی ہے ، لیکن پانی کی لہروں پر تیرتی ایمبولنس شاید کبھی دیکھی ہو۔ کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور یہ ایمبولنس اسی ضرورت کی ایجاد ہے۔ ڈل جھیل کے اندر کئی لوگ آباد ہیں ، ہاوس بوٹ ہوں یا پھر مکانات ، جھیل کے اندر آباد لوگوں اور سیاحوں میں سے اگر کوئی بیمار ہوجاتا ہے ، تو سڑک تک آتے آتے بیمار کی حالت اور زیادہ خراب ہوجاتی تھی لیکن اب اس ایمبولنس کی وجہ سے حالات بدل گئے ہیں ۔


اس ایمبولینس کی کہانی بھی انوکھی ہے ۔ یہ ایمبولنس ڈل جھیل میں رہنے والے طارق پتلو نے بنائی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال اگست میں جب وہ کووڈ 19 کا شکار ہوئے ، تو اسپتال پہنچنے کے لئے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ شکارا والوں نے اُنہیں سڑک تک پہنچانے سے منع کردیا ، کیونکہ ہر طرف ڈر کا ماحول تھا ۔ اُسی دن انہوں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ صحتیاب ہونے کے بعد انہوں ایک ایمبولینس بنانے کا فیصلہ کیا اور کافی مشقت کے بعد یہ ایمبولنس بنائی ، جو اب جھیل میں موجود لوگوں اور سیاحوں کے لئے راحت کا ساماں بن گئی ہے ۔


چند دن قبل للِت نام کے ایک سیاح کی اہلیہ ہاوس بوٹ میں بیمار ہوئی اور رات کے گیارہ بجے اسی ایمبولنس کی وجہ سے انہیں وقت پر اسپتال پہنچایا جاسکا۔ للِت کا کہنا ہے کہ اُس دن انہیں اس ایمبولنس کی اہمیت اور ضرورت کا احساس ہوا۔ مقامی لوگ طارق کی اس کاوش سے کافی خوش ہیں ، کیونکہ اس کے چلتے وہ اب ایمرجنسی صورتحال میں جھیل سے سڑک تک پہنچ سکتے ہیں ۔ طارق نہ صرف بیمار افراد کی مدد کرتے ہیں بلکہ جھیل میں آباد لوگوں میں کووڈ سے متعلق جانکاری بھی پھیلاتے ہیں ۔


آج کل وہ صبح گیارہ بجے گھر سے نکلتے ہیں اور ڈل اور نِگین جھیل میں گھوم گھوم کر لوگوں میں جانکاری پھیلاتے ہیں ۔ وہ نہ صرف کووڈ  قواعد و ضوابط کی جانکاری پھیلاتے ہیں ، بلکہ لوگوں میں ماسک بھی تقسیم کرتے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 04, 2021 09:33 PM IST