உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Srinagar میں منشیات کے خلاف مشن واپسی، اس کاروبار سے حاصل شدہ جائیداد بھی اب ہوگی ضبط

    جموں کشمیر میں منشیات کا کاروبار  اور استعمال بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بڑی مقدار میں منشیات ضبط کرنے اور اسمگلروں کی گرفتاری کے باوجود یہ کاروبار جاری ہے۔ ۔ ضلع انتظامیہ سرینگر نے مشن واپسی کے تحت نہ منشیات کے خلاف بڑی مہم چھیڑی گئی ہے ۔

    جموں کشمیر میں منشیات کا کاروبار  اور استعمال بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بڑی مقدار میں منشیات ضبط کرنے اور اسمگلروں کی گرفتاری کے باوجود یہ کاروبار جاری ہے۔ ۔ ضلع انتظامیہ سرینگر نے مشن واپسی کے تحت نہ منشیات کے خلاف بڑی مہم چھیڑی گئی ہے ۔

    جموں کشمیر میں منشیات کا کاروبار  اور استعمال بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بڑی مقدار میں منشیات ضبط کرنے اور اسمگلروں کی گرفتاری کے باوجود یہ کاروبار جاری ہے۔ ۔ ضلع انتظامیہ سرینگر نے مشن واپسی کے تحت نہ منشیات کے خلاف بڑی مہم چھیڑی گئی ہے ۔

    • Share this:
    سرینگر: کشمیر میں منشیات کے پھیلتے کاروبار کے خلاف اب بڑی مہم چھیڑی گئی ہے ۔ سرینگر ضلع انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اب منشیات میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کے ساتھ ساتھ اس کاروبار میں استعمال کی گئی اور اس سے حاصل شدہ رقم سے خریدی گئی جائیداد بھی ضبط کی جائے گی۔ ضلع انتظامیہ سرینگر نے مشن واپسی کے تحت نہ منشیات کے خلاف بڑی مہم چھیڑی گئی ہے ۔ مہم کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد نے کہا کہ مشن واپسی لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس مشن کے دو حصے ہیں جسمیں میں نشہ کی کے میں پڑے نوجوانوں کو اس سے باہر نکالنے اور انکی باز آبادکاری کا مکمل پروگرام بنایا گیا ہے ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران محمد اعجاز اسد نے کہا کہ ہمیں نشے کی لت میں پھنسے نوجوانوں کی مدد کرنی ہے تاکہ انکی طبی امداد کے ذریعے پہلے انھیں اس کے سے باہر نکالنا ہےاور بعد میں مختلف سرکاری اسکیموں کے ذریعے ان کے روزگار کا انتظام کرنا ہے تاکہ یہ عزت کی زندگی گذار سکیں۔

    ایس ایس پی سرینگر راکیش بلوال نے کہا کہ منشیات کے اسمگلروں کے خلاف مہم میں شدت لائی گئی ہے ۔ انھوں نے اسمگلروں کے خلاف تازہ کاروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ابھی تک 40 افراد کے خلاف ان کیسوں میں ہی ایس اے لگایا گیا ہے۔ جب اس نمایندہ نے ایس ایس پی سرینگر سے پوچھا کہ حالیہ چھاپوں میں انھیں کس طرح کے شواہد ملے ہیں تو انھوں نے انکشاف کیا کہ ضلع انتظامیہ کو پچھلے ہفتہ کے دوران چھاپوں کے دوران اسمگلروں کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم شواہد ملے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں ایسے لوگوں کے بارے میں کچھ شواہد ملے ہیں جو ظاہری طور عام دکانیں چلاتے ہیں لیکن اندر ہی اندر ڈرگس کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔ ایس ایس پی نے کہا کہ شہر میں 80 فیصد چوریاں اور دیگر ایسے جرائم کے پیچھے بھی منشیات کا عنصر شامل ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ منشیات کی بڑی کھیپ برآمد کرنے اور اسمگلروں کی گرفتاریوں کے باوجود نشے کا کاروبار کیوں جاری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اب قانونی کاروائی چست کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف قوانین نافذ کرتے ہوئے اب نشے سے حاصل شدہ جائیداد بھی ضبط کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ چند دن کے اندر ہی سرینگر سے پاک کیا جائے گا۔ کشمیر میں غیر قانونی ڈرگس کا کاروبار تیزی سے پھیل گیا ہے۔ اس کو لیکر لوگ کافی پریشان ہے۔ ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر نے کہا کہ حالت ایسی ہےکہ نشے کی لت میں پڑے کئی نوجوانوں کے والدین ان سے رابطہ کرکے ان نوجوانوں کو جیل میں بند کرنے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ یہ ڈرگس سے دور رہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: