ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : انگریز تھم سے منسوب ضلع رامبن کی سب سے اونچی چوٹی کے پیچھے آخر کیا ہے راز ؟

تحصیل کھڑی سے تعلق رکھنے والے سرگرم سماجی کارکن عبدالرحیم بٹ کے مطابق گزشتہ سو سال سے زائد عرصہ سے مقامی بزرگوں سے اس انگریز تھم (Pillar) کے بارے میں کئی کہانیاں ہم تک پہنچی ہیں اور تحصیل کھڑی کے کئی مقامی نوجوانوں نے سخت مہم جوئی کے بعد اس پہاڑی پر چڑھ کر اس انگریز تھم اور اس اونچائی کی تصویروں کو مقامی سطح پر سوشل میڈیا پر ڈال کر لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : انگریز تھم سے منسوب ضلع رامبن کی سب سے اونچی چوٹی کے پیچھے آخر کیا ہے راز ؟
جموں و کشمیر : انگریز تھم سے منسوب ضلع رامبن کی سب سے اونچی چوٹی کے پیچھے آخر کیا ہے راز ؟

رامبن : ضلع کی  اس  سب سے اونچی چوٹی پر کسی انگریز کی طرف سے کم و بیش ایک صدی پہلے پرخطر پہاڑی راستے طے کرکے  دو تین فٹ اونچے اور پانچ چھ فٹ چوڑے چبوترہ نما انگریز تھم (تھم کشمیری میں ستون کو کہتے ہیں )  کو سیمنٹ ,پتھر اور چونا مٹی سے  تعمیر کرنے والے مہم جو انگریز کا ضرور کوئی نہ کوئی مقصد رہا ہوگا  اور اس مہم جوئی کے پیچھے کوئی معمہ چھپا ہوا ہے اور یہ مہم جوئی بلاوجہ بھی نہیں ہوسکتی  ۔ ضلع رامبن کی سب سے اونچی چوٹی پر پہنچنے کیلئے بہت سارے لوگ جارہے ہیں ۔تحصیل کھڑی سے تعلق رکھنے والے سرگرم سماجی کارکن عبدالرحیم بٹ کے مطابق گزشتہ سو  سال سے زائد عرصہ سے مقامی بزرگوں سے اس انگریز تھم (Pillar) کے بارے میں کئی کہانیاں ہم تک پہنچی ہیں اور تحصیل کھڑی کے کئی مقامی نوجوانوں نے سخت مہم جوئی کے بعد اس پہاڑی پر چڑھ کر اس انگریز تھم اور اس اونچائی کی تصویروں کو مقامی سطح پر سوشل میڈیا پر ڈال کر لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔


انہوں نے کہا کہ اس چوٹی کے آس پاس سال میں دس مہینوں تک برف رہتی ہے  ۔ کھڑی کے مقامی لوگوں کے مطابق انگریز تھم یا ستون حلقہ انتخاب بانہال اور حلقہ انتخاب گول کی اونچی پہاڑیوں کے درمیان تحصیل کھڑی کی حدود میں پتھالن اور ریلہ آڑ کے اوپر واقع ہے اور تقریبا ایک صدی سے بتایا جاتا ہے کہ کسی مہم جو انگریز نے اس پہاڑی کو سر کرنے کے بعد وہاں سیمنٹ کا ایک گول چبوترہ بنایا تھا اور اس میں بظاہر لگایا گیا تھم یا ستون موسم کے تھپیڑوں اور آسمانی بجلی کی وجہ سے اب موجود نہیں ہے ۔ تاہم سیمنٹ ،پتھر اور چونے سے تعمیر چبوترہ کے باقیات ابھی بھی بہتر حالت میں موجود ییں  ۔ اس پہاڑی پر کم و بیش ایک سو سال پہلے  سیمنٹ اور چونا استمال کرکے اس مہم جُو انگریز کی کوئی اور کہانی اور مقصد اس مہم جوئی اور اس ستوں کے پیچھے چھپی دکھائی دیتی ہے  ۔


اس چوٹی کے آس پاس سال میں دس مہینوں تک برف رہتی ہے  ۔
اس چوٹی کے آس پاس سال میں دس مہینوں تک برف رہتی ہے ۔


کئی لوگوں نے نیوز 18 کو بتایا کہ اس چوٹی پر اس تھم کو بنانے والے انگریز کے حکم پر کھڑی میں پائی جانے والی ہر چیز خواہ  مرغا اور  انڈے ہی کیوں نہ ہوں اس انگریز تک پہنچائے جاتے تھے اور یہ کہانی دہائیوں سے بزرگوں کی زبان سے موجودہ نسل تک منتقل ہوتی آرہی  ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ کے کئی افراد چالیس پچاس سال پہلے انگریز تھم تک پہنچ گئے تھے لیکن فوٹو ویڈیو کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے اس کی تصاویر نہیں لے سکے تھے ۔ تاہم اب اس کے فوٹو سوشل میڈیا پر مقامی مہم جو لوگوں نے ڈالے ہیں ۔  بانہال علاقہ سے تعلق رکھنے والے بہار احمد نائیک ساکن ناچلانہ گزشتہ سال دشوار گزار اور پہاڑی راستے کو عبور کرکے  اس انگریز تھم تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہنچے ۔ جبکہ چند روز پہلے مقامی نوجوانوں کا ایک گروپ بزلہ ، پتہالن اور ریلہ آڑ کی پہاڑیوں کے زریعہ اس چوٹی پر جاپہنچا اور انہوں نے وہاں کے فوٹو سوشل میڈیا پر  شیئر کئے ۔

بہار احمد نائیک نے بتایا کہ مہو پیک (Mahoo peak) کے نام سے منسوب یہ چوٹی سطح سمندر سے  4992 میٹر کی اونچائی پر واقع ہے اور اس اونچی پہاڑی سے کشمیر ، گول ، پتنی ٹاپ وغیرہ کی پہاڑیوں اور آبادیوں کو صاف دیکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کھڑی کے کاؤنہ سے بزلہ اور ریلہ آڑ کے راستے انگریز تھم کی چوٹی پر پہنچنے کیلئے کم از کم سات گھنٹے لگتے ہیں اور وہاں کا منظر دلکش ہے اور پتنی ٹاپ اور گول کے علاؤہ وادی کشمیر کے کئی پہاڑی سلسلے دیکھے جاسکتے ہیں اور یہ مہم جوئی کیلئے اچھی چوٹی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 11, 2020 08:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading