உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر: بینک میں 800 کروڑ کا Loan Scandal، بینک کے سابق چیئرمین سمیت دیگر 18 کیخلاف مقدمہ درج

    loan scandal of Rs 800 crore: ۔ اینٹی کرپشن بیورو کی ابتدائی انکوائری کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ یہ حیران کن ہے کہ ان کیسز میں بینک کی جانب سے کوئی ٹھوس سیکیورٹی نہیں لی گئی۔

    loan scandal of Rs 800 crore: ۔ اینٹی کرپشن بیورو کی ابتدائی انکوائری کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ یہ حیران کن ہے کہ ان کیسز میں بینک کی جانب سے کوئی ٹھوس سیکیورٹی نہیں لی گئی۔

    loan scandal of Rs 800 crore: ۔ اینٹی کرپشن بیورو کی ابتدائی انکوائری کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ یہ حیران کن ہے کہ ان کیسز میں بینک کی جانب سے کوئی ٹھوس سیکیورٹی نہیں لی گئی۔

    • Share this:
    سی بی آئی نے جموں و کشمیر بینک کے سابق چیئرمین مشتاق احمد شیخ اور دیگر 18کے خلاف 800 کروڑ روپیے کے ایک لون گھوٹالے میں ایف آئی آر درج کی ہے یہ ایف آئی آر REI ایگرو کو 800 کروڑ روپے کا قرضہ رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر ٹھوس سیکورٹی کے اور جعلی دستاویزات پر جاری کرنے کے الزام میں درج کی گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق بینک کے  افسران کے علاوہ، سی بی آئی نے آر ای آئی ایگرو  کے چیئرمین سنجے جھنجھن والا، اور نائب صدر اور منیجنگ ڈائریکٹر سندیپ جھنجھن والا کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔

    حکام کے مطابق اس معاملے کی پہلے جموں و کشمیر کی انٹی کرپشن بیورو نے تفتیش کی تھی اور اس نے اپنی ابتدائی تفتیش کے دوران پایا تھا کہ 2011اور 2013کے درمیان جعلی دستاویزات کی بنیاد پر اور رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گروپ کو 800کروڑ روپے کے قرضے منظور کیے گئے تھے"۔ حکام کے مطابق بینک کی ممبئی میں واقع مہیم برانچ نے تمام تر قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھکر 550کروڑ روپے کے قرضے منظور کیے تھے جبکہ دہلی میں وسنت وہار برانچ نے سپلائر بل میں چھوٹ کی سہولت اور ٹیک اوور کے خلاف 139 کروڑ روپے کی منظوری دی تھی۔

    کہا جارہا ہے کہ ERI ایگرو نے بینک کی مہیم اور وسنت وہار شاخوں سے رابطہ کیا تھا تاکہ کسانوں کو بینک کے قرض کی منظوری کے حکم میں بیان کردہ شرائط و ضوابط کے مطابق ادائیگی کرنے کے لیے پیشگی منظوری دی جائے۔ اینٹی کرپشن بیورو کی ابتدائی انکوائری کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ یہ حیران کن ہے کہ ان کیسز میں بینک کی جانب سے کوئی ٹھوس سیکیورٹی نہیں لی گئی۔ "یہ قرضوں اور پیشگیوں کو مہم، ممبئی اور وسنت وہار، نئی دہلی میں جے اینڈ کے بینک کی شاخ کے عہدیداروں نے اس وقت کے چیئرمین، جے اینڈ کے بینک، مشتاق احمد شیخ کی ملی بھگت اور سرپرستی میں ایک ہی سازش کے تحت منظور اور تقسیم کیا تھا۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ بند اور پہلے سے تیار کردہ طریقے سے بینک کے سرکاری ملازمین کے طور پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔

    Published by:Sana Naeem
    First published: