ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

بارہمولہ : برسوں سے گوداموں میں پڑے چاولوں سے اٹھنے والی بدبو سے وبائی امراض پھیلنے کا اندیشہ

چھٹی پورہ ہایگام علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گودام میں رکھے گئے چاولوں سے اٹھنے والی بدبو سے ابتک کئی لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اگر ضلع انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر ان گلے سڑے چاولوں کو یہاں سے نہیں ہٹایا ، تو علاقہ میں وبائی بیماری پھوٹنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

  • Share this:
بارہمولہ : برسوں سے گوداموں میں پڑے چاولوں سے اٹھنے والی بدبو سے وبائی امراض پھیلنے کا اندیشہ
بارہمولہ : برسوں سے گوداموں میں پڑے چاولوں سے اٹھنے والی بدبو سے وبائی امراض پھیلنے کا اندیشہ

سرکاری راشن گودام میں محکمہ امور صارفین اور عوامی تقسیم کاری کی جانب سے سوپور کے علاقہ میں گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ رکھے گئے چاولوں کے سڑ جانے سے پورے گاؤں میں بدبو پھیل گئی ہے ۔ چھٹی پورہ ہایگام علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گودام میں رکھے گئے چاولوں سے اٹھنے والی بدبو سے ابتک کئی لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اگر ضلع انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر ان گلے سڑے چاولوں کو یہاں سے نہیں ہٹایا ، تو علاقہ میں وبائی بیماری پھوٹنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔


لوگوں کے مطابق متعلقہ محکمہ نے آج سے سولہ برس قبل ہزاروں کوئنٹل چاول اس گودام میں جمع رکھے تھے ۔ تاکہ ان چاولوں کو عوام میں محکمہ کے مختلف مراکز پر تقسیم کیا جاسکے ۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ سولہ برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نہ ہی ان چاولوں کو یہاں سے منتقل کیا گیا اور نہ ہی اس بات کا پتہ چل سکا کہ آیا اناج کے اتنے بڑے ذخیرے کو یوں ہی سڑنے کیلئے کیوں چھوڑا گیا۔


گزشتہ برس شدید برفباری کی وجہ سے اس سرکاری گودام کی چھت بھی ڈھ گئی ، جس سے گودام میں رکھے ہوئے چاولوں کی حالت مزید خراب ہوگئی اور پورا گاوں اس سے اٹھنے والی بدبو سے متاثر ہو گیا ۔ لوگوں کا الزام ہے کہ انہوں نے کئی مرتبہ ڈپٹی کمشنر بارہمولہ اور متعلقہ محکمہ کے عہدیداروں کو اس سنگین معاملہ کی طرف توجہ دلانے کیلئے عرضیاں دیں ۔ تاہم کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس سنگین معاملہ کو لوگوں نے کئی بار پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی اچھالا ، جس میں انہوں نے اس سڑے ہوئے اناج کو یہاں سے کسی ایسی جگہ منتقل کرنے کی سرکار سے فریاد کی، جہاں اس سے انسانی جانوں کو کسی طرح کا خطرہ لاحق نہ ہو لیکن ابھی تک جوں کا توں پڑا ہوا ہے ۔


گزشتہ برس شدید برفباری کی وجہ سے اس سرکاری گودام کی چھت بھی ڈھ گئی ، جس سے گودام میں رکھے ہوئے چاولوں کی حالت مزید خراب ہوگئی اور پورا گاوں اس سے اٹھنے والی بدبو سے متاثر ہو گیا ۔
گزشتہ برس شدید برفباری کی وجہ سے اس سرکاری گودام کی چھت بھی ڈھ گئی ، جس سے گودام میں رکھے ہوئے چاولوں کی حالت مزید خراب ہوگئی اور پورا گاوں اس سے اٹھنے والی بدبو سے متاثر ہو گیا ۔


گودام کے عقب میں واقع پنچایت گھر میں چند روز قبل منعقدہ بیک ٹو ویلیج پروگرام کے دوران لوگوں نے اس پیچیدہ اور سنگین مسئلے کو سرکاری افسروں کے سامنے لایا ۔ تاہم وہ بھی لوگوں کو کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکے ۔ ایک سرکاری افسر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہاں کے لوگوں کو اس گودام میں رکھے بوسیدہ اناج سے اٹھنے والی بدبو کی وجہ سے کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تاہم انہوں نےاس بات کا یقین دلایا کہ وہ اس بارے میں ایک رپورٹ تیار کرکے متعلقہ حکام کو آگاہ کریں گے ۔

محکمہ فوڈ سپلائیز بارہمولہ کے ایک عہدیدار سے جب اس ضمن میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آج تک ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ نے ان گلے سڑے چاولوں کو موزوں جگہ ٹھکانے لگانے کیلئے کئی کمیٹیاں تشکیل دیں ، لیکن عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ جوں کا توں پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوپور قصبہ کے کرانکشون علاقہ میں بھی اسی طرح کا ایک گودام موجود ہے ، جہاں برسوں سے رکھے گئے چاول بوسیدہ ہونے کے سبب آس پاس کے لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 12, 2020 11:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading