ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

بارہمولہ : ٹنگمرگ میں غیرقانونی طور پر قبضہ کی گئی جنگلاتی زمین کو کیا گیا بازیاب

شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے قاضی پورہ ٹنگمرگ میں فاریسٹ ڈپارٹمنٹ ، پولیس اورسی آر پی ایف کی مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جنگلاتی زمین کو لوگوں کے قبضے سے بازیاب کرایا گیا ۔

  • Share this:
بارہمولہ : ٹنگمرگ میں غیرقانونی طور پر قبضہ کی گئی جنگلاتی زمین کو کیا گیا بازیاب
بارہمولہ : ٹنگمرگ میں غیرقانونی طور پر قبضہ کی گئی جنگلاتی زمین کو کیا گیا بازیاب

شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے قاضی پورہ ٹنگمرگ میں فاریسٹ ڈپارٹمنٹ ، پولیس اورسی آر پی ایف کی مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جنگلاتی زمین کو لوگوں کے قبضے سے بازیاب کرایا گیا ۔ ٹنگمرگ میں موجود مختلف مقامات پر لوگوں نے جنگلاتی اراضی پر ناجائز قبضہ جما چکے ہیں ۔ جنگلاتی اراضی کو لوگوں کے قبضے سے بازیاب کرنے کے لیے یہ اقدامات کئے گئے ۔ محکمہ جنگلات کی ٹیم جس میں فارسٹ پروٹیکشن کے اہلکار بھی شامل تھے ، نے جنگلات کی اراضی پرغیرقانونی طورپرلگائے گئے سینکڑوں کی تعداد میں درختوں کو کاٹا گیا ۔ ساتھ ہی اراضی پرلوگوں نے جو تاربندی کی تھی ، اسے بھی ہٹایا گیا ۔


رینج افسر مشتاق احمد نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ آج سے اس مہم کا آغاز کردیا گیا ہے ، آگے بھی یہ جاری رہے گی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گلمرگ اور ٹنگمرگ جہاں پربھی غیر قانونی طور پر جنگلات کی اراضی پر قبضہ کیا گیا ، اسے بازیاب کیا جائے گا ۔ رینج افسرنے کہا کہ قاضی پورہ میں گزشتہ تیس سالوں سے لوگوں نے جنگلات کی اراضی پرقبضہ کر رکھا تھا ۔


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج تک انہیں کئی بار قبضہ چھوڑنے کی نوٹس دے دی گئی ، لیکن اس کے باوجود بھی ان لوگوں کا ناجائز قبضہ جاری رہا ۔ ادھر کچھ لوگوں نے سرکار سے اپیل کی کہ یہ قانون ہرایک کیلئے مساوی ہونا چاہئے ۔ ان لوگوں نے الزام لگایا کہ ٹنگمرگ میں کچھ سیاست دانوں اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کی اراضی کے ساتھ کوئی چھیڑچھاڑ نہیں کی جارہی ہے ۔ انہوں نے ان لوگوں سے بھی جنگلاتی اور غیر قانونی اراضی کو بازیاب کیا جائے ۔


محکمہ جنگلات کی ٹیم جس میں فارسٹ پروٹیکشن کے اہلکار بھی شامل تھے ، نے جنگلات کی اراضی پرغیرقانونی طورپرلگائے گئے سینکڑوں کی تعداد میں درختوں کو کاٹا گیا ۔
محکمہ جنگلات کی ٹیم جس میں فارسٹ پروٹیکشن کے اہلکار بھی شامل تھے ، نے جنگلات کی اراضی پرغیرقانونی طورپرلگائے گئے سینکڑوں کی تعداد میں درختوں کو کاٹا گیا ۔


نیوز 18 اردو نے اس معاملہ سے متعلق رینج افسر گلمرگ مشتاق احمد سے پوچھا ، تو انہوں نے بتایا کہ کسی کو بخشا نہیں جائے گا اور ہرایک کیلئے مساوی قانون ہوگا ۔ سماجی کارکنوں اور کچھ ماہرین نے اس اقدام کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ اسے جنگلات کا تحفظ یقینی بن جائے گا۔ جنگلات میں جنگل اسمگلروں کی جانب سے آئے روز جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ تشویشناک بن چکا ہے ، اس پر بھی محکمہ جنگلات کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے ۔ سی آرپی ایف اور پولیس کی مدد اس لئے لی جاتی ہے کہ کھبی کھبار اس طرح کی کاروائی کے دوران لوگوں کی جانب سے مزاحمت ہوتی ہے ، اسی تناظر اور کارروائی کرنے والوں کے بچاؤ کیلئے سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے۔

ادھر چند روز پہلے بھی سیاحتی مقام گلمرگ میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ ہوٹل ہل ٹاپ کی جانب سے کیا گیا تھا ، اس اراضی پر ناجائز طریقہ سے بنائی گئی تعمیرات کو بھی انتظامیہ نے منہدم کردیا اور سرکاری اراضی کو بازیاب کیا گیا ۔ یہاں انتظامیہ نے اس اراضی کی نشاندہی بھی کی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 21, 2020 09:52 PM IST