ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیر میں بادام کے خوبصورت شگوفے کھلے، محکمہ سیاحت نے بادام واری کے دلکش منظر کو عام لوگوں کیلئے کھولنے کا کیا فیصلہ

سرینگر (Srinagar) کے کوہ ماران کے دامن میں واقع بادام واری (Badamwari) میں بادام کے شگوفے پوری طرح سے کھل چکے ہیں جس سے یہ پورا باغ خوبصورت اور دلکش نظر آ رہا ہے۔ محکمہ سیاحت نے بادام واری کو عام لوگوں کے لئے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • Share this:
وادی کشمیر میں بادام کے خوبصورت شگوفے کھلے، محکمہ سیاحت نے بادام واری کے دلکش منظر کو عام لوگوں کیلئے کھولنے کا کیا فیصلہ
محکمہ سیاحت نے بادام واری کو عام لوگوں کے لئے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جموں۔کشمیر: کشمیر وادی (Kashmir) میں موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی چاہار سو رنگین و دلکش مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ سرینگر (Srinagar) کے کوہ ماران کے دامن میں واقع بادام واری (Badamwari) میں بادام کے شگوفے پوری طرح سے کھل چکے ہیں جس سے یہ پورا باغ خوبصورت اور  دلکش  نظر آ رہا ہے۔ محکمہ سیاحت نے بادام واری کو عام لوگوں کے لئے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے اکیس مارچ (21st March) کی تاریخ طے کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بادام واری میں 20th March ہفتے کی شام کو موسیقی کا ایک پروگرام منعقد کیا جارہا ہے۔ دو گھنٹہ طویل اس پروگرام میں وادی کے معروف گلوکار خوبصورت اور دلکش مناظر کے بیچ اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ محکمہ سیاحت کے کشمیر صوبے کے ڈائیریکٹر ڈاکٹر جی این ایتو نے نیوز ایٹین اردو کو بتایا کہ ہر ایک شخص اس پروگرام میں شرکت کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام چار بجے سے چھ بجے تک جاری رہنے والے دو گھنٹے کے اس پروگرام میں سرینگر میں موجود سیاحوں اور عام لوگوں کے شریک ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیقی کے علاوہ محکمہ سیاحت کی جانب سے کشمیری قہوہ اور نمکین چائے، شیر مال اور دوسری کشمیری بیکری اشیا کے اسٹال بھی لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد وادی میں اسپرنگ ٹورزم (spring tourism) کو مناسب تشہیر فراہم کرنا ہے۔ ڈاکٹر ایتو نے بتایا کہ محکمہ سیاحت آنے والے دنوں میں کئی اور ایسے پروگرام منعقد کر رہا ہے جن سے کشمیر کے سیاحتی مقامات کی ملکی اور غیر ملکی سطح پرتشہیر کی جائے گی۔



انہوں نے کہا کہ پچیس مارچ کو سرینگر میں واقع باغ گُل لالہ بھی عام لوگون کے لئے کھولا جارہا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس سال کافی تعداد میں سیاح گُل لالہ باغ کی سیر کرنے کے لئے وارد کشمیر ہونگے۔ ڈاکٹر جی این ایتو نے کہا کہ Pilgrimage Tourism کو بڑھاوا دینے کے لئے بھی محکمہ سیاحت کی طرف سے کئی قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت رواں سال امرناتھ جی یاترا پر آنے والے یاتریوں کو رجسٹریشن کے موقع پر ایک اوپشن دیا جائے گا۔ آیا وہ یاترا مکمل کرنے کے بعد وادی کے سیاحتی مقامات کی سیر کرنے کی چاہت رکھتے ہیں۔ کسی بھی فرد یا گروپ کی طرف سے مثبت جواب ملنے پر انہیں مناسب قیمتوں پر ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔


واضح رہے کہ کووڈ کی وجہ سے گزشتہ برس کافی کم تعداد میں سیاحوں نے وادی کا رُخ کیا تھا تاہم حالات میں بہتری آنے کے ساتھ ہی دسمبر مہینہ شروع ہوتے ہی ملک کے کئی حصوں سے سیاح وادی کشمیر آئے۔ اگرچہ پہلے پہل زیادہ تر سیاح گُلمرگ میں ہی دیکھے گئے تاہم پچھلے دو ماہ سے سیاحون نے گُلمرگ کے علاوہ پہلگام اور سرینگر کا بھی رُخ کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر سے لے کر اب تک لگ بھگ 70 ہزار سیاح (tourists) وادی کشمیر کی سیر کر چکے ہیں۔ محکمہ سیاحت کو امید ہے کہ یہ مثبت رجحان مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور اس سال موسم بہار اور موسم گرما کے دوران کافی تعداد میں سیاح وادی کشمیر کی سیاحت پر آئیں گے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 19, 2021 05:05 PM IST