உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کے گھسنے کا خدشہ، انٹرنیٹ - موبائل بند، دو دن سے دراندازوں کی تلاش کر رہی ہے فوج

    کشمیر میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کے گھسنے کا خدشہ، انٹرنیٹ - موبائل بند

    کشمیر میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کے گھسنے کا خدشہ، انٹرنیٹ - موبائل بند

    Jammu and Kashmir: رپورٹ کے مطابق، پاکستان سے 6 دہشت گرد دراندازی کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے دوران فائرنگ میں ایک فوجی بھی زخمی ہوگیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر: ہندوستانی فوج (Indian Army) نے پیر کو کہا کہ جموں وکشمیر (Jammu and Kashmir) میں ایک بڑی تلاشی مہم (Search Operation) چلائی جارہی ہے۔ افسران نے خدشہ ظاہر کیا کہ دہشت گردوں کے ذریعہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر حال کے برسوں کی سب سے بڑی دراندازی ہوئی ہے، جسے ناکام کرنے کے لئے مسلسل دوسرے دن تلاشی مہم چلائی گئی۔ مشتبہ سرگرمیوں کا پتہ چلانے کے پیش نظر فوج کی جاری تلاشی مہم میں مدد کے لئے پیر کو بارہمولہ کے اری سیکٹر میں موبائل، ٹیلیفون اور انٹرنیٹ خدمات (Internet Services) بند کردی گئیں۔ فوج کو 18 اور 19 ستمبر کی درمیانی شب کو اری سیکٹر میں ایل او سی کے پاس ’مشتبہ سرگرمیوں‘ کا پتہ چلا تھا، جس کے بعد علاقے میں ایک مہم شروع کی گئی تھی۔

      واضح رہے کہ اسی دن اری اٹیک کو پانچ سال پورے ہوئے ہیں، اری حملے میں 19 جوان شہید ہوگئے تھے۔ اس حملے کو 18 ستمبر 2016 کے دن اری میں فوجی ادارے کو نشانہ بناکر دو خودکش حملہ آوروں نے انجام دیا تھا۔ اری حملہ کے جواب میں ہندوستان نے سرجیکل اسٹرائیک کی اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار جاکر کئی سارے دہشت گردانہ ٹھکانوں کو تباہ کردیئے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان سے 6 دہشت گرد دراندازی کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے دوران فائرنگ میں ایک فوجی بھی زخمی ہوگیا ہے۔

      فوج نے کہا کہ دراندازوں کو پکڑنے کے لئے تلاشی مہم جاری ہے۔ حالانکہ زمینی حالات ابھی واضح نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ پہلی بار نہیں ہے، جب سرحد پار سے دراندازی کو دیکھتے ہوئے موبائل اور انٹرنیٹ خدمات بند کی گئی ہوں۔ فائل فوٹو
      فوج نے کہا کہ دراندازوں کو پکڑنے کے لئے تلاشی مہم جاری ہے۔ حالانکہ زمینی حالات ابھی واضح نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ پہلی بار نہیں ہے، جب سرحد پار سے دراندازی کو دیکھتے ہوئے موبائل اور انٹرنیٹ خدمات بند کی گئی ہوں۔ فائل فوٹو


      فوج نے کہا کہ دراندازوں کو پکڑنے کے لئے تلاشی مہم جاری ہے۔ حالانکہ زمینی حالات ابھی واضح نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ پہلی بار نہیں ہے، جب سرحد پار سے دراندازی کو دیکھتے ہوئے موبائل اور انٹرنیٹ خدمات بند کی گئی ہوں۔ فوج نے کہا کہ فروری میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیز فائر معاہدے کے بعد بڑے پیمانے پر دراندازی کا یہ دوسرا معاملہ ہے۔

      آرمی نے کہا کہ اس کے بعد سے سیزفائر خلاف ورزی کا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تھا اور نہ ہی پاکستان کی طرف سے کوئی اکسانے والی کارروائی کی گئی تھی۔ 15 ویں کور کے جنرل کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا، ’اس سال سیز فائر کا کوئی حادثہ نہیں ہوا ہے، لیکن ہم سیز فائر خلاف ورزی کی کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ سرحد پار سے اکسانے والی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اری میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے زیادہ وقت سے تلاشی مہم چلائی جارہی ہے، جس میں ہم نے پایا ہے کہ دہشت گردوں کی طرف سے دراندازی ہوئی ہے۔ ہم انہیں تلاش کر رہے ہیں۔ کیا وہ ہماری سرحد میں ہیں یا دراندازی کرنے کے بعد واپس لوٹ گئے۔ یہ صورتحال ابھی واضح نہیں ہے‘۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: