உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: پلوامہ میں سیکورٹی فورسیز نے وقت پرکارروائی کرکے ایک بڑے حادثےکو ٹال دیا

    جموں وکشمیر کے پلوامہ ضلع میں سیکورٹی فورسیز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پٹاخوں سے لدی پانچ کلو وزنی گیس سلنڈر کے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا۔

    جموں وکشمیر کے پلوامہ ضلع میں سیکورٹی فورسیز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پٹاخوں سے لدی پانچ کلو وزنی گیس سلنڈر کے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا۔

    جموں وکشمیر کے پلوامہ ضلع میں سیکورٹی فورسیز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پٹاخوں سے لدی پانچ کلو وزنی گیس سلنڈر کے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا۔

    • Share this:
    پلوامہ: جموں وکشمیر کے پلوامہ ضلع میں سیکورٹی فورسیز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پٹاخوں سے لدی پانچ کلو وزنی گیس سلنڈر کے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق سیکورٹی فورسیز کو کچھ افراد نے آج اطلاع دی کہ پلوامہ ضلع کے چودھری باغ لیتر روڈ پر مشکوک شے ہے، جس کے بعد فوج کی 55 راشٹریہ رائفلزاور سی آر پی ایف کی 182 بٹالین کے علاوہ جموں وکشمیر پولیس کی ٹیمیں جائے واقعہ پر پہنچی اور پورے علاقے کو اپنے محاصرے میں لیا۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت امرناتھ جی یاتریوں کے لئے مفت وائی فائی کا انتظام

    سیکورٹی فورسیز کی مشترکہ ٹیم نے اس دوران پٹاخوں سے لیس 5 کلو گرام کےگیس سلنڈرکو پایا، جس کے بعد سیکورٹی فورسیز نے جموں وکشمیر پولیس کے خصوصی بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا۔ اسکواڈ نے گیس سلنڈر کا پورا جائزہ لیتے ہوئے اسے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا۔

    سیکورٹی فورسیزکے مطابق، عام لوگوں کی جانب سے اطلاع فراہم کرنے کے بعد پلوامہ پولیس نے 55 آر آر اور سی آرپی ایف کے ساتھ مل کر گیس سلنڈر برآمدکیا، جس کا وزن تقریباً 5 کلو گرام وزنی پٹاخوں سے لیس تھا، جسے نقصان پہنچانے کے لئے چودھری باغ لیٹر روڈ پرنصب کیا گیا تھا۔ سیکورٹی فورسیز نے بم ڈسپوزل  اسکواڈ کو طلب کیا، جن کی مدد سے پٹاخوں سے لیس گیس سلینڈر کو تباہ کردیا گیا اور ایک ممکنہ بڑے حادثے کو ٹال دیا گیا۔ یہ دھماکہ خیز مواد اس وقت پر نصب کیا گیا تھا، جب لوگ عید کی خوشیوں میں مصروف تھے۔ تاہم فورسیز نے اس حادثے کو وقت سے پہلے ہی ٹال دیا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: