உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی میں بگڑتی صورتحال پر آج دہلی میں بڑی میٹنگ ، ٹارگیٹ کلنگ پر بنائی جائے گی حکمت عملی

    Youtube Video

    دہشت گرد تنظیم '(The Resistance Front) نے جموں و کشمیر میں ہندوؤں اور سکھوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کو تیز کر دیا ہے۔ رواں ہفتے حملوں میں اب تک 7 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی. پچھلے ایک ہفتے میں جموں و کشمیر میں جس طرح ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں اس کے پیش نظر مرکزی حکومت نے اسنچیر کو دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کی صدارت میں ہونے والی اس میٹنگ میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا بھی موجود ہوں گے۔ میٹنگ میں جموں و کشمیر کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دہشت گرد تنظیم ٹی آر ایف  '(The Resistance Front) نے جموں و کشمیر میں ہندوؤں اور سکھوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کو تیز کر دیا ہے۔ رواں ہفتے حملوں میں اب تک 7 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

      بتادیں کہ جموں۔ کشمیر میں گزشتہ کئی دنوں سے جس طرح سے پانچ عام شہریوں کو  نشانہ بنایا جا رہا ہے  اس کے پیش نظر ، ایل جی انتظامیہ کی جانب سے تیار کی گئی حکمت عملی پر میٹنگ میں غور کیا جائے گا۔ بتادیں کہ یہ میٹنگ وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورہ گجرات سے واپس آتے ہی بلائی گئی ہے۔ ذرائع سے موصولہ خبروں کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور ہوم سکریٹری اجے بھلہ بھی اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ اس کے ساتھ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران اور جموں و کشمیر انتظامیہ بھی موجود ہوں گی۔

      کشمیر میں گزشتہ دو دنوں میں پانچ شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ رواں ہفتے اب تک 7 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سات  میں سے چار کا تعلق اقلیت ہندو اور سکھ برادریوں سے تھا۔ ان میں سے چھ اموات سرینگر میں ہوئی ہیں۔  سرینگر کے عیدگاہ میں واقع گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول کی پرنسپل ، سپیندر کور اور دیپک چند کو جمعرات کی صبح تقریبا: 11:15 بجے اسکول کے احاطے میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

      دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا فرنٹ
      دہشت گرد تنظیم ٹی آر ایف  TRF  کو پاکستان کی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا مانا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں میں ٹی آر ایف کے اوور گراؤنڈ ورکرز مکمل طور پر مرکزی کیڈر میں تبدیل ہو چکے ہیں اور لوگوں کو نشانہ بنا کر اور قتل کر رہے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: