உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : بڈگام ضلع میں ہے ایک انوکھا قدیم چشمہ ، نہانے اور پانی پینے سے کئی امراض ہوتے ہیں دور!

    جموں و کشمیر : بڈگام ضلع میں ہے ایک انوکھا قدیم چشمہ ، نہانے اور پانی پینے سے کئی امراض ہوتے ہیں دور!

    جموں و کشمیر : بڈگام ضلع میں ہے ایک انوکھا قدیم چشمہ ، نہانے اور پانی پینے سے کئی امراض ہوتے ہیں دور!

    Jammu and Kashmir News : چشمے کے ساتھ صدیوں سے وابستہ عقیدت اور واقعات کے مطابق اس کے پانی سے نہانے سے جلد کی بیماریاں اور جوڑوں کا درد سمیت دیگر بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں ۔ چشمہ سے متصل علمدار کشمیر کا آستانہ بھی بناہوا ہے اور اس کے متصل ایک مسجد بھی ہے ۔ اس چشمہ کا انتظام اور خیال یہاں کے مقامی لوگ ہی رکھتے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    بڈگام : ضلع بڈگام کےکھاگ کھئی پورہ میں ایک ایسا چشمہ موجود ہے جو جلد اور دیگر امراض سے شفا کا ذریعہ بنا ہوا ہے ۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے علاوہ دوسری ریاستوں کے لوگ جو جلد کے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں ، وہ یہاں آکراس چشمے کے پانی سے نہا کر اور پانی استعمال کرکے شفایاب ہوتے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ آج سے سات سو سال قبل علمدار کشمیر شیخ نورالدین نورانی نے اس مقام پر قیام کیا تھا اور جب انہوں نے یہاں پانی کا کوئی ذریعہ نہیں دیکھا ، تو انہوں نے زمین کو سراخ کیا ، جس کے بعد یہاں چشمہ رواں ہوگیا ۔ اس چشمے کے ساتھ صدیوں سے وابستہ عقیدت اور واقعات کے مطابق اس کے پانی سے نہانے سے جلد کی بیماریاں اور جوڑوں کا درد سمیت دیگر بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں ۔

    چشمہ سے متصل علمدار کشمیر کا آستانہ بھی بناہوا ہے اور اس کے متصل ایک مسجد بھی ہے ۔ اس چشمہ کا انتظام اور خیال یہاں کے مقامی لوگ ہی رکھتے ہیں ۔ بشیر احمد نامی مقامی نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ وہ اس چشمہ کی دیکھ ریکھ کررہے ہیں ۔ اس چشمہ کا پانی اگرچہ سلفر کی خوشبو دیتا ہے ، اس لئے عام لوگوں کے لئے اس چشمے کا پانی پینا دشوار ہوجاتا ہے ، لیکن یہاں کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اس چشمے کا پانی پینے سے کمر درد اور دیگر انفیکشن و الرجی سے صحتیاب ہوتے ہیں ۔ جلد کی بیماریوں میں مبتلا مریض ہر روز یہاں اس چشمے پر آکر نہاتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا پانی اپنے گھروں کو بھی لے جاتے ہیں ۔ چشمے کے قریب نہانے کے لیے غسل خانے بھی بنے ہیں ، جہاں علاج کی غرض سے لوگ آکر نہاتے ہیں ۔

    محمد عارف نامی ایک مریض نے نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سنا تھا کہ چشمے کے پانی کے نہانے سے جلد کی بیماریاں دور ہوتی ہیں ، تو اسی سلسلے میں وہ خان صاحب علاقہ سے یہاں آئے ہیں ۔ تاکہ وہ یہاں نہا کر اپنی بیماریوں کو دور کرسکیں ۔ ان چشموں کے پانیوں میں شامل سلفر جِلد کے امراض کی شفا کا باعث بنتی ہے ۔ جرنل آف ایجوکیشن اینڈ ہیلتھ پروموشن میں شائع ہونے والی ایرانی محقق محمد مہدی پارویزی کی ایک تحقیق کے مطابق انسانی جِلد کے سیل کی اوپری تہہ ایپی ڈرمس میں سلفر اور آکسیجن کے تعامل سے جو ہائیدروجن سلفائیڈ تیار ہوتا ہے ، وہ بعد ازاں پینٹوتھینک ایسڈ یا وٹامن بی فائیو میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کسی چشمے کے پانی میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگس سرگرمی اسی پینٹو تھینک ایسڈ کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ یہ پانی الرجی، کیل مہاسوں کے علاج ، ٹانگوں کے السر اور ایسے امراض کے علاج میں معاونت کرتا ہے ۔

    وادی کشمیر کے ماہر امراض ڈاکٹر اور دیگر ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ وادی میں موجود ایسے چشمے جن سے نکلنے والے پانی میں نمکیات اور سلفر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ، وہ جلد اور دیگر بیماریوں کے علاج میں شفا کا باعث بنتی ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج بارہمولہ کے اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ امراض جلد ڈاکٹر پرویز انور راتھر نے نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ایسے چشمے موجود ہیں ، جن میں سے سلفر نکلتا ہے ، جو جلد کی بیماری کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے چشمے ہیں ، جن میں لوگ نہانے سے کچھ حد تک ٹھیک ہوتے ہیں ۔

    گورنمنٹ ڈگری کالج پلوامہ کے شعبہ جیالوجی کے صدر ڈاکٹر حمیدالله وانی نے بتایا کہ ایسے چشموں سے جلد کی بیماریوں کا علاج کچھ حد ہوسکتا ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ قبل از وقت کہنا مشکل ہے کہ مکمل بیماری کا علاج سلفر کا چشمہ ہیں ۔ آب شفاء کا یہ دیدہ زیب مقام درد کی دوا کے لئے توجہ کا مرکز ہے ، مگر اب امید پیدا ہوگئی ہے کہ اس مقام کی سیاحتی اہمیت میں بھی اضافہ ہو جائے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: