உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: بڈگام میں توسہ میدان سرسبز و شاداب، لوگوں کے دلوں کو لبھانے اور مشہور سیاحتی مقام

    جموں وکشمیر: بڈگام میں توسہ میدان سرسبز و شاداب، لوگوں کے دلوں کو لبھانے اور مشہور سیاحتی مقام

    جموں وکشمیر: بڈگام میں توسہ میدان سرسبز و شاداب، لوگوں کے دلوں کو لبھانے اور مشہور سیاحتی مقام

    وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے کھاگ میں وسیع وعریض میدان توسہ میدان ایک سرسبز و شاداب، لوگوں کے دل لبھانے اور مشہور سیاحتی مقام ہے۔ توسہ میدان کو سیاحتی نقشے پرلانے کے سلسلے میں محکمہ سیاحت کشمیر اور ضلع انتظامیہ بڈگام کے باہمی اشتراک سے توسہ میدان فیسٹول کا اہتمام کیا گیا۔

    • Share this:
    بڈگام: کشمیر کے مختلف سیاحتی مقامات کی طرح وسطی ضلع بڈگام کے دوردراز علاقہ کھاگ میں وسیع وعریض میدان توسہ میدان ایک سرسبز و شاداب، لوگوں کے دل لْبھانے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ توسہ میدان کو فارسی زبان میں تو شاہ میدان کہتے تھے یعنی تمام میدانوں کا بادشاہ۔ اگر توسہ میدان کی سیر کی جائے تو لگتا ہے کہ توسہ میدان واقعتامیدانوں کا بادشاہ ہے کیونکہ یہ اتنا وسیع وعریض ہے۔ سرسبز پہاڑوں کے بیچ یہ میدان قدرتی حْسن کی رعنائیوں کی داستان خود بیان کر رہا ہے۔ یہ جگہ باقی سیاحتی مقامات کی طرح ماحولیاتی آلودگی سے صاف وپاک  ہے۔ اس جگہ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئےسرکار باقی سیاحتی مقامات کی طرح سیاحتی نقشے پر لانے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ اسی ضمن میں محکمہ سیاحت کشمیر اور ضلع انتظامیہ بڈگام کے باہمی اشتراک سے توسہ میدان فیسٹول کا اہتمام کیا گیا۔

    اس فیسٹول میں محکمہ سیاحت کشمیر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جی این یتو، ڈی سی بڈگام شہباز مرزا اور دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔ ڈاکٹر یتوں نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس جگہ کو سیاحوں کے جاذب نظر بنایاجائے گا۔ یتو نے کہا کہ ''گرچہ توسہ میدان پہلے ہی ٹیورزم نقشے پر ہے اور یہاں ٹیورزم کی صلاحیت ہے ابھی اس کی تشہیر نہیں ہوئی ہے۔جتنی یہاں سیاحتی خوبصورتی ہے۔توسہ میدان ایڈونچر ٹیورزم اور اسکنگ کے لیے بہت ہی اچھاہے۔ جی این یتو نے مزید کہاکہ آج ہم نے ٹیور اینڈ ٹراول سے وابستہ لوگوں کو بھی یہاں آنے کی دعوت دی جو ٹیورزم کے حوالے سے اس جگہ کی تشہیر کرنے میں مدد کریں گے۔ یتو نے کہاکہ انہیں امید ہے کہ اس فیسٹول سے توسہ میدان کو وسعت ملے گی۔ اور آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ یتو نے کہاکہ کشمیر میں جہاں جہاں یہ فیسٹول منعقد کئے جاتے ہیں یہ اس مقصد سے ان مقامات پر کئے جاتے ہیں تاکہ نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوگا۔

    ایل جی منوج سنہا نے دی ہے یہ ہدایت

    ڈائیریکٹر یتو نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی بھی ہدایت ہے کہ یوسمرگ ،دودھ پتھری ،سونہ مرگ اور توسہ میدان میں اس بار ونٹر اسپورٹس کے پروگرام کئے جائیں۔ پہلگام اور گلمرگ کے علاوہ ان جگہوں پر بھی یہ سرگرمیاں کئے جائیں ۔توسہ میدان سرمائی کھیلوں کیلئے بھی یہ جگہ کافی موزون ہے کیونکہ یہاں باقی علاقوں سے برف نسبتاً زیادہ گرتی ہے۔ کوہ پیماؤں کیلئے بھی یہ جگہ کافی دلچسپ مانی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کاکہناہےکہ اگر توسہ میدان کو باقی سیاحتی مقامات کی طرح سیاحتی نقشے پر لایا جائے تو اس علاقے کے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوجائے گا۔

    یتو نے کہاکہ نوجوانوں کو سیاحت سے جڑنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔توسہ میدان ڈیولپمنٹ فورم کے چیف پیٹرن شیخ غلام محی الدین نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ'' میں کیا بتاؤں کہ مجھے کتنی خوشی ہے اگر میرا سینہ چیر دیاجائے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کتنی خوشی ہوئی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب توسہ میدان کی ڈیولپمنٹ کے لئے سرکار نے کام شروع کیاہے۔ غلام محی الدین نے محکمہ سیاحت اور سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ یہاں سیاحوں کے رہنے کا انتظام کیاجائے تاکہ یہاں سیاح آئیں اور عام لوگوں کو روزگار حاصل ہوگا۔توسہ میدان سے متعلق کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ توسہ میدان سے ہوتے ہوئے پونچھ اور راجوری پہنچ جاتے تھے اور واپس آتے تھے اور توسہ میدان میں کئی دن تک ٹھہرتے تھے۔

    مشہور و معروف ولی کامل شیخ نورالدین نورانیؒ بھی کئی بار توسہ میدان میں سکونت پذیر ہوئے ہیں اور جس جگہ پر آپؒ تشریف آور ہورہے تھے اس جگہ کو عَلم کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہاں ایک مسجد شریف بھی تعمیر کی گئی ہے۔  اگر چہ کئی سال پہلے گورنمنٹ نے اس علاقے کو سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے اس کو ایکو ٹورزم کا درجہ دیا تھا مگر بعد میں سرکار کی عدم دلچسپی اور عدم توجہی کے باعث توسہ میدان زیادہ تر چرواہوں تک ہی محدود رہا ہے تاہم آج اس کی جانب سرکار سنجیدہ نظر آتی ہے۔ قدرت کا یہ شاہکار،یہاں کی خوبصورت وادیاں اورآبگاہیں سرکاری توجہ اورسیاحوں کے منتظر ہے۔


    قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں.


    Published by:Nisar Ahmad
    First published: