உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندستان اور پاکستان کے درمیان Ceasefire معاہدے کا ایک سال مکمل، رہائش پذیر عوام میں خوشی

    جموں خطے میں کٹھوعہ ضلع سے لے کر راجوری اور پونچھ اضلاع تک سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی سمجھوتے پر عمل آوری آئندہ برسوں میں بھی جاری رہے تاکہ عوام پرُسکون ماحول میں اپنی زندگی بسر کرسکیں ۔

    جموں خطے میں کٹھوعہ ضلع سے لے کر راجوری اور پونچھ اضلاع تک سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی سمجھوتے پر عمل آوری آئندہ برسوں میں بھی جاری رہے تاکہ عوام پرُسکون ماحول میں اپنی زندگی بسر کرسکیں ۔

    جموں خطے میں کٹھوعہ ضلع سے لے کر راجوری اور پونچھ اضلاع تک سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی سمجھوتے پر عمل آوری آئندہ برسوں میں بھی جاری رہے تاکہ عوام پرُسکون ماحول میں اپنی زندگی بسر کرسکیں ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: ہندستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بند ی معاہدے کا ایک سال پورا ہونے پر جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن اور بین الا اقوامی سرحد سے متصل علاقوں میں رہائش پذیر عوام خوش ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین جنگ بندی معاہدے پر عمل آوری سے انہیں راحت نصیب ہوئی ہے کیونکہ فائیرنگ بند ہو جانے کی وجہ سے وہ اب اپنا روزمرہ کا کام کاج بلا کسی خوف و خطر کے انجام دے پارہے ہیں ۔ جموں خطے میں کٹھوعہ ضلع سے لے کر راجوری اور پونچھ اضلاع تک سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی سمجھوتے پر عمل آوری آئندہ برسوں میں بھی جاری رہے تاکہ عوام پرُسکون ماحول میں اپنی زندگی بسر کرسکیں ۔ کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر سیکٹر میں زیرو لائن کے بلکل قریب آباد گائوں پانسر منیاریکے باشندے لعل حُسین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے قبل پکستان کی بلا اشتعیال گولہ باری سے علاقے کے لوگوں کو گوناں گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمارے گائوں میں آباد لوگ ہمیشہ خوف زدہ رہتے تھے کیونکہ پاکستان کی جانب سے اکثر اوقات بلا اشتعیال گولہ باری کی جاتی تھی جسکے باعث لوگ اپنے گھروں میں ہی سہم کر رہ جاتے تھے۔کسانوں کے لئے کھیتوں میں کام کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے بچے پڑھائی کے لئے سکول بھی نہیں جاپاتے تھے تاہم گزشتہ ایک سال سے سرحد پر خاموشی ہے جسکی وجہ سے یہاں حالات معمول پر آچکے ہیں۔

    اسی سکیٹر کے ہری پور گائوں کے سرپنچ روی کمار کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک سال سے سرحدوں پر سکون ہے اور لوگ اپنا روزمرہ کا کام انجام دے رہے ہیں۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے روی کمار نے کہا ایک برس قبل تک پاکستان وقتا فوقتا بلا اشتعیال گولہ باری کرتا تھا اور پاکستان کی طرفسے داغے گئے گولے بساالوقات شہری آبادی میں گرتے تھے جسکے باعث اس علاقے کے لوگوں کو کافی جانی اور مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا تھا تاہم گزشتہ ایک برس سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین مستقبل میں بھی جنگ بندی پر سختی سے عمل کیا جائے۔ سرحدی ضلع پونچھ کے باشندے بھی جنگ بندی کا ایک سال مکمل ہوجانے سے انتہائی خوش ہیں۔

    پونچھ ضلع کے ڈگوار سیکٹر کے سرپنچ پرویندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان کی بلا اشتعیال گولہ باری اور بھارتی فوج کے جوابی کاروائی سے علاقے میں خوف و حراس کا ماحول رہتا تھا اور عوام روزمرہ کے کام انجام دینے سے قاصر رہ جاتے تھے تاہم گزشتہ ایک برس سے کنٹرول لائن کے آر پار گولہ باری بند ہوجانے سے لوگوں کا جینا آسان ہوگیا ہے انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے افواج جنگ بندی معاہدے پر کاربند رہیں تاکہ سرحدی علاقوں میں آباد لوگ ملک کے دیگر عوام کی طرح معمول کی زندگی بسر کرکے ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔

    پونچھ کے مالٹی سیکٹر کے بھگیال ڈار گائوں کے باشندے شمس الدین کا کہنا ہے کہ ایک سال کی فائیر بندی سے نہ صرف عام لوگوں کو درپیش خطرات سے نجات ملی ہے بلکہ ان علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیاں بھی زور شور سے جاری ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین جنگ بندی معاہدے پر عمل آوری سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے باشندوں کو ذہنی تناؤ سے بھی چھُٹکارہ فحاصل ہو پایا ہے۔ دفاعی ماہر کیپٹن انیل گور کا کہنا ہے کہ حالانکہ سرکار نے ان علاقوں میں زیر زمین بینکر بھی تعمیر کروائے تاکہ عام لوگ پاکستان کی گولہ باری سے بچنے کے لئے ان بینکروں کا سہارا لیں ۔ اگرچہ گولہ باری کے دوران ان بینکروں کی وجہ سے جانی نقصان کافی حد تک کم ہوا تھا تاہم اکثر اوقات پاکستان کی گولہ باری کی وجہ سے لوگ ذہنی تناؤ کے شکار ہوجاتے تھے۔

    حالانکہ گزشتہ ایک برس سے سرحدوں پر خاموشی کی وجہ سے لوگوں کے اس تناؤ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم او ز نے پچیس فروری دو ہزار اکیس کو جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے کا اعلان کیا جسکے بعد جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن اور سرحد پر قدرے سکون کے حالات ہیں۔ تاہم ہندوستانی فوج اب بھی چوکس ہے کیونکہ پاکستان پر کبھی بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کب اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: