ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : سرحد پر ہند ۔ پاک کے درمیان جنگ بندی معاہدہ پر عمل سے ایل او سی پر رہنے والے لوگوں کی زندگی ہوئی تبدیل

Jammu and Kashmir News : لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دہائیوں کے بعد بنا گولی کی آوز سنے پر سکون نیند پوری کی ہے ۔ وہیں دونوں ممالک میں جنگ بندی ہونے سے سرحدی علاقے کے کسان بھی اپنی کھیتی باڑی میں مصروف ہیں اور کافی پر سکون نظر آ رہے ہیں ۔ مقامی سیاح تقریباً تیس سال کے بعد بنا خوف کے سیر کی غرض سے گھروں سے نکلنے لگے ہیں ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : سرحد پر ہند ۔ پاک کے درمیان جنگ بندی معاہدہ پر عمل سے ایل او سی پر رہنے والے لوگوں کی زندگی ہوئی تبدیل
جموں و کشمیر : سرحد پر ہند ۔ پاک کے درمیان جنگ بندی معاہدہ پر عمل سے ایل او سی پر رہنے والے لوگوں کی زندگی ہوئی تبدیل

اوڑی : جموں و کشمیر کی خوبصورت جگہوں میں سے اوڑی ایک خوبصورت سب ضلع ہے۔ اوڑی پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے ساتھ لائن آف کنٹرول کے مشرق میں دس کلومیٹر اور چھ اشاریہ دو میل مشرق میں دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے ۔ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم سے پہلے اوڑی ، راولپنڈی اور سرینگر کے درمیان ایک پل کا کام کرتا تھا ۔ اوڑی کے مغل روڈ کے زریعہ پونچھ سے حاجی پیر تک آسانی سفر کیا جاتا تھا ۔ اوڑی سرینگر سے چھہتر کلومیٹر ، مظفر آباد سے بیالیس کلومیٹر ، اور پونچھ سےانچاس کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ قدیم پانڈو مندریہ لگامہ گاؤں عقیدت مندوں کے لئے ایک اہم مقام ہے ۔ یہ پانڈووں کے خوبصورت مجسمے اور مندر میں قدیم زمانے کی رادھا ، کرشن کی ایک خوبصورت مورتی موجود ہے ۔ اوڑی پاور پراجیکٹ زیرزمین ایک پورے شہر کی ماند ہے ۔ سیاحوں کو بجلی کی پیداوار ہونے کے ساتھ ایجینئرئنگ کی مہارت کا جیتا جاگتا نمونہ ان کے سیر و تفری کو مزید یادگار بنا دیتا ہے ۔ وہیں سائنسی محققین ، مہم جووں کے لئے اوڑی کی وادی ایک دلچسپ تجربہ گاہ ہے ۔


واضح رہے کہ ہند و پاک کے درمیان کچھ ماہ پہلے ہی ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے ۔ اس معاہدہ کی خبر نے لوگوں کے اندر خوشی کی لہر بھر دی ہے ۔ دوسری جانب مقامی سیاحوں نے کئی دہائیوں بعد پھر سے سیاحتی مقامات کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ ہند و پاک دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی معاہدے کو تقریباً تین ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ سرحد ی علاقوں کے لوگوں نے پہلی مرتبہ راحت کی سانس لی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دہائیوں کے بعد بنا گولی کی آوز سنے پر سکون نیند پوری کی ہے ۔ وہیں دونوں ممالک میں جنگ بندی ہونے سے سرحدی علاقے کے کسان بھی اپنی کھیتی باڑی میں مصروف ہیں اور کافی پر سکون نظر آ رہے ہیں ۔ مقامی سیاح تقریباً تیس سال کے بعد بنا خوف کے سیر کی غرض سے گھروں سے نکلنے لگے ہیں ۔


جاوید احمد میر نامی ایک مقامی شخص کا کہنا ہے کہ نامبلہ میں رُستم ، چھم ، مائی بڈنی جیسے سیاحتی مقامات بہت مشہور ہیں اور اکثر لوگ گرمیوں کے موسم میں ان مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مقامات کو سیاحتی نقشے پر لانے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے سرکار اور محکمہ سیاحت سے مانگ کی ہے کہ ان مقامات کو سیاحوں کے لئے کھولنے اور سیاحتی نقشے پر درج کرنے میں پیش رفت کی جائے ۔ اوڑی کے گھر کوٹ اور بجہامہ علاقے کے سیاحتی مقامات بھی قدرت کا ایک شاہکار ہیں ۔ گھرکوٹ میں بابا فری نامی سیاحتی مقام بہت مشہور ہے ، جو کہ بہت اونچائی یعنی پہاڑ کی چوٹی پر موجود ہے ۔ سرکار اور انتظامیہ کی جانب سے یہاں چند دہائیوں قبل سیاحوں کے لئے چند شیڈس اور بینچ بنائے گئے تھے ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس خوبصورتی سے لبریز مقام عدم توجہی کا شکار ہو گیا ۔ بجہامہ اور بونیار علاقے میں بوسیاں، گواشر، ژرکھوڈن، چھولاں گھاٹی جیسے مشہور مقامات کے بارے میں جانکاری ہونے کے بعد بھی آج تک محکمہ سیاحت نے ان مقامات کو سیاحتی نقشہ پر نہیں لایا ہے ۔


لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ سیاست دانوں ، انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کی نوٹس میں لانے کے باوجود ان مقامات کے تحفظ اور تعمیر و ترقی کے لئے کوئی موثر اقدام نہیں کیا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اوڑی کے سیاحتی مقامات کو سیاحوں کے لئے کھولا جانا چاہئے ۔ تاکہ بیرون ممالک ، ریاست اور مقامی سیاح ان دلکش مقامات سے لطف اندز ہو سکیں ۔ اوڑی کے لوگوں کی ہمیشہ سرکار سے ایک ہی مانگ رہی ہے کہ اوڑی کو سیاحت کے نقشہ پر لیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اوڑی کا دروازہ سیاحوں کے لئے کھول دیا جائے گا ، تو یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواع فراہم ہوں گے ۔ پہلی جنگ کے بعد سے پاکستان مقبوضہ کشمیر اور جموں و کشمیر کے مابین سفر اور مواصلات غیر معینہ مدت کے لئے معطل ہو گیا تھا ۔ لیکن سات اپریل دو ہزار پانچ کو کاروان امن بس سروس باضابطہ طور پر شروع کی گئی ۔

وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہند و پاک کے درمیان پہلی بس سروس کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا ۔ اس سروس کی شروعات سے اوڑی کے ساتھ ساتھ پورے جموں و کشمیر کے عوام کے لئے ایک خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آرہا تھا ۔ دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سیاحت کو بھی فروغ ملنے لگا تھا ۔ اوڑی ہی ایک واحد آسان راستہ ہے ، جہاں سے ہند و پاک کے مابین تجارت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے دومیان کاروان امن کے نام سے ایک بس سروس بھی چلا تی ہے ۔ اس روٹ کے ذریعہ جموں و کشمیر کے تاجروں اور کاروباریوں نے پہلی مرتبہ تجارت کا نیا دور شروع کیا تھا اور اس تجارت سے اوڑی کی معیشت کو کافی فائدہ ہوتا ہے ۔ اوڑی میں جنگلات ، میدانوں ، پہاڑی چوٹیوں ، آبشاروں ، ندی نالوں کی بھر مار ہے ، جو سیاحوں کے دلوں کو محظوظ کرنے کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے ۔

یہاں کے تاجروں ، کاروباریوں سمیت دیگرتجارتی شعبوں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر سرکار اور محکمہ سیاحت اس حوالے سے کوئی ٹھوس اقدام کرتی ہے ، تو اس سے نہ صرف اوڑی کے تاجروں ، بے روزگار نوجوانوں ، بلکہ پوری ریاست کی معیشت کے لئے ایک سنہری باب کا آغاز ہوگا۔ اب یہ ذمہ داری محکمہ سیاحت اور سرکار پر عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاحوں کے لئے نئے مقامات کو بھی اپنے نقشوں کی فہرست میں شامل کرے ۔ تاکہ جموں و کشمیر کی معیشت اور سیاحت کو مزید فروغ حاصل ہو ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 05, 2021 10:38 PM IST