ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : ملک میں کورونا کی وجہ سے موجودہ صورتحال کیلئے مرکزی سرکار ذمہ دار: حسنین مسعودی

Jammu and Kashmir News : حسنین مسعودی نے کہا کہ گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے میں بھی سرکار اس وبا سے نمٹنے کیلئے اسپتالوں میں بنیادی ڈھانچے کو مستحکم نہیں بنا سکی ، جس کا خمیازہ نہ صرف دہلی بلکہ ملک کے بقیہ حصوں میں قائم اسپتالوں میں مریضوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : ملک میں کورونا کی وجہ سے موجودہ صورتحال کیلئے مرکزی سرکار ذمہ دار: حسنین مسعودی
جموں و کشمیر : ملک میں کورونا کی وجہ سے موجودہ صورتحال کیلئے مرکزی سرکار ذمہ دار: حسنین مسعودی

جموں و کشمیر: نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے ملک میں کورونا کی وبائی صورتحال کے لئے مرکزی سرکار پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ صورتحال کیلئے مرکزی سرکار پوری طرح سے ذمہ دار ہے جبکہ حالات کو قابو میں کرنے میں پوری طرح سے ناکام ہوگئی ہے۔ نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے اننت ناگ پارلیمانی حلقہ سے رکن پارلیمنٹ و نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر حسنین مسعودی نے کہا کہ گزشتہ برس جنوری ماہ میں کورونا نے ہمارے ملک میں دستک دی اور ملک کا پہلا کورونا کیس کیرالہ سے سامنے آیا ، جس کے بعد سرکار نے کووڈ پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اور مؤثر اقدامات اٹھانے کا ڈھنڈورا پیٹا ، لیکن زمینی سطح پر اس کے برعکس ہوا۔


حسنین مسعودی نے کہا کہ گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے میں بھی سرکار اس وبا سے نمٹنے کیلئے اسپتالوں میں بنیادی ڈھانچے کو مستحکم نہیں بنا سکی ، جس کا خمیازہ نہ صرف دہلی بلکہ ملک کے بقیہ حصوں میں قائم اسپتالوں میں مریضوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ مسعودی نے کہا کہ دلی اور دیگر ریاستوں میں  جس طرح سے اسپتالوں میں مریضوں کو بیڈ نہیں مل پا رہے ہیں اور اکثر اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اموات ہو رہی ہیں ، اس سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ملک میں طبی شعبہ کس حد تک فروغ پایا ہے اور موجودہ صورتحال نے مرکزی سرکار کے ان تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے ، جس میں کورونا پر قابو پانے کے بیانات دیکر لوگوں کو گمراہ کیا جاتا تھا ۔


حسنین مسعودی نے ملک کی دیگر ریاستوں اور یوٹیز میں طبی شعبے کی موجودہ تصویر پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں بھی حالات آئے روز بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ۔ جبکہ یہاں کے اسپتالوں میں بھی کووڈ سے نمٹنے کیلئے موجود بنیادی ڈھانچہ مستحکم نہیں ہے اور اسپتالوں میں قائم آئی سی یو یونٹس اور آکسیجن کی کمی کمزور طبی ڈھانچے کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔


مسعودی نے کہا کہ لوگوں کی داد پرسی اور موجودہ صورتحال میں باخبر رکھنے کے لئے درکار طبی لیڈر شپ بھی جموں و کشمیر سے غائب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طبی محکمہ کی بھاگ ڈور ایک مستحکم لیڈرشپ کے ہاتھوں میں دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ تاکہ ڈاکٹروں و دیگر فرنٹ لائن ورکرس براہ راست طور پر لوگوں کے ساتھ رابطے میں آکر صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کریں۔

واضح رہے کہ مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر یونین ٹریٹری میں جمعہ کے روز 1937 کورونا کے نئے معاث سامنے آئے ۔ اس دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں 19 اموات بھی واقع ہوئیں ۔ ادھر کورونا کے دوران ماسک کے استعمال کو سختی سے یقینی بنانے کیلئے ڈویژنل کمشنر کشمیر پی کے پولے نے رضاکاروں کی خدمات حاصل کرنے کی متعلقین کو ہدایت دی ہیں ۔

پولے نے ایک جائزہ میٹنگ کے دوران ایس ڈی آر ایف ، این ڈی آر ایف و دیگر شعبوں اور انجمنوں سے منسلک رضاکاروں کی خدمات طلب کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں ماسک کے استعمال کو یقینی بنانے اور سماجی دوریوں کو یقینی بنانے کیلئے انتظامیہ ان رضاکاروں کو سرگرم کرے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 23, 2021 10:40 PM IST