உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News : کشمیر میں چلہ کلان خوشگوار  موسم کے ساتھ رخصت ، چلہ خورد کی شروعات 

    J&K News : کشمیر میں چلہ کلان خوشگوار  موسم کے ساتھ رخصتچلہ خورد کی شروعات 

    J&K News : کشمیر میں چلہ کلان خوشگوار  موسم کے ساتھ رخصتچلہ خورد کی شروعات 

    Jammu and Kashmir News : کشمیر میں سرما کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے چالیس دن کی شدید سردی کا چلہ کلان، پھر 20 دن کا چلہ خورد اور آخر میں 10 دن پر محیط پر چلہ بچہ .

    • Share this:
    سری نگر : کشمیر میں شدید سردی کے 40 دن یعنی چلہ کلان اتوار کو رخصت ہوگیا۔ اتوار کو سورج اور بادل آنکھ مچولی کھیلتے رہے لیکن چلہ کلان کل ملا کر خوشگوار موسم میں رخصت ہوگیا۔ چلہ کلان کے بعد سردی اور برفباری میں کافی فرق آتا ہے۔ ڈل جھیل پر چلہ کلان کے آخری روز کئی گھنٹوں تک دھوپ کھلی رہی جس کی وجہ سے منظر اور زیادہ خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ برف سے ڈھکی  زبرون پہاڑیوں پر دھوپ کی کرنیں منعکس ہوکر ڈل جھیل میں ایک خوبصورت عکس بنا رہی تھی۔ جھیل کے کنارے کئی لوگ چلہ کلان کے بارے میں بھی باتیں کررہے تھے۔

    محمد اسلم نامی ایک شکارا والے نے کہا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس بار چلہ کلان میں موسم اچھا رہا۔ پچھلی سرینگر میں بھی حرارت منفی آٹھ ڈگری سیلشس تک گر گیا تھا اور گھروں کے اندر بھی نل جم گئے تھے۔ اس بار ایسا نہیں ہوا اور پارہ زیادہ تک نقطہ انجماد کے آس پاس ہی رہا۔ پہاڑی علاقوں میں برفباری ہوئی اور کچھ علاقوں میں بجلی ، پانی اور نقل و حمل میں پریشانیاں رہیں ، لیکن پچھلے سال کے مقابلے میں بہت ہی کم۔

    عبدل رشید نامی مقامی باشندے نے کہا کہ اس بار سرما میں گلمرگ اور دیگر سرمائی سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ سرینگر میں بھی سیاحوں کی اچھی تعداد رہی۔ انہیں امید ہے کہ اچھے موسم اور کووڈ صورتحال میں بہتری کے چلتے اس بار بہار میں سیاحوں کی بڑی تعداد کشمیر کی سیر کو آئے گی۔ ادھر محمد اسلم نامی ایک بزرگ شخص کا کہنا ہے کہ ابھی سرما ختم نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ چلہ کلان کے چالیس دنوں کے بعد اب بیس دن پر محیط چلہ خورد شروع ہوا اور اس کے بعد دس دن کا چلہ بچہ۔

    انھوں نے کہا کہ چلہ خورد اور چلہ بچہ کا مزاج بگڑ گیا تو یہ بھی برفباری اور سردی کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 31 جنوری اور پہلی فروری کو ہلکی بارش اور برفباری ہوسکتی ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: