ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : کورونا وبا کے پیش نظر جموں میں سینما گھروں کا کاروبار بری طرح سے متاثر

Jammu and Kashmir News : کورونا وائرس کے پھیلاو کے چلتے جموں میں سینما گھر اور دیگر تفریح کے مراکز بند رہنے سے اس شعبے سے وابستہ سینکڑوں افراد کی روزی روٹی متاثر ہوئی ۔ مناثرہ افراد سرکار سے ان کی باز آبادکاری کو یقینی بنانے کے لئے مالی پیکیج کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : کورونا وبا کے پیش نظر جموں میں سینما گھروں کا کاروبار بری طرح سے متاثر
جموں و کشمیر : کورونا وبا کے پیش نظر جموں میں سینما گھروں کا کاروبار بری طرح سے متاثر

جموں : گزشتہ برس سے پھیلی کورونا وبا کی وجہ سے جہاں زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا وہیں انٹرٹینمینٹ کا شعبہ بھی اس سے بچا نہیں رہا۔  کورونا وائرس کے پھیلاو کے چلتے جموں میں سینما گھر اور دیگر تفریح کے مراکز بند رہنے سے اس شعبے سے وابستہ سینکڑوں افراد کی روزی روٹی متاثر ہوئی ۔ مناثرہ افراد سرکار سے ان کی باز آبادکاری کو یقینی بنانے کے لئے مالی پیکیج کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


جموں کے گاندھی نگر علاقہ کے ایک تھیٹر مالک راجن گُپتا ان دنوں کافی پریشان ہیں۔ ان کی  یہ پریشانی گزشتہ دو سال سے ان کا تھیٹر بند رہنے کے سبب ہے۔ راجن گُپتا کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین برس پہلے ہی اپنے اس تھیٹر کو سجانے سنوارنے اور اس کی مرمت کرنے پر کافی رقم خرچ کی تھی ۔ تاہم اس کے بعد ہی کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے ان کا یہ تھیٹر بند پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں کے سارے تھیٹر مالکان کا یہی حال ہے کیونکہ وہ بھی گزشتہ دو برس سے بیکار بیٹھے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ سال کی کورونا لہر کے بعد اگرچہ چند ماہ تک تھیٹر کھُل گئے تھے ۔ تاہم کورونا کی ڈر کی وجہ سے لوگوں میں سینما دیکھنے کی دلچسپی نہیں رہی اور اسی لئے انہوں نے اپنے تھیٹر کو چالو نہیں کیا۔


جموں کے مختلف سینما گھروں میں کام کر رہے ملازمین کی روزی روٹی پر کافی برا اثر پڑا اور گزشتہ دو برس سے یہ ملازم بھی بیکار بیٹھے ہیں ۔ ایسے کئی ملازمین بھی ہیں جنہیں نوکری سے ہاتھ بھی دھونا پڑا ۔ سینما گھروں کے ملازمین ان دنوں کو یاد کر رہے ہیں جب ان سینما گھروں میں لوگوں کی کافی بھیڑ دیکھی جاتی تھی اور سینما مالکان کے ساتھ ساتھ ان ملازمین کی روزی روٹی بھی ٹھیک سے چل رہی تھی۔


سینما گھر کے مالک وکاس شرما نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے پچھلے دو سالوں سے میرا تھیٹر بند پڑا ہوا ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ تھیٹر میں کام کر رہے تھے اُن کو ہمیں نکالنا پڑا ، کیونکہ دو سالوں سے کوئی آمدنی نہیں ہورہی ہے ۔ اُن کو تنخواہ دینا ہمارے بس کی بات نہیں رہی تھی ۔ میرے پاس 25 ملازم کام کر رہے تھے اور 25 آدمیوں کو تنخواہ دینا مجھے مشکل ہو رہا تھا ، اسی لئے مجھے مجبور ہو کر اُن کو کام سے نکالنا پڑا جو کہ میرے لئے بہت دُکھ کی بات ہے۔

انیل کمار تھیٹر مالک نے کہا کہ میرے پاس 30 ملازم کام کرتے تھے ، لیکن کورونا کی وجہ سے میرا تھیٹر پہ تالا لگا ہوا ہے۔ آمدنی بالکل ختم ہو گئی ہے۔ بنکوں کی قسطیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے ، ایسے حالات میں 30 ملازموں کو تنخواہ دینا بہت ہی مشکل ہو رہا تھا۔ اسی لئے مجبور ہو کر  مجھے 25 ملازموں کو نوکری سے نکالنا پڑا۔ آج میرے پاس صرف 5 ملازم کام کر رہے ہیں۔ ان 5 ملازموں کی تنخواہ میں پیڈ پارکنگ سے جو پیسہ آتا ہے ، وہ ان کو دے دیتے ہیں۔

منیش مہاجن تھیٹر مالک نے بتایا کہ میرا تھیٹر بہت ہی اچھا چلتا تھا۔ ہر دن تھیٹر ہاؤس فُل ہوتا تھا۔ کبھی کبھی تو ایسا ہوتا تھا کہ پولیس کو بلانا پڑتا تھا ۔ اتنی بھیڑ ہو جاتی تھی لیکن آج کورونا کی وجہ سے حالات یہ ہیں کہ تھیٹر ویرانی کا منظر پیش کرتا ہے۔ ہر وقت لوگوں کی بھیڑ سے بھرا ہوا تھیٹر پریشان حال دیکھ رہا ہے۔ میں یہ امید کرتا ہوں جلد سے جلد کورونا کا یہ قہر ختم ہو جائے اور تھیٹروں میں پھر سے رونق آجائے۔

ان سینما گھروں کے مالکان کی سرکار سے اپیل ہے کہ ان کی باز آبادکاری کے لئے مالی پیکیج کا اعلان کیا جائے ۔ تاکہ وہ اپنے نقصان کی بھر پائی کر سکیں اورایک بار پھر اپنے کاروبار کو بڑھاوا دے کر ایک طرف اپنے لئے روزگار حاصل کر سکیں اور دوسری اور سینما گھروں کے ملازمین کی حالت کو بھی بہتر کرسکیں۔

شام کمار تھیٹر مالک نے کہا کہ بنکوں کی طرف سے ہدایت آئی تھی 6 ماہ تک کوئی بھی انسٹالمینٹ نہیں دینی پڑے گی ، لیکن 6 مہینے کے بعد بنکوں کو قسط تو دینی ہی ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے تھیٹر بند پڑے ہوئے ہیں تو 6 مہینے کے بعد ہم کیسے قسط ادا کر پائیں گے۔ ہم سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ تھیٹر لائن بالکل ختم ہو چکی ہے اس لئے ہمارے لئے کسی خصوصی پیکیج کا علان کیا جائے ۔ تاکہ ہم اپنی زندگی پھر سے شروع کر سکیں ۔

جہاں وادی کشمیر میں گزشتہ تیس برسوں سے سینما گھر بند پڑے تھے وہیں جموں کے کئی سینما گھر ابھی بھی چالو تھے اور لوگوں کے لئے تفریح کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔ حالانکہ جموں خطے کے بھی چند سینما گھر اب بند ہوئے تھے تاہم جو بھی ابھی تک چالو تھے ان پر کورونا وائیرس نے اپنا برا اثر ڈالا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکار اس طرف توجہ دے کر جموں کے باقی سینما گھروں کی بحالی کو یقینی بنائیں تاکہ یہ صنعت زوال کا شکار نہ ہوپائے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 15, 2021 12:07 AM IST