ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : سری نگر کے 38 سالہ سجاد احمد خان نے کورونا سے انتقال کرنے والوں کی تدفین کا اٹھایا بیڑا ، ہر طرف ہورہی تعریف

کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر انتقال کرنے والوں کی تجہیز و تکفین جب ایک سماجی مسئلے کا رخ اختیار کر گیا ، تو سری نگر سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر پیشہ نوجوان نے ذاتی خرچے پر ان متوفین کی لاشوں کی تدفین کا بیڑا اٹھایا ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 27, 2020 08:35 PM IST
  • Share this:
جموں و کشمیر : سری نگر کے 38 سالہ سجاد احمد خان نے کورونا سے انتقال کرنے والوں کی تدفین کا اٹھایا بیڑا ، ہر طرف ہورہی تعریف
جموں و کشمیر : سری نگر کے 38 سالہ سجاد احمد خان نے کورونا سے انتقال کرنے والوں کی تدفین کا اٹھایا بیڑا ، ہر طرف ہورہی تعریف

کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر انتقال کرنے والوں کی تجہیز و تکفین جب ایک سماجی مسئلے کا رخ اختیار کر گیا ، تو سری نگر سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر پیشہ نوجوان نے ذاتی خرچے پر ان متوفین کی لاشوں کی تدفین کا بیڑا اٹھایا ۔ سری نگر کے قمر واری علاقے سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ سجاد احمد خان نے بیس لڑکوں پر مشتمل رضاکاروں کی ایک ٹیم تیار کی ہے ، جنہیں چار چار رضاکاروں کے گروپس میں منقسم کیا ہے۔ سجاد احمد سری نگر کے کسی علاقے سے کووڈ مریض کے انتقال سے متعلق کال حاصل کرتے ہی ان رضاکاروں کو حفاظتی لباس فراہم کر کے جائے موقع پر متوفی کی تجہیز و تکفین کے لوازمات کی ادائیگی کے لئے روانہ کردیتے ہیں ، جہاں وہ لوازمات کی ادائیگی کے بعد حفاظتی لباس کو خاکستر کر کے سیدھے کوارنٹائن میں چلے جاتے ہیں ۔ وہ ان رضاکاروں کے حفاظتی لباس کا خرچہ خود برداشت کرتے ہیں ۔


سجاد احمد نے اپنی اس اہم پہل کے حوالے سے یو این آئی اردو کو بتایا کہ کورونا سے انتقال کرنے والوں کی تدفین کا ایک سماجی مسئلہ بن جانا میرے لئے اس اقدام کو اٹھانے کا محرک بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے بمنہ علاقے میں کووڈ سے مرنے والی ایک خاتون کی تدفین کے دوران لوگوں یہاں تک قریبی رشتہ داروں کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کو دیکھا اور یہ دیکھا کہ کووڈ سے مرنا ایک سماجی مسئلہ بن گیا ہے ، تو میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مشورہ کر کے اس معاملے کے حوالے سے کام کرنے کی ٹھان لی ۔


سری نگر کے قمر واری علاقے سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ سجاد احمد خان نے بیس لڑکوں پر مشتمل رضاکاروں کی ایک ٹیم تیار کی ہے ۔
سری نگر کے قمر واری علاقے سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ سجاد احمد خان نے بیس لڑکوں پر مشتمل رضاکاروں کی ایک ٹیم تیار کی ہے ۔


سجاد احمد خان نے کہا کہ میں نے بیس رضاکاروں پر مشتمل ایک ٹیم بنائی ، جن کو چار چار کے گروپس میں رکھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے بیس رضاکاروں پر مشتمل ایک ٹیم بنائی اور ان کو چار چار کے گروپس میں منقسم کیا ۔ جب مجھے کسی علاقے سے کووڈ مریض کے انتقال کی کال آتی ہے تو میں ان کو بلاتا ہوں ، انہیں حفاظتی لباس فراہم کر کے جائے موقع پر بھیج دیتا ہوں ، جہاں یہ گروپ متوفی کی تدفین کے لوازمات کی ادائیگی کے بعد حفاظتی لباس کو وہیں جلا کر سیدھے کوارنٹائن میں جاتا ہے، ٹیم میں وہی رضاکار کام کرتے ہیں ، جو کوارنٹائن میں جانے کے لئے تیار ہیں ۔

موصوف نے کہا کہ میں اپنے ذاتی خرچے پر ان رضاکاروں کے لئے حفاظتی لباس کی تمام تر چیزیں مہیا کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے فیس بک پیج 'اتھ واس' پر یہ پیغام عام کیا ہے کہ اگر کسی کو کووڈ سے مرنے والوں کی تدفین کے لئے مدد کی ضرروت ہے تو میں مدد کے لئے تیار ہوں۔ مسٹر خان نے کہا کہ یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہی مجھے کالس آنے لگیں اور میں نے کام شروع کیا۔

 سجاد احمد سری نگر کے کسی علاقے سے کووڈ مریض کے انتقال سے متعلق کال حاصل کرتے ہی ان رضاکاروں کو حفاظتی لباس فراہم کر کے جائے موقع پر متوفی کی تجہیز و تکفین کے لوازمات کی ادائیگی کے لئے روانہ کردیتے ہیں ۔
سجاد احمد سری نگر کے کسی علاقے سے کووڈ مریض کے انتقال سے متعلق کال حاصل کرتے ہی ان رضاکاروں کو حفاظتی لباس فراہم کر کے جائے موقع پر متوفی کی تجہیز و تکفین کے لوازمات کی ادائیگی کے لئے روانہ کردیتے ہیں ۔


انہوں نے کہا کہ سب پہلی کال لعل بازار سے موصول ہوئی اور اب تک سری نگر کے گرد و نواح میں جتنی بھی اموات کورونا سے ہوئی ہیں ، لگ بھگ ہم نے سبھی کے تدفین میں ہاتھ بٹایا ۔ سجاد احمد نے کہا کہ ہم بلا لحاظ مذہب کورونا سے مرنے والوں کی تدفین میں مدد کے لئے اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں ، کیونکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے ۔ لہٰذا اس کو انسانی نقطہ نگاہ سے ہی دیکھنا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ کورونا سے انتقال کرنے والے بھی ہمارے اپنے ہی ہیں ، لہٰذا ہمیں ان کے ساتھ بے رخی برتنے کی بجائے ہمدردی سے پیش آنا چاہئے ۔ انہوں نے لوگوں سے ان کے اس کام میں ہاتھ بٹانے کی اپیل کی ۔ بتادیں کہ سجاد احمد ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور چلاتے ہیں اور قبل ازیں انہوں نے کووڈ کے خلاف بر سر پیکار ڈاکٹروں کو پی پی ایز مفت تقسیم کرنے کا مستحسن کام بھی انجام دیا ہے ۔
First published: Jun 27, 2020 07:21 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading