Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

     جموں و کشمیر میں کووڈ کے بڑھتے معاملات کے درمیان سرینگر سے 24 دنوں کے بعد آئی راحت کی خبر

    جموں کشمیر کے 20 اضلاع میں سرینگر کووڈ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔کشمیر وادی کے کل معاملات کا 31 فیصدسرینگر ضلع میں پایا گیا ہے ۔ آج 24 دنوں کے بعد یہاں سے راحت کی خبر آئی ہے ۔

    • Share this:
     جموں و کشمیر میں کووڈ کے بڑھتے معاملات کے درمیان سرینگر سے 24 دنوں کے بعد آئی راحت کی خبر
     جموں و کشمیر میں کووڈ کے بڑھتے معاملات کے درمیان سرینگر سے 24 دنوں کے بعد آئی راحت کی خبر

    جموں و کشمیر میں جہاں کووڈ 19 کے معاملات بڑھتے جا رہے ہیں ، وہیں آج سرینگر ضلع کے لئے راحت کی خبر ہے ۔ آج سرینگر میں اڑتالیس نئے مریض کووڈ متاثر پائے گئے اور صرف ایک مریض کی موت درج کی گئی ۔ سرکاری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پچھلے 24 دن میں ایسا پہلی بار ہوا جب نئے کووڈ معاملات اتنے کم سامنے آئے ۔ گزشتہ مرتبہ 24 جولائی کو 40 نئے مریض درج کئے گئے تھے ۔ اس کے بعد سرینگر میں اکثر کووڈ معاملات سہ ہندسہ میں  ہی رہے۔ وہیں اگر اموات کی بات کریں ، تو اس معاملے میں بھی آج اچھی خبر ہے۔ آج جموں و کشمیر میں چھ اموات درج کی گئیں ، جن میں سے ایک کا تعلق سرینگر سے ہے ۔


    کشمیر وادی کے دس اضلاع میں کووڈ سے ابھی تک 507 اموات ہوئی ہیں ، جن میں سے 174 یعنی 34.3 فیصد صرف سرینگر ضلع سے تعلق رکھتے تھے ۔ کووڈ کے کل معاملات پر نظر ڈالیں ، تو کشمیر وادی میں پائے گئے 22434 معاملات میں 6960 یعنی 31 فیصد کیس سرینگر ضلع میں ہی درج کیے گئے ہیں ۔ ایکٹیو کیسوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ جہاں تک شفایاب ہوئے مریضوں کا تعلق ہے تو یہ سرینگر میں اب 74 فیصد ہے جبکہ باقی کشمیر وادی میں کچھ کم 73.35 فیصد ہے۔


    سرینگر میں اموات کی تعداد اکثر زیادہ رہی ہے ۔ 30 جولائی کو جموں و کشمیر میں 17 اموات چوبیس گھنٹے کے اندر ہوئی تھیں ، جن میں سے 10 کا تعلق صرف سرینگر ضلع سے تھا ۔ سرینگر ضلع چونکہ دارلحکومت ہے ، لہذا یہاں کے مثبت معاملات میں یہاں پر تعینات سیکورٹی دستے بھی شمار کئے جاتے ہیں ۔ آج سے چوبیس دنوں کی پابندی کے بعد بازار اور ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری زندگی بحال کردی گئی ہے ۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ لوگ قواعد و ضوابط پر عمل کرکے انفیکشن کو مزید پھیلنے سے کس حد تک روک پاتے ہیں۔

    Published by: Imtiyaz Saqibe
    First published: Aug 17, 2020 08:51 PM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading