ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جی ایم سی اننت ناگ کے کووڈ وارڈ میں بھرتی شخص کی موت پر مچا ہنگامہ ، تیمارداروں نے لگایا یہ بڑا الزام

تیمارداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسپتال کہ جانب سے جاری کووڈ نیگیٹو سرٹیفیکیٹ کو بار بار متعلقہ ڈاکٹروں کو دکھایا ، لیکن ڈاکٹروں نے ڈار کو کووڈ آئیسولیشن وارڈ سے باہر نکالنے میں لاپروائی سے کام لیا اور اس دوران کووڈ وارڈ میں پراسرار حالت میں ان کی موت واقع ہوگئی ۔

  • Share this:
جی ایم سی اننت ناگ کے کووڈ وارڈ میں بھرتی شخص کی موت پر مچا ہنگامہ ، تیمارداروں نے لگایا یہ بڑا الزام
جی ایم سی اننت ناگ کے کووڈ وارڈ میں بھرتی شخص کی موت پر مچا ہنگامہ ، تیمارداروں نے لگایا یہ بڑا الزام

اننت ناگ : جنوبی کشمیر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب کچھ لوگوں نے لاش کو اسٹریچر پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس واقعہ کے بعد پورے اسپتال میں ہنگامہ مچ گیا اور شوروغل سے مریض پریشان ہوگئے ۔ دراصل لارکی پورہ اننت ناگ کے غلام محمد ڈار کو کچھ روز قبل جی ایم سی طبی جانچ کیلئے لایا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے انہیں ٹیسٹ کی بنا پر کورونا سے متاثر قرار دیا اور اسے آئیسولیشن وارڈ میں بھرتی کرایا ۔ لیکن بھرتی ہونے کے کچھ روز بعد مذکورہ شخص کا کووڈ ٹیسٹ منفی پایا گیا ، لیکن تیمارداروں کے مطابق ڈار کو اس کے باوجود کووڈ وارڈ میں کورونا مریضوں کے ساتھ رکھا گیا ، جس کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہوگئی اور ان کی موت واقع ہوگئی ۔


تیمارداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسپتال کہ جانب سے جاری کووڈ نیگیٹو سرٹیفیکیٹ کو بار بار متعلقہ ڈاکٹروں کو دکھایا ، لیکن ڈاکٹروں نے ڈار کو کووڈ آئیسولیشن وارڈ سے باہر نکالنے میں لاپروائی سے کام لیا اور اس دوران کووڈ وارڈ میں پراسرار حالت میں ان کی موت واقع ہوگئی ۔  ڈاکٹروں کی مبینہ لاپروائی کے خلاف غلام محمد ڈار کے تیمارداروں نے ڈار کی لاش کو اسٹریچر پر رکھا اور اننت ناگ کوکرناگ سڑک پر دھرنا دیا اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی مانگ کی۔


جنوبی کشمیر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب کچھ لوگوں نے لاش کو اسٹریچر پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
جنوبی کشمیر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب کچھ لوگوں نے لاش کو اسٹریچر پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔


ڈار کے بیٹے مزمل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد کی اسپتال میں پراسرار موت کی آزادانہ تحقیقات کی مانگ کر رہے ہیں اور اس بات کا انتظامیہ نوٹس لے کہ کورونا منفی ہونے کے باوجود کس طرح سے ان کے والد کو کووڈ آئیسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ، جہاں پر بروقت اور ضروری علاج نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔

ادھر کالج کے میڈیکل سپرنٹینڈینٹ ڈاکٹر اقبال کا کہنا ہے کہ مریض کورونا سے متاثرہ تھا ، اس لئے انہیں کورونا وارڈ میں بھرتی کیا گیا ۔ لیکن جہاں تک مریض کو کورونا منفی سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا سوال ہے ، اس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ میڈیکل کالج کے شعبہ مائیکروبایولاجی کی جانب سے لاپروائی کا معاملہ ہے اور اس میں ملوث افراد کو معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت گیلانی کے مطابق مریض کو جاری کیا گیا سرٹیفیکیٹ فرضی ہوسکتا ہے اور انتظامیہ اس معاملہ کی ہر پہلو سے جانچ کرے گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 18, 2020 11:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading