ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں صحافی کا ٹیسٹ ایک لیباریٹری میں کورونا مثبت اور دوسری میں منفی ، عمر عبداللہ نے کیا تشویش کا اظہار

سرینگر میں ایک معروف صحافی کا کووڈ ٹیسٹ کل شام سی ڈی اسپتال کی لیباریٹری میں مثبت آیا اور آج اسی کا نتیجہ اسکمز سرینگر کی لیباریٹری میں منفی قرار دیا گیا ، جس کی وجہ سے اب کووڈ جانچ کو لے کر ہی سوالات کھڑے ہوگئے۔

  • Share this:
کشمیر میں صحافی کا ٹیسٹ ایک لیباریٹری میں کورونا مثبت اور دوسری میں منفی ، عمر عبداللہ نے کیا تشویش کا اظہار
ریسرچ کرنے والوں کا دعوی ہے کہ اس دوا کے استعمال سے وینٹی لیٹر پر رکھے گئے مریضوں کی موت کے جوکھم میں ایک تہائی کی کٹوتی ہوئی ہے ۔ جو آکسیجن پر ہیں ، ان لوگوں کی اموات میں پانچ فیصد کی کمی ہوئی ہے ۔

جموں و کشمیر میں کووڈ 19 وائرس کا جال پھیلتا جارہا ہے ۔ سوموار کو مزید 198 نئے کیسیز سامنے آئے ، جن میں سب سے زیادہ 40 بڈگام ضلع میں درج کئے گئے ۔ اس طرح یہاں کل مریضوں کی تعداد بڑھ کر 4285 ہوگئی ، جن میں سے 2916 ایکٹیو کیسیز ہیں ۔ جموں و کشمیر میں پچھلے ایک مہینے سے کووڈ معاملات کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ جون کے پہلے آٹھ دنوں میں ہی 1839 نئے معاملات درج کئے گئے جبکہ اس عرصہ میں 18 اموات ہوئیں ۔ آج دن میں ہی سی آر پی ایف کے ایک اہلکار سمیت کل 5 اموات واقع ہوئیں اور کل اموات بڑھ کر 46 تک پہنچ گئیں ۔


ادھر سرینگر میں ایک معروف صحافی کا کووڈ ٹیسٹ کل شام سی ڈی اسپتال کی لیباریٹری میں مثبت آیا اور آج اسی کا نتیجہ اسکمز سرینگر کی لیباریٹری میں منفی قرار دیا گیا ، جس کی وجہ سے اب کووڈ جانچ کو لے کر ہی سوالات کھڑے ہوگئے۔


سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انھوں نے لکھا کہ پہلے سے پریشانیاں کیا کم تھیں کہ اب ٹیسٹ رپورٹوں کی اعتباریت بھی شک کے گھیرے میں آگئی ۔ ان لوگوں کا کیا جو دو الگ الگ لیباریٹریوں سے ٹیسٹ نہیں کراسکتے۔


نیوز 18 اردو نے جی ایم سی سرینگر کی پرنسپل سے رابطہ کرکے اس بابت جاننے کی کوشش کی لیکن بے سود ۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ کچھ میڈیا ایجنسیوں نے لیفٹننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان سے ایک بیان منسوب کیا کہ انھوں نے اس معاملہ کی جانچ کا حکم دیا ہے ۔ ویسے تو مختلف شکایات کو لیکر پچھلے تین مہینے میں ابھی تک کم سے کم پانچ تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے ، لیکن کسی کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ۔

ادھر بڑھتے معاملات کے ساتھ کشمیر وادی کے کووڈ اسپتال میں بھیڑ بڑھتی جارہی ہے اور ماہرین اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بغیر علامات کے مریضوں کو اسپتالوں کی بجائے گھروں میں ہی رکھا جانا چاہئے ۔ ورنہ آگے زیادہ بیمار مریضوں کے لئے کووڈ اسپتالوں میں جگہ نہیں بچے گی  ۔
First published: Jun 09, 2020 12:13 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading