உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں بڑا کریک ڈاون، 600افراد حراست میں ، بانڈی پورہ قتل کیس حل کرنے کا پولیس نے کیا دعوٰی 

    کشمیر میں کریک ڈاون، 600افراد حراست میں ، بانڈی پورہ قتل کیس حل کرنے کا پولیس نے کیا دعوٰی

    کشمیر میں کریک ڈاون، 600افراد حراست میں ، بانڈی پورہ قتل کیس حل کرنے کا پولیس نے کیا دعوٰی

    ذرائع کے مطابق ابھی تک 600 سے زائد افراد حراست میں لئے گئے ہیں جن میں سے پولیس ریکارڈ میں ملی ٹینٹوں کے اوور گراونڈ ورکرس ، پتھر باز اور جماعت اسلامی سے تعلق یا پھر ہمدردی رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔

    • Share this:
    سرینگر: حالیہ دنوں میں عام شہریوں ، خاص طور پہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے تین مقامی افراد کے قتل کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانہ پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک 600  سے زائد افراد حراست میں لئے گئے ہیں جن میں سے پولیس ریکارڈ میں ملی ٹینٹوں کے اوور گراونڈ ورکرس ، پتھر باز اور جماعت اسلامی سے تعلق یا پھر ہمدردی رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔ پولیس حالیہ دنوں میں عام شہریوں کے قتل کے پیچھے افراد کا پتہ لگانے میں مصروف ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں مرکز کی خفیہ ایجنسیاں کام کررہی ہیں ۔

    ادھر بانڈی پورہ میں 6 اکتوبر کو ہی پیش آئے ایسے ایک معاملہ کو پولیس نے حل کرنے کا دعوٰی  کیا ہے ۔ پولیس نے اس معاملہ میں چار او جی ڈبلیو یعنی ملی ٹینٹوں کے ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے ۔ یہ معاملہ محمد شفیع نامی ایک شخص کے قتل کا ہے ، جس کو 6 اکتوبر کو شاہ گُنڈ بانڈی پورہ میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا ۔ اس روز ایم ایل بِندرو سمیت کُل تین عام شہریوں کو ایک کے بعد ایک گولی ماری گئی تھی ۔

    جموں کشمیر پولیس نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو ٹی آر ایف نامی ملی ٹینٹ تنظیم کے پاکستانی کمانڈر عمر لالہ کے کہنے پر قتل کیا گیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کو اس کے ایک جانکار نے ملنے کیلئے ایک جگہ پر بُلایا ، جہاں پر باقی چار افراد پہلے ہی تاک میں بیٹھے تھے اور اس کے وہاں پہنچتے ہی اُس کو گولیاں ماردی گئیں ۔ اس معاملہ میں گولی چلانے والا پانچواں شخص امتیاز احمد ڈار المعروف کوترو ابھی فرار بتایا جارہا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملی ٹینٹوں کے ساتھ سیدھے طور پر جُڑ گیا ہے۔

    ادھر سرینگر میں ایک غیر ریاستی باشندے سمیت اقلیتی طبقہ کے چار افراد کے قتل کے معاملہ میں آخری خبریں آنے تک کوئی گرفتاری کی خبر نہیں ہے ، لیکن وادی بھر سے 600 سے زاید افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔ پولیس اس معاملہ میں دو محاذوں پر کام کررہی ہے۔ ایک تو کسی ایسی نئی واردات کو روکنے کے لئے مشتبہ افراد کو دھر دبوچا جارہا ہے اور دوسرا ان معاملات میں ملوث افراد کی تلاش کی جارہی ہے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پستول جیسے چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کرکے یہ قتل کروائے جارہے ہیں اور اُن لوگوں سے کروائے جارہے ہیں جو سیدھے طور پر ملی ٹینسی میں شامل نہیں ہیں ۔ یعنی ایسے لوگ عام انسان کے طور دن بھر اپنا کام کاج کرتے ہیں ، لیکن جب انہیں ایسی کارروائی کرنے کا کام سونپا جاتا ہے تو اُسی وقت انھیں ہتھیار فراہم کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں سے نمٹنا پولیس کے لئے کافی مشکل ثابت ہورہا ہے کیونکہ ایسے لوگوں پر پولیس کی نظر نہیں رہتی ۔ انہیں ہائی برڈ ملی ٹینٹ کہا جاتا ہے ۔ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کے دوران معصوم افراد کو پریشان کرنے کا بھی امکان بڑھ جاتا ہے ، کیونکہ سیکورٹی ایجنسیوں کو بڑے پیمانے پر پوچھ گچھ اور تلاشیاں کرنی پڑتی ہیں ۔ تاکہ کچھ ان کے ہاتھ لگے اور معاملہ کو سُلجھایا جاسکے ۔

    پچھلے ایک سال کے دوران ابھی تک 29 عام شہری گولیوں کا نشانہ بنے ہیں ، جن میں سے سات کا تعلق اقلیتی طبقہ سے رہا ہے ۔ باقی اکثریتی طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ چھ اکتوبر کو ادویات کے کاروباری ایم ایل بِندرو اور اس کے بعد دو اقلیتی طبقہ کے اساتذہ کے قتل کے بعد سخت تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ اب حفاظتی ایجنسیاں اس نئی حکمت عملی کا توڑ نکالنے میں لگ گئی ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: