உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن پھر خبروں میں ، ٹیم سلیکشن پر اُٹھائے جارہے ہیں سوال ، جانئے کیوں

     جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن پھر خبروں میں ، ٹیم سلیکشن پر اُٹھائے جارہے ہیں سوال ، جانئے کیوں

     جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن پھر خبروں میں ، ٹیم سلیکشن پر اُٹھائے جارہے ہیں سوال ، جانئے کیوں

    شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں آج جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن نے سید مشتاق علی کرکٹ ٹورنامنٹ کے لئے ٹرائلز منعقد کئے ہیں ، لیکن اُمید کے برعکس سلیکشن کے لئے ان ہی کھلاڑیوں کو بُلایا گیا ، جن میں سے زیادہ تر پہلے ہی رانجی ٹیم میں شامل ہیں اور جو باقی چند کھلاڑی بلائے گئے تھے وہ بھی پچھلے کچھ سال سے ٹیم سلیکشن کے عمل میں حصہ لے رہے تھے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    سری نگر : شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں آج جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن نے سید مشتاق علی کرکٹ ٹورنامنٹ کے لئے ٹرائلز منعقد کئے ہیں ، لیکن اُمید کے برعکس سلیکشن کے لئے ان ہی کھلاڑیوں کو بُلایا گیا ، جن میں سے زیادہ تر پہلے ہی رانجی ٹیم میں شامل ہیں اور جو باقی چند کھلاڑی بلائے گئے تھے وہ بھی پچھلے کچھ سال سے ٹیم سلیکشن کے عمل میں حصہ لے رہے تھے ۔ مطلب یہ کہ کسی نئے کرکٹ کھلاڑی کو ٹیم سلیکشن کے عمل میں بھی حصہ لینے کا موقع تک نہیں دیا گیا۔ کرکٹ فورم اننت ناگ کے سکریٹری وسیم جان کا کہنا ہے کہ مشتاق علی میموریل کرکٹ ٹورنامنٹ سے ہی آئی پی ایل اور دیگر اہم مقابلوں میں جانے کا موقع ملتا ہے اور اس ٹورنامنٹ میں اوپن ٹرائل ہونا چاہئے تاکہ اُبھرتے کھلاڑیوں کو آگے جانے کا موقع ملے ۔

    جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے انچارج سی ای او کشمیر ماجد ڈار سے جب نیوز 18 اُردو نے پوچھا کہ اوپن ٹرائل کی بجائے گنے چنے کھلاڑیوں کو کیوں اور کس بُنیاد پر بلایا گیا ؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ سنئیر سطح پر اوپن ٹرائل ممکن نہیں ہے ، لیکن وہ اس سوال کا کوئی معقول جواب نہیں دے پائے کہ اس ٹرائل میں شامل کھلاڑیوں کو کس بنیاد پر ٹیم میں شامل کرنے کے لئے بلایا گیا ہے۔ جے کے سی اے نے نہ ہی ضلع سطح پر کوئی کرکٹ مقابلے کروائے اور نہ ہی ان کے پاس ڈومسٹک کرکٹ میں کھیل رہے کھلاڑیوں کو پرکھنے کا کوئی طرز عمل موجود ہے۔ ایسے میں مقامی طور اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو اپنے ہُنر دکھانے سے محروم رکھا گیا ۔

    ٹیم سلیکشن کے موقع پر موجود کئی سنئیر کھلاڑی بھی مانتے ہیں کہ ٹیم سلیکشن کا یہ طرز عمل غیر معقول ہے ، لیکن وہ میڈیا کے سامنے نہیں بول سکتے ، کیونکہ کچھ بھی بولنے سے منع کیا گیا ہے ۔ سی ای او ماجد ڈار سے جب یہ پوچھا گیا کہ بنیادی سطح پر کرکٹ کو فروغ دینے اور اچھے کھلاڑیوں کو سامنے لانے کا کوئی طریقہ جے کے سی اے کیوں وضع نہیں کرتی تو اُنھوں نے کہا کہ انہیں صرف دو مہینے پہلے یہاں کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، ایسے میں ضلع سطح پر ٹورنامنٹ منعقد کروانا مکن نہیں تھا ۔

    واضح رہے کہ 19سال سے کم کھلاڑیوں کی سلیکشن کے لئے اس بار اوپن ٹرائل منعقد کروائے گئے جس میں آٹھ سو کے قریب کھلاڑیوں نے شرکت کی ، لیکن سنئیر سطح کی ٹیم کے لئے ایسا نہیں کیا گیا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: