ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن معاملہ میں ای ڈی نے ایک بارپھر فاروق عبداللہ سے کی پوچھ۔گچھ

جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (Jammu and Kashmir Cricket Association) معاملہ میں ای ڈی (Enforcement Directorate) آج ایک بارپھر فاروق عبداللہ (Farooq Abdullah ) سے پوچھ تاچھ کی ہے، اور یہ پوچھ تاچھ کئی گھنٹوں تک چلی، ای ڈی دفتر سے نکنے کے بعد فاروق عبد اللہ نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی، اس سلسلہ میں نیشنل کانفرنس نے باربار ای ڈی کی جانب سے فاروق عبد اللہ کو دفترطلب کئے جانے کی مذمت کی ہے۔

  • Share this:

جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن  (Jammu and Kashmir Cricket Association) معاملہ میں ای ڈی (Enforcement Directorate)  آج ایک بارپھر فاروق عبداللہ (Farooq Abdullah ) سے پوچھ تاچھ کی ہے، اور یہ پوچھ تاچھ کئی گھنٹوں تک چلی، ای ڈی دفتر سے نکنے کے بعد فاروق عبد اللہ نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی، اس سلسلہ میں نیشنل کانفرنس نے باربار ای ڈی کی جانب سے فاروق عبد اللہ کو دفترطلب کئے جانے کی مذمت کی ہے۔  پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے ای ڈی کی طرف سے محض 3 دن میں فاروق عبداللہ کی دوسری طلبی کو سیاسی انتقام گیری پر مبنی منصوبہ بند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حربے جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو توڑنے کی مذموم کوشش ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں طلبی کو دھونس و دباﺅ کا حربہ قرار دیتے ہوئے پارٹی ترجمان نے کہا کہ 'گذشتہ روز 83 سالہ رکن پارلیمان سے 6 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد ای ڈی کو ایسا کیا پوچھنا باقی رہ گیا تھا کہ ایک روز بعد دوبارہ سمن بھیجا گیا'۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اس کی ایجنسیوں کو قانون کی پاسداری کرنے والے شہری، جو مختلف امراض میں مبتلا ہے اور جس کی قوت مدافعت انتہائی کمزور ہے، کی صحت کا پاس و لحاظ نہیں۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کو اپنی ساکھ بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ یہ لوگ اس بات میں راحت محسوس کرتے ہیں کہ قوم انہیں غنڈہ گردوں کے طور دیکھے۔ این سی ترجمان نے کہا کہ 'بی جے پی حزب اختلاف پر دھونس جمانے کے لئے کب تک سی بی آئی، ای ڈی، اینٹی کرپشن بیورو اور اس کی دیگر ایجنسیوں کا استعمال کرے گی؟ اب یہ معمول کی بات ہوگئی ہے، جو کوئی بھی حکومت کے خلاف بولتا ہے اور بی جے پی کی تقسیمی سیاست کے خلاف آواز اٹھانے کی جرآت کرتا ہے اُس کی مختلف ایجنسیوں میں طلبی شروع ہوجاتی ہے'۔


انہوں نے کہا کہ 'دور حاضر میں کلین چٹ حاصل کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اپنے نظریہ کو بالائے طاق رکھ کر بی جے پی میں شامل ہوجائیں۔ ہم نے آسام سے لیکر کرناٹک اور مغربی بنگال سے لیکر آندھرا پردیش تک ایسا ہوتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن چاہئے جو کچھ بھی ہو، ڈاکٹر فاروق عبداللہ بی جے پی کے سامنے سرینڈر کرنے والے نہیں ہیں'۔

دریں اثنا نیشنل کانفرنس کا ایک غیر معمولی اجلاس بدھ کو پارٹی ہیڈکوارٹر پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کی صدارت میں منعقد ہوا۔  اجلاس میں صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران محمد شفیع اوڑی، ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، جسٹس (ر) حسنین مسعودی، میاں الطاف احمد، مبارک گل، میر سیف اللہ، علی محمد ڈار، عرفان احمد شاہ، محمد سعید آخون، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، پیر محمد حسین، سلمان علی ساگر، شوکت احمد میر، سید توقیر احمد اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ کو سیاسی انتقام گیری کی بنا پر نشانہ بنانے کے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور اس سلسلے میں ایک قرارداد بھی پاس کی گئی۔  قرارداد میں کہا گیا ہے: 'ہم نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف انتقام گیری اور دھونس و دباﺅ پر مبنی کارروائی کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم اپنے قائد اور ریاست میں اُن کے اتحاد کے مشن میں شانہ بہ شانہ ہیں۔ اس طرح کی کارروائیاں جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے ہماری جدوجہد میں حائل نہیں آسکتیں'۔

(نیوز ایجنسی: یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ)
Published by: sana Naeem
First published: Oct 21, 2020 09:56 PM IST