உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دھنتیرس کے موقع پر جموں کے بازاروں میں نظر آئی بھیڑ ، جانئے کیا رہا تاجر طبقہ کا ردعمل

    دھنتیرس کے موقع پر جموں کے بازاروں میں نظر آئی بھیڑ ، جانئے کیا رہا تاجر طبقہ کا ردعمل

    دھنتیرس کے موقع پر جموں کے بازاروں میں نظر آئی بھیڑ ، جانئے کیا رہا تاجر طبقہ کا ردعمل

    Jammu and Kashmir News : شہر کے موتی بازار، لکھ داتا بازار اور دیگر مقامات پر عام لوگ خریداری کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ لوگ روایت کے مطابق سونے، چاندی کے زیورات، برتن اور دیگر اشیاء کی خریداری کرتے نظر آئے۔

    • Share this:
    جموں : جموں شہر کے مختلف بازاروں میں آج خریداروں کی خاصی بھیڑ دیکھنے کو ملی۔ موقع تھا دھنتیرس کے روز خصوصی اشیا کی خریداری کا۔ شہر کے موتی بازار، لکھ داتا بازار اور دیگر مقامات پر عام لوگ خریداری کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ لوگ روایت کے مطابق سونے، چاندی کے زیورات، برتن اور دیگر اشیاء کی خریداری کرتے نظر آئے۔ مذہبی روایت کے مطابق دھنتیرس کے روز سونے چاندی کے زیورات، برتن اور دیگر اشیا خرید کر عام لوگ شام کو اپنے گھروں میں خصوصی پوجا کا اہتمام کرتے ہیں ، جس دوران ماتا لکشمی کی خصوصی پوجا کی جاتی ہے ۔ ہندو مذہب میں روایت ہے کہ آج کے دن یہ اشیا خریدنے اور خصوصی پوجا انجام دینے سے ماتا لکشمی خوش ہوجاتی ہیں اور پورے خاندان کی مالی حالت بہتر ہوجاتی ہے۔

    آج خریداری کرنے والے افراد نے کہا کہ وہ ہندو مذہب میں اس دن کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اور اپنے آبا و اجداد کی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے بازاروں کارخ کررہے ہیں۔ شوانی نامی ایک مقامی خاتون نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو دھرم میں روایت ہے کہ آج کے دن سونا چاندی کے زیورات اور برتن وغیرہ خریدنے چاہئیں۔ لہذا ہم یہ خریداری کرنے کے لیے بازار میں آئیں ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ کافی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے نکلے ہیں اور وہ اپنی مرضی کا سامان خرید رہے ہیں۔ ہم شام کو گھر پہنچ کر خصوصی پوجا کا حصہ بنیں گے اور ماتا لکشمی کا آشیر واد حاصل کریں گے ، جس سے آنے والا وقت پورے خاندان کے لئے شادمانی والا ہوگا۔

    دھنتیرس کے موقع پر خریداری کرنے والی ایک اور خاتون انیتا نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے آج کے دن برتنوں اور دیگر اشیاء کی خریداری کرتی آئی ہیں کیونکہ مذہبی اعتبار سے اہم اس دن پر خریداری کرنامالی حالت میں سدھار پیدا کرتاہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھلے ہی کم اشیا کی خریداری کریں تاہم آج کے دن یہ اشیاء خریدنا نہایت لازمی ہے ، کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہو جاتاہے کہ آنے والے ماہ کے دوران ان کے خاندان کی مالی حالت مزید مستحکم ہوجائے گی۔ ایک اور مقامی خاتون رادیکھا نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دھنتیرس کے موقع پر خریداری کرنا لازمی ہے تاکہ پورے خاندان کی مالی حالت مزید بہتر ہوسکے۔

    جموں کے بازاروں میں خریداروں کی اس بھیڑ سے تاجر طبقے کا کیا ردعمل ہے ، نیوز18 اردو نے جموں کےکچھ تاجروں سے بھی بات چیت کرکے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی ۔ عام تاجروں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں لوگوں کی بھیڑ دکھائی تو دے رہی ہے ، لیکن عام لوگ خریداری کرتے وقت اپنے بجٹ کا خاص دھیان رکھتے ہیں ۔ شیو کمار نامی ایک برتن فروش نے نیوز18 اردو سے کہا کہ اس سال ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ کم رقم خرچ کررہے ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ برتنوں کے دام میں چالیس سے پچاس فیصدی تک کا اضافہ ہوچکاہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کرونا وائرس کی وجہ سےعام لوگوں کی مالی حالت کمزور ہوچکی ہے لہذا وہ کم رقم خرچ کرکے صدیوں پرانی روایت کو پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح ہی جموں میں بھی کاروبار میں کافی گھراوٹ دیکھی جارہی ہے۔

    سونے کے زیورات کا کاروبار کرنے والے ایک تاجر راکیش گپتا نے کہا کہ اس سال سونا اور چاندی کے زیورات خریدنے والے لوگوں کی تعداد کافی کم ہے ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے گپتا نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کووڈ وبا کی وجہ سے عام لوگوں کی مالی حالت کافی متاثر ہوئی ہے۔ عام لوگ اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی کشمکش میں ہیں۔ ایسے میں لوگ سونا اور چاندی خریدنے کے لئے بازاروں کا رخ کیوں کریں گے ہاں وہ لوگ سونے کے زیورات خریدتے ہیں جن کے گھر میں شادی بیاہ کی کوئی تقریب منعقد ہونے والی ہو۔

    اگر چہ دھنتیرس کے موقع پر جموں کا کاروباری طبقہ زیادہ خوش نہیں ہے ۔ تاہم اسے امید ہے کہ اس دن سے کاروباری سرگرمیاں ایک مرتبہ پھر زور پکڑنے لگی ہیں اور وہ مستقبل قریب میں ان کے کاروبار میں وسعت آنے کے لیے پر امید کرتے ہیں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: