ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ڈی ڈی سی انتخابات : خواتین ووٹروں کے ساتھ ساتھ خواتین امیدوار بھی سیاسی میدان میں سرگرم

جموں کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات پہلی مرتبہ منعقد ہوئے ہیں اور پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ یہاں کے کسی بلاک میں صرف خواتین امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ان خواتین امیدوار کے حوصلے بلند ہیں ، کیونکہ سیاسی دنیا میں یہ خواتین پہلی بار اپنی قسمت آزمائی کر رہی ہیں ۔

  • Share this:
ڈی ڈی سی انتخابات : خواتین ووٹروں کے ساتھ ساتھ خواتین امیدوار بھی سیاسی میدان میں سرگرم
ڈی ڈی سی انتخابات : خواتین ووٹروں کے ساتھ ساتھ خواتین امیدوار بھی سیاسی میدان میں سرگرم

اننت ناگ : ڈی ڈی سی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کئی مقامات پر نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی ایک خاصی تعداد نے بھی اس جمہوری عمل میں حصہ لیا ۔ جبکہ اس بار کئی خواتین چہرے بھی بطور امیدوار سامنے آیئں ہیں ۔ خواتین ووٹر جہاں اپنے مسائل کا ازالہ ممکن بنانے کی خواہاں ہیں وہیں خواتین امیدوار سیاسی میدان میں آکر کافی پرامید نظر آرہی ہیں ۔ لارنو بلاک کی 30 سالہ منیرہ کےلئے ہر گزرتا دن بے چینی اور بے تابی بڑھاتا ہے۔ کیونکہ منیرہ لارنو بلاک میں پہلے مرحلے کے ڈی ڈی سی انتخابات میں شرکت کر رہی پانچ خواتین میں سے ایک ہیں جو اب اپنی جیت کی منتظر ہیں۔ لارنو بلاک میں پانچ امیدواروں کی قسمت سنیچر کے روز بیلٹ بکس میں بند ہوئی اور یہاں پر پانچوں کی پانچ امیدوار خاتون ہیں ۔ منیرہ جیسی علاقہ کی چار ایسی خواتین ہیں جو بے صبری کے ساتھ اب انتخابی نتائج کا انتظار کر رہی ہیں۔


جموں کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات پہلی مرتبہ منعقد ہوئے ہیں اور پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ یہاں کے کسی بلاک میں صرف خواتین امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ان خواتین امیدوار کے حوصلے بلند ہیں ، کیونکہ سیاسی دنیا میں یہ خواتین پہلی بار اپنی قسمت آزمائی کر رہی ہیں ۔ منیرہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے کی پسماندگی سے کافی پریشان ہیں جبکہ وادی کے دور افتادہ علاقوں میں خواتین کی معاشی و سماجی حالت میں کوئی سدھار نہیں ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ڈی ڈی سی انتخابات کے ذریعہ اپنے علاقے کی تصویر بدلنے کی خواہاں ہے۔ منیرہ کے مطابق اگر وہ کامیاب ہوتی ہیں تو وہ علاقے کی تعمیرو ترقی کیلئے ایک منظم پالیسی کے تحت کام کریں گی۔ جبکہ خواتین کا سیاسی میدان میں کودنے کو وہ ایک خوش آئند قدم قرار دے رہی ہیں ۔


منیرہ کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کی سیاست میں خواتین کا دائرہ محدود رہا ہے اور لارنو میں جس طرح سے خواتین اب سیاسی میدان میں آ گئی ہیں ، اسے یہ دائرہ مزید وسیع ہونے کا قوی امکان ہے۔ ان خواتین امیدواروں کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی سی انتخابات نے یقینی طور پر یہاں کی خواتین کیلئے ایک موقع فراہم کیا ہے ، جس کے تحت وہ سیاست کی دنیا میں بھی اپنا لوہا منوا سکتی ہیں ۔  پنچایتی راج کو مزید تقویت بخشنے کی غرض سے جہاں اس مرتبہ پہلی بار ڈی ڈی سی انتخابات کا آغاز ہوا۔ وہیں اس بار عام نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی ایک بڑی تعداد نے ان انتخابات میں حصہ لیا ۔


جموں کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات پہلی مرتبہ منعقد ہوئے ہیں اور پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ یہاں کے کسی بلاک میں صرف خواتین امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
جموں کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات پہلی مرتبہ منعقد ہوئے ہیں اور پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ یہاں کے کسی بلاک میں صرف خواتین امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔


سنیچر کے روز  اننت ناگ کے لارنو اور پہلگام میں اس مرتبہ ماضی کے مقابلے میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد نے صبح سے ہی ٹھنڈ اور منفی درجہ حرارت میں پولنگ مراکز کا رخ کیا اور سیاسی گرماہٹ کے بیچ کئی پولنگ مراکز پر خواتین کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں اور یہ خواتین بے صبری کے ساتھ اپنی ووٹ ڈالنے کی بھاری کے منتظر تھے۔ نیوز 18 نے جب خواتین ووٹروں سے بات کی تو انہوں نے خواتین  کی با اختیاری ، بے روزگاری ، پسماندگی اور سڑک، بجلی ، پانی جیسے مسائل کا پھر ایک بار رونا رویا ۔ ان ووٹران کا کہنا تھا کہ کشمیر کے پسماندہ علاقوں میں لوگوں کی حالت پریشان کن ہے ، جبکہ یہاں کے عوام کے ساتھ ہمیشہ سے سیاسی استحصال جاری ہے ، کیونکہ محض انتخابات کے وقت سیاستدان ان علاقوں کی جانب رخ کرتے ہیں اور انتخابات کے بعد کوئی بھی سیاست دان ان علاقوں کی جانب لوٹنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتا ہے۔

ان خواتین کا مزید کہنا تھا کہ ڈی ڈی سی انتخابات سے انہیں ایک موقع فراہم ہوا ہے جس کے ذریعہ انہوں نے اپنے علاقوں کے امیدوار کھڑا کئے اور ان کے حق میں وہ ووٹ ڈال رہی ہیں ۔ واضح رہے کہ جنوبی کشمیر میں موجودہ صورتحال میں ماضی کے مقابلہ میں جہاں پہلے مرحلے میں ہی ووٹروں کی اچھی تعداد ووٹ ڈالنے کیلئے سامنے آئی ہے ۔ وہیں اس بار یہاں کی خواتین نے بالغ نظری کا مظاہرہ کر کے گھر کی چہار دیواری کو لانگ کر سیاسی دہلیز پار کرنے کی ایک پہل کی ہے۔ جسے اب یہاں کی خواتین میں معاشی با اختیاری اور خود اعتمادی کا مادہ مزید پنپنے کے روشن امکانات ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 29, 2020 12:59 PM IST