ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر ڈی ڈی سی انتخابات: گوجر بکروال اور پہاڑی طبقوں کی شرکت، محض ووٹ بینک کےلئے استعمال کرنے کا لگایا الزام

جموں وکشمیر میں ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں جہاں اس وقت کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات میں اچھی پولنگ ہو رہی ہے۔ وہیں اس عمل میں ایس ٹی زمرے کے لوگ ہمیشہ کی طرح پیش پیش ہیں۔ ہر بارکی طرح اس بار بھی ایس ٹی زمرے سے تعلق رکھنے والے افراد جمہوری عمل کا حصہ بن کر ڈی ڈی سی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر شرکت کر رہے ہیں۔

  • Share this:
جموں وکشمیر ڈی ڈی سی انتخابات: گوجر بکروال اور پہاڑی طبقوں کی شرکت، محض ووٹ بینک کےلئے استعمال کرنے کا لگایا الزام
جموں وکشمیر ڈی ڈی سی انتخابات: گوجر بکروال اور پہاڑی طبقوں کی شرکت، محض ووٹ بینک کےلئے استعمال کرنے کا لگایا الزام

جموں کشمیر: ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں جہاں اس وقت کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات میں اچھی پولنگ ہو رہی ہے۔ وہیں اس عمل میں ایس ٹی زمرے کے لوگ ہمیشہ کی طرح پیش پیش ہیں۔ ہر بارکی طرح اس بار بھی ایس ٹی زمرے سے تعلق رکھنے والے افراد جمہوری عمل کا حصہ بن کر ڈی ڈی سی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر شرکت کر رہے ہیں۔ تاہم اس بار گوجر بکراول اور پہاڑی کے رائے دہندگان کے ساتھ ساتھ ان طبقوں کے نمائندے بھی سیاسی میدان میں ہیں، جسے ایس ٹی آبادی کہ فلاح و بہبود کے لئے امید کی کرن تصور کیا جا رہا ہے۔

جموں وکشمیر کی سیاسی تصویر اور جمہوریت کی قدروں کو بلند رکھنے میں یہاں کا گوجر بکروال اور پہاڑی طبقہ ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ اپنی روایات کو روا رکھتے ہوئے اس بار بھی کشمیر میں ڈی سی سی انتخابات کی ووٹنگ شرح کو بڑھانے میں یہ طبقات کلیدی رول ادا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار کشمیر کے بالائی علاقوں میں ووٹنگ شرح قدرے بہتر رہی اور ان پولنگ بوتھوں پر لمبی لمبی قطاروں میں اپنی بھاری کے منتظر یہ لوگ ایس ٹی زمرے کے پسماندہ لوگ ہوتے ہیں، جو ملک کی آزادی کے بعد بھی مصیبتوں کا رونا رو رہے ہیں۔ ان ووٹران کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی آزادی کے بعد سے ہر طرح کے جمہوری انتخابات میں بلند حوصلے سے شرکت کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی انہیں سڑک، بجلی اور پانی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ جبکہ ان کی معاشی و سماجی پسماندگی میں کوئی سدھار نہیں آیا ہے۔ اننت ناگ کےکھوری پورہ میں جہاں ان پسماندہ طبقات کے ووٹران کی لمبی قطاریں نظر آرہی تھی وہیں ہرچہرے پر شکوے اور نالے نمایاں طور پر نظر آ رہے تھے۔ اب یہ رائے دہندگان اس امید کے ساتھ ووٹ ڈالنے آئے تھے کہ نو منتخب نمائندوں کے سبب ان کی تمام تر مشکلات کا ازالہ یقینی طور پر ہوگا۔


جموں وکشمیر کی سیاسی تصویر اور جمہوریت کی قدروں کو بلند رکھنے میں یہاں کا گوجر بکروال اور پہاڑی طبقہ ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ اپنی روایات کو روا رکھتے ہوئے اس بار بھی کشمیر میں ڈی سی سی انتخابات کی ووٹنگ شرح کو بڑھانے میں یہ طبقات کلیدی رول ادا کر رہے ہیں۔
جموں وکشمیر کی سیاسی تصویر اور جمہوریت کی قدروں کو بلند رکھنے میں یہاں کا گوجر بکروال اور پہاڑی طبقہ ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ اپنی روایات کو روا رکھتے ہوئے اس بار بھی کشمیر میں ڈی سی سی انتخابات کی ووٹنگ شرح کو بڑھانے میں یہ طبقات کلیدی رول ادا کر رہے ہیں۔


گوجر بکروال لوگوں کو جہاں انتخابات سے حسب معمول امیدیں ہیں۔ وہیں بجلی سڑک اور پانی جیسے بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ انہیں پریشانی ہے۔ راشن اور بہتر سڑک نظام کی۔ جبکہ خواندگی کی شرح میں کمی اور بے روزگاری سے بھی یہ لوگ جونج رہے ہیں۔ محمد یوسف بڈھانہ نامی ایک گوجر سماجی کارکن کے مطابق جموں کشمیر میں گوجر بکروال لوگوں کی آبادی 29 ہزار سے زاید ہے جبکہ یہ طبقات آج بھی مفلسی اور مصائب کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بڈھانہ کے مطابق ان طبقات کی خواندگی شرح میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے جبکہ ماضی میں مخصوص ایس آر او کو ختم کر کے اب ان طبقات کے نوجوانوں کےلئے سرکاری نوکریوں کا حصول بھی ناممکن بن گیا ہے۔

ان لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو ماضی میں سیاست دانوں نے محض ایک ووٹ بینک تصور کیا ہے، جس کے بعد ڈی ڈی سی انتخابات کے ذریعے انہیں اب اپنے طبقات میں سے امیدوار منتخب کرنے کا موقع نصیب ہوا ہے۔
ان لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو ماضی میں سیاست دانوں نے محض ایک ووٹ بینک تصور کیا ہے، جس کے بعد ڈی ڈی سی انتخابات کے ذریعے انہیں اب اپنے طبقات میں سے امیدوار منتخب کرنے کا موقع نصیب ہوا ہے۔


ان لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو ماضی میں سیاست دانوں نے محض ایک ووٹ بینک تصور کیا ہے، جس کے بعد ڈی ڈی سی انتخابات کے ذریعے انہیں اب اپنے طبقات میں سے امیدوار منتخب کرنے کا موقع نصیب ہوا ہے۔ ایسے میں ایس ٹی طبقے کی خواتین بھی اب سیاست کی جنگ میں کمان سنبھالنے کے لئے تیار ہیں تاکہ سیاسی شعور کے ساتھ ساتھ ان لوگوں میں اہم تبدیلی ممکن ہو سکے۔ ویل ناگہ بل سے انتخابات لڑ رہی 18 سالہ شمیمہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں بارہویں جماعت کا امتحان پاس کیا، لیکن اس دوران انہوں  نے جو مشکلات و مسائل جھیلے ان کا ازالہ ممکن بنانے کی خاطر اس کو سیاست ہی واحد سہارا لگا اور اس لئے وہ ان انتخابات میں کود پڑیں۔ ایک اور ڈی ڈی سی امیدوار شاذیہ کا کہنا ہے کہ گوجر بکروال طبقے نے ہمیشہ جموں وکشمیر میں انتخابات کا ساتھ دیا اور تقریباً ہر سیاسی جماعت پر بھروسہ جتا کر ان کے لیڈران کے حق میں ووٹ دیئے، لیکن بعد میں وہی سیاستدان پانچ برس تک ان پسماندہ علاقوں کا رخ نہیں کرتے ہیں اور جب انتخابات کا وقت نزدیک آتا ہے تو ان لوگوں کو پھر ایک بار وہی سیاست دان شیشے میں اتارتے ہیں۔

شاذیہ کے مطابق آج ڈیجیٹل انڈیا کی بات ہو رہی ہے، لیکن ان پسماندہ طبقات کے لوگوں کے لئے بجلی سڑک اور پانی آج بھی بنیادی مدعا ہے اور انٹرنیٹ ان سے اب بھی دور ہے۔ شاذیہ نے مزید کہا کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں خواتین کی ریزرویشن ایک خوش آئند قدم ہے، جس کی رو سے اب گوجر بکروال اور پہاڑی طبقات کی خواتین بھی سیاسی طور پر با اختیار بن جائیں گے اور اپنے علاقوں کی تقدیر بدلنے کی اہل بن جایئں گی۔ شاذیہ نے کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان طبقات کے لوگ روایتی اور جذباتی سیاست سے ہٹ کر عقل سے کام لیں۔ ایس ٹی طبقات کے لوگوں کے مطابق، جہاں ان کا سیاسی استحصال ہوا ہے۔ وہیں ان کی معاشی حالت بھی قابل ترس ہے، جس میں سدھار لانے کے لئے اب ڈی ڈی سی انتخابات ایک نیا ذریعہ ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اپنے طبقات سے سیاسی نمائندے چن کر یہ لوگ سرکاری ایوانوں میں اپنی صحیح اور اصل نمایندگی کو پروان چڑھا سکیں گے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 04, 2020 10:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading