ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : لولاب کپوارہ میں ڈوبنے سے دو معصوم بچوں کی موت ، علاقہ میں غم کی لہر

Jammu and Kashmir News : ان دونوں دلخراش واقعات کو لے کر پورے علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی ہے اور لوگوں نے فوری طور پر ان تالابوں پر دیوار بندی کا مطالبہ کیا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ معمولی سی پھسلن کے باعث بھی کم عمر بچے اس میں گر کر اپنی جان گنوا بیھتے ہیں اور کھلے تالاب اب موت کا کنواں ثابت ہورہے ہیں ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر  : لولاب کپوارہ میں ڈوبنے سے دو معصوم بچوں کی موت ، علاقہ میں غم کی لہر
جموں و کشمیر : لولاب کپوارہ میں ڈوبنے سے دو معصوم بچوں کی موت ، علاقہ میں غم کی لہر

کپوارہ : کپوارہ ضلع کے لولاب علاقہ میں دو الگ الگ دلخراش واقعات میں دو کمسن بچوں کی ڈوب کر موت ہوگئی ، جس کے باعث پورے علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی اور متاثرین پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ کھلے تالابوں میں پیش آئے ان واقعات کے بعد لوگوں نے ان کی دیوار بندی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق درجہ حرارت میں زبردست اضافے کے دوران دور دراز دیہات میں بچے ندی نالوں کے ساتھ ساتھ تالابوں میں بھی نہاتے دیکھے جاتے ہیں اور اس دوران کئی ایک حادثات بھی پیش آتے رہے ہیں ۔


بتایا جاتا ہے کہ دیور لولاب علاقہ میں واقع ایک تالاب میں یاور منظور گنائی ولد منظور احمد گنائی ڈوب گیا اوراس کی خبر پھیلتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد تالاب کے نزدیک پہنچ گئی اور ڈوبنے والے دس سالہ معصوم بچے کو بچانے کی زبردست کوشش کی ۔ چنانچہ کچھ دیر کے بعد اس کو پانی سے نیم مردہ حالات میں نکالا گیا اور اسے فوری طور پر نزدیکی ہیلتھ سینٹر پر پہنچانے کی کوشش کی گئی ، تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا ۔ اس کی لاش علاقہ میں پہنچتے ہی کہرام مچ گیا اور لواحقین اور متاثرین غم سے نڈھال ہو گئے ۔ اس سلسلے میں پولیس نے ایک کیس بھی درج کر لیا ہے ۔


وہیں ابھی یہ خبر علاقہ میں گشت ہی کر رہی تھی کہ اسی دوران دوسرا دلخراش واقعہ رونما ہوگا اور اس کی خبر بھی پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ پندرہ سالہ آصف احمد خان ولد عاشق احمد خان ساکن چندی گام نامی لڑکا بھی بڈسر نامی نالے میں ڈوب گیا اور اس کی لاش کو نکالنے کیلئے مقامی لوگوں کی کوششیں کم پڑ گئیں جس کے بعد ایس ڈی ایف ، پولیس اور مقامی آرمی یونٹ کی مدد سے تالاب سے بچے کی لاش نکالی گئی ۔


ان دونوں دلخراش واقعات کو لے کر پورے علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی ہے اور لوگوں نے فوری طور پر ان تالابوں پر دیوار بندی کا مطالبہ کیا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ معمولی سی پھسلن کے باعث بھی کم عمر بچے اس میں گر کر اپنی جان گنوا بیھتے ہیں اور کھلے تالاب اب موت کا کنواں ثابت ہوگیا ہے ۔ لہذا ان کی دیوار بندی لازمی بن گئی ہے ۔

ڈپٹی کمشنر کپواڑہ امام الدین نے افسران کی ٹیم کے ہمراہ متاثرین کا دورہ  اور لواحقین کے ساتھ کی اظہار تعزیت ۔ ڈپٹی کمشنر کپواڑہ امام الدین نے اسے ایک المناک سانحہ قرار دیا اور کہا کہ  تالابوں کی دیوار بندی کیلے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 13, 2021 11:56 PM IST