ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں ایئرفورس اسٹیشن پر ڈرون حملہ کو دفاعی ماہرین نے بتایا سنگین مسئلہ ، حکومت کو دیا یہ اہم مشورہ

Jammu and Kashmir News : دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی برس سے جموں و کشمیر میں تخریبی کاروائیاں انجام دینے کے لئے کنٹرول لائن اور سرحد کے قریب ڈرون کا استعمال کرتا آیا ہے۔

  • Share this:
جموں ایئرفورس اسٹیشن پر ڈرون حملہ کو دفاعی ماہرین نے بتایا سنگین مسئلہ ، حکومت کو دیا یہ اہم مشورہ
جموں ایئرفورس اسٹیشن پر ڈرون حملہ کو دفاعی ماہرین نے بتایا سنگین مسئلہ ، دیا یہ اہم مشورہ (ANI Twitter/27 June 2021)

جموں و کشمیر : جموں کے ائیر فورس اسٹیشن پر 27 جون کو علی الصبح ڈیڑھ اور دو بجے کے درمیان جموں کے ٹیکنیکل ائیر پورٹ پر دو دھماکے ہوئے۔ دھماکے میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ تاہم  سخت حفاظتی بندوبست والے اس ائیر فورس کے احاطے میں ہوئے ان دھماکوں نے کئی سوالات کھڑے کردئے ہیں۔ ان دھماکوں  کی جانچ کا عمل جاری ہے ، تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ یہ حملہ کس طرح سے کیا گیا۔ ابتدائی اندازے کے مطابق اس حملے میں ڈرون کا استعمال کیا گیا ہے ۔  اس حملے میں ڈرون استعمال کئے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔  پاکستان کی طرف سے اگرچہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں  تخریبی کاروائیاں انجام دینے کا سلسلہ جاری ہے ۔ تاہم اس طرح کے دھماکے پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملے ۔


دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی برس سے جموں و کشمیر میں تخریبی کاروائیاں انجام دینے کے لئے کنٹرول لائن اور سرحد کے قریب ڈرون کا استعمال کرتا آیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار انیل گور کا کہنا ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی انٹلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی ڈرون کا استعمال کرکے ہتھیار اور منشیات ہندوستانی علاقے میں بھیجنے کی کوششیں کرچکا ہے ، جنہیں حفاظتی عملے نے ناکام بنا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سرحد اور کنٹترول لائن پر ہندوستان کی چوکسی کی وجہ سے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو ناکام بنایا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایس آئی نے اب یہ نئی حکمت عملی اختیار کی ہے ۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر میں ملٹینسی کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ خود کو اس کام میں ملوث ہونے کے داغ سے بچنے کی کوشش کے طور پر یہ نئی حکمت عملی اپنا کر ڈرون کا استعمال کر رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ  ڈرون کے ذریعہ حملہ انجام دینے کے پیچھے پاکستان کی یہ سوچ کار فرما ہے کہ وہ دُنیا کے سامنے یہ ثابت کرسکے کہ وہ ان دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہے ۔ انیل گور کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی کاروائیوں میں ڈرون کا استعمال ایک سنگین معاملہ ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی بریگیڈ سے ڈرون استعمال کرنے سے متعلق ہدایات جاری کی جاتی ہیں ، جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کی سرکار اور آئی ایس آئی اس نئی ٹیکنالوجی کو ہندوستان کے خلاف استعمال کرنے کے کتنے درپے ہے ۔


انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنائے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون کے ذریعہ کئے جانے والے حملوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ ناکام بنانے کی ضرورت ہے ۔ گور نے کہا کہ  ہندوستانی سرکار کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ پڑوسی ملک چین اور پاکستان  جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ کئی اور علاقوں میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے لئے نت نئے طریقے استعمال کرسکتا ہے ۔ لہذا ان خطرات کے پیش نظر ایک ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ، جس سے پاکستان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد اینٹی ڈرون سسٹم  نصب کرے ۔ کیپٹن انیل گور نے کہا کہ پاکستان میں منگلا کے مقام پر ایک ڈرون بریگیڈ قائم کیا ہے ، جہاں ڈرونز کی ٹیکنالوجی ، ان کا استعمال کرنے کی تربیت  وغیرہ کا کام انجام دیا جارہا ہے ۔

واضح رہے کہ ستائیس اور اٹھائیس جون کی درمیانی رات کو جموں کے کالوچک اور رتنوچک کے فوجی علاقہ میں میں نصف شب کے قریب دو ڈرون گشت کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ چوکس فوجی اہلکاروں نے ڈرونز کی حرکت دیکھتے ہی ان پر فائرنگ کی ، جس کے بعد وہ واپس جانے پرمجبور ہوئے ۔ معاملہ کی مزید جانچ کی جارہی ہے ۔

 
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 28, 2021 08:06 PM IST