உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : دفاعی ماہرین نے کہا : طالبان کی جیت کے بعد پوری دنیا کو ہونا پڑے گا متحد

    جموں و کشمیر : دفاعی ماہرین نے کہا : طالبان کی جیت کے بعد پوری دنیا کو ہونا پڑے گا متحد ۔ فائل فوٹو ۔

    جموں و کشمیر : دفاعی ماہرین نے کہا : طالبان کی جیت کے بعد پوری دنیا کو ہونا پڑے گا متحد ۔ فائل فوٹو ۔

    Jammu and Kashmir : ایس پی وید نے کہا کہ اگر طالبان اپنی زمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال کرنے دے گا تو اس کے اثرات نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پوری دنیا میں دیکھنے کو ملیں گے ۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیمیں اب متحد ہو گئی ہیں اور وہ جموں و کشمیر میں حالات خراب کرنے کیلئے آسکتی ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    جموں : طالبان نے جب سے افغانستان پر قبضہ کیا ہے ، پوری دنیا میں اور خاص کر ہمسایہ ممالک میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔  ہندوستان طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد پوری طرح سے فکرمند دکھ رہا ہے اور ابھی تک یہ یہ بات واضح نہیں ہوسکی ہے کہ ہندوستان کا طالبان بننے والی نئی سرکار  کے کیسا رشتہ ہوگا ۔ اگر طالبان کے افغانستان پر 1996 میں ہوئے قبضے کی بات کریں تو ان کے ساتھ ہندوستان کا رشتہ ٹھیک نہیں رہا تھا اور طالبان کے دور میں کافی ایسی چیزیں ہوئی تھیں ، جس کی وجہ سے رشتے میں تلخی تھی ، جس میں کرگل جنگ  ،قندھار ہائی جیکنگ شامل ہے ۔

    جموں و کشمیر کے سابق ڈی جی پی ایس پی وید سے جب نیوز 18 نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ طالبان نے اب پنج شیر پر بھی قبضہ کرنے کا دعوی کیا ہے اور اس سے لگتا ہے کہ پورا افغانستان طالبان کے قبضے میں آگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو ابھی اپنی سرکار بنانی ہے اور ظاہری طور پر طالبان اب  ٹرائیبل گروپوں میں سے نوجوانوں کو اٹھا کر اپنے ساتھ شامل کرے گا اور ایسا بھی لگتا ہے کہ اب طالبان جلدی ہی اپنی سرکار بنا لے گا ۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا سربراہ بھی وہیں پر ہے اور وہ ان کو سرکار بنانے میں مدد کرے گا ۔

    ایس پی وید نے مزید کہا کہ وہاں جو حقانی گروپ ہے ، طالبان کے ساتھ اس کے رشتے اچھے نہیں ہیں ۔ دونوں ہی گروپ سرکار میں اپنے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کی کوشش کریں گے اور پاکستان اس میں ان کا پورا ساتھ دے رہا ہے ۔ قابلِ ذکر ہے 1996 میں جب پہلی مرتبہ طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت طالبان نے سب سے زیادہ مظالم خواتین پر کئے تھے ، لیکن اب طالبان یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ خواتین کو پڑھنے لکھنے اور نوکری کرنے کی پوری اجازت دے گا ۔ اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ خواتین کے ساتھ طالبان کا کیسا برتاؤ رہتا ہے ۔

    گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے وید نے کہا کہ اگر طالبان ہندوستان کے ساتھ اچھے رشتے بنائے رکھنا چاہتا ہے تو ہندوستان کی طرف سے ایک شرط رکھی جانی چاہئے کہ طالبان اپنی زمین پر کسی بھی طرح کی ہندوستان مخالف دہشت گردی کو پنپنے نہیں دے گا ۔ خاص طور پر آئی ایس آئی ، لشکراور القاعدہ جیسی ہندوستان مخالف تنظیموں کو وہاں پناہ نہیں دے گا ۔ تبھی ہندوستان اور طالبان کے درمیان رشتے اچھے ہوسکتے ہیں ۔

    ایس پی وید نے کہا کہ اگر طالبان اپنی زمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال کرنے دے گا تو اس کے اثرات نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پوری دنیا میں دیکھنے کو ملیں گے ۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیمیں اب متحد ہو گئی ہیں اور وہ جموں و کشمیر میں حالات خراب کرنے کیلئے آسکتی ہیں ، اسی لئے جموں و کشمیر کی سرحد پر سیکورٹی بڑھا دینی چاہئے ۔ حالانکہ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کشمیر معاملہ میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے ملک میں جہالت دور کرے گا ، روزگار کے وسائل کھولے گا اور اپنے ملک کی ترقی کے لئے کام کرے گا ۔ لیکن اس بات پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ جو ہندوستان مخالف تنظیمیں ہیں وہ اُن کو یہ سب کرنے سے روکیں گی۔

    ادھر کیپٹن انیل گوہر نے کہا سرحد پر سیکورٹی کو مزید بڑھانا پڑے گا ۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بھی اور تیز حرکت میں آنا پڑے گا ، کیونکہ طالبان کی جیت کے بعد پاکستان بوکھلا گیا ہے ۔ وہاں کے سیاستداں ہندوستان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں اور اس کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا ۔ ہماری جو انٹرنل سیکورٹی اور ایکسٹرنل سیکورٹی ہے ، اس کو مزید بڑھانا پڑے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: