உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر حد بندی کمیشن نے اپنے ایسوسی ایٹ ممبران کی طرف سے دی گئی کچھ تجاویز کو قبول کیا

    جموں وکشمیر حد بندی کمیشن نے اپنے ایسوسی ایٹ ممبران کی طرف سے دی گئی کچھ تجاویز کو قبول کیا

    جموں وکشمیر حد بندی کمیشن نے اپنے ایسوسی ایٹ ممبران کی طرف سے دی گئی کچھ تجاویز کو قبول کیا

    عہدیداروں نے بتایا کہ حد بندی کمیشن نے جموں وکشمیر کے مرکزکے زیر انتظام علاقے سے تعلق رکھنے والے پانچ ایسوسی ایٹ ممبران بشمول نیشنل کانفرنس کے لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ فاروق عبداللہ، حسنین مسعودی اور اکبر لون اور بی جے پی ممبران پارلیمنٹ جتیندر سنگھ اور جگل کشور کی طرف سے دی گئی کچھ تجاویز کو قبول کیا ہے۔

    • Share this:
    سری نگر: عہدیداروں نے بتایا کہ حد بندی کمیشن نے جموں وکشمیر کے مرکزکے زیر انتظام علاقے سے تعلق رکھنے والے پانچ ایسوسی ایٹ ممبران بشمول نیشنل کانفرنس کے لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ فاروق عبداللہ، حسنین مسعودی اور اکبر لون اور بی جے پی ممبران پارلیمنٹ جتیندر سنگھ اور جگل کشور کی طرف سے دی گئی کچھ تجاویز کو قبول کیا ہے۔ حد بندی کمیشن کی آج دہلی میں میٹنگ ہوئی، جس میں جموں وکشمیر کے ممبران پارلیمنٹ کی تجاویز پر غور کیا گیا جو کہ پینل کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔

    اس میٹنگ کی صدارت جسٹس (ریٹائرڈ) رنجنا پرکاش دیسائی نے کی اور اس میں چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا، جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے سربراہ اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے چیف الیکٹورل آفیسر نے شرکت کی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ حد بندی کمیشن نے آج اپنی میٹنگ میں پانچ ایسوسی ایٹ ممبران کی طرف سے دی گئی تجاویز پر طویل بحث کی۔

    ایک اہلکار نے کہا "ہم نے نقطہ نظر سے بات کی تھی۔ وسیع بحث کے بعد، کمیشن نے پانچ ایسوسی ایٹ ممبران کی طرف سے دی گئی کچھ تجاویز کو قبول کرلیا ہے۔  اب ہم ایسوسی ایٹ ممبران کے پاس واپس جائیں گے اور آج ہونے والے فیصلے سے آگاہ کریں گے‘‘۔

    ایسوسی ایٹ ممبران کی تجاویز 14 فروری کو حد بندی کمیٹی کو پیش کی گئیں۔ ایسوسی ایٹ ممبران سے کہا گیا کہ وہ حد بندی کمیشن کی تیار کردہ رپورٹ کے مسودے پر اپنی تجاویز دیں جس کی وہ مخالفت کر رہے تھے۔

    سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا اور جے کے الیکشن کمیشن کے سربراہ کے کے شرما کے ساتھ حد بندی کمیشن 6 مارچ 2020 کو قائم کیا گیا تھا، اور اسے گزشتہ سال ایک سال کی توسیع دی گئی تھی۔  اس ماہ کے شروع میں، جموں و کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی دوبارہ تشکیل کی مشق کو مکمل کرنے کے لیے اسے 6 مئی تک دو ماہ کی توسیع دی گئی تھی۔

    مرکز نے مدت میں توسیع کردی
    6 مارچ 2020 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے کمیشن کو دو ماہ تک کی توسیع کردی ہے۔ وزارت قانون وانصاف کے ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن میں پیراگراف 2 میں الفاظ، 'دو سال' کے لئے، 'دو سال اور دو ماہ' کے الفاظ بدلے جائیں گے۔

    اب، پینل کی مدت 6 مئی کو ختم ہو جائے گی۔ حد بندی کمیشن نے گزشتہ سال 18 فروری اور 20 دسمبر کو ایسوسی ایٹ ممبران کے ساتھ دو میٹنگیں کی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے تینوں ممبران پارلیمنٹ نے پہلی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ وہیں دوسری میٹنگ میں شریک ہوئے۔ حد بندی کمیشن کی ابتدائی تجویز کے مطابق، جموں خطہ میں نشستوں کی تعداد موجودہ 37 سے بڑھا کر 43 کردی جائے گی، جبکہ کشمیر میں ایک اضافی نشست ہوگی، جس سے اس کی تعداد موجودہ 46 سے بڑھ کر 47 ہوگئی ہے۔

    حکومت کی طرف سے 9 اگست 2019 کو مطلع کردہ جموں اور کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 نے دو مرکزکے زیر انتظام علاقوں جموں وکشمیر کے قیام کی راہ ہموارکی ہے، جس میں اس کے بغیر مقننہ اور لداخ ہوں گے۔ ایکٹ یہ فراہم کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی قانون ساز اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 107 سے بڑھا کر 114 کی جائے گی، اور حلقوں کی حد بندی کا تعین الیکشن کمیشن کرے گا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: