ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کورونا وائرس کا ٹیکہ لگوانے کے باوجود کشمیری نزاد ڈاکٹر کووڈ 19 پازیٹیو ، ڈاکٹرس بھی رہ گئے حیران

اسپتال کے صدر شعبہ امراض سینہ پروفیسر نوید نذیر کا کہنا ہے کہ کشمیر میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے ۔ اُن کے مطابق یہ کووڈ کا تغیر شدہ وائرس ہوسکتا ہے ۔

  • Share this:
کورونا وائرس کا ٹیکہ لگوانے کے باوجود کشمیری نزاد ڈاکٹر کووڈ 19 پازیٹیو ، ڈاکٹرس بھی رہ گئے حیران
کورونا وائرس کا ٹیکہ لگوانے کے باوجود کشمیری نزاد ڈاکٹر کووڈ 19 پازیٹیو ، ڈاکٹرس بھی رہ گئے حیران

متحدہ عرب امارات میں کام کررہے سرینگر کے ایک ڈاکٹر جنوری میں گھر لوٹے تھے ۔ گھر لوٹنے کے کچھ دنوں کے بعد وہ سخت بیمار ہوگئے۔ انہیں سرینگر کے چیسٹ ڈیزیزز اسپتال میں داخل کروایا گیا۔ ان میں کووڈ کی علامات کی وجہ سے جب اُن کی جانچ کرائی گئی تو پتہ چلا کہ وہ کووڈ 19 سے متاثر ہیں ۔ رپورٹ سامنے آتے ہی بیمار ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ اسپتال کے ماہرین بھی حیرت میں پڑ گئے ۔ کیونکہ مریض نے متحدہ عرب امارات میں کووڈ ویکسین کے دونوں ڈووز لئے تھے ۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ رہی کہ اُن کے جسم میں کووڈ اینٹی باڈیز یعنی کووڈ سے لڑنے کے خلیے بھی موجود تھے ۔


اسپتال کے صدر شعبہ امراض سینہ پروفیسر نوید نذیر کا کہنا ہے کہ کشمیر میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے ۔ اُن کے مطابق یہ کووڈ کا تغیر شدہ وائرس ہوسکتا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ جینیاتی جانچ کے لئے نمونے دہلی بھیج دئے گئے ہیں ، لیکن دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ابھی تک رپورٹ نہیں آئی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جینیاتی تبدیلی کرکے کووڈ وائرس اینٹی باڈیز کو چکمہ دے سکتا ہے اور ایسا ویکسین کے ذریعے حاصل ہونے والی مدافعت کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔


اسکمز سرینگر کے ماہر پروفیسر پرویز کول کہتے ہیں کہ کووڈ کے ٹیکے کتنے اثر دار ہیں ، اس کے بارے میں پوری دُنیا میں ابھی بھی جانچ چل رہی ہے ۔ لہذا کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ کشمیر ایک سیاحتی مقام ہے ، جہاں پر دُنیا بھر کے سیاح آتے ہیں ۔ ایسے میں تغیر شدہ (mutated virus) کے پھیلنے کا اندیشہ زیادہ ہے ۔


مرکزی وزارت صحت نے جموں کشمیر کو بھی ایسی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی فہرست میں رکھا ہے جہاں کووڈ کے معاملات بڑھ رہے ہیں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 02, 2021 11:10 PM IST