உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلح تصادم میں لشکر طیبہ کے ضلع کمانڈر گلزار احمد ریشی اور عادل سمیت چار دہشت گرد مارے گئے

    جموں وکشمیر

    جموں وکشمیر

    پولیس نے مہلوک دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت عادل احمد وانی کے بطور کی گئی ہے جو اس کے مطابق پلوامہ کے لتر علاقے میں اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک ترکھان کی ہلاکت میں ملوث تھا۔

    • Share this:
      سری نگر: جموں و کشمیر پولیس نے بدھ کو جنوبی کشمیر کے کولگام اور شوپیاں اضلاع میں لشکر طیبہ کے ضلع کمانڈر سمیت چار دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے بتایا کہ کولگام کے سوپٹ علاقے میں بدھ کی شام ہونے والی ایک مختصر مسلح تصادم میں لشکر طیبہ کے ضلع کمانڈر گلزار احمد ریشی سمیت دو دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہلوک دہشت گرد  وانپوہ میں بہار سے تعلق رکھنے والے دو غریب مزدوروں کی ہلاکت میں ملوث تھے۔ قبل ازیں ضلع شوپیاں کے درگڈ علاقے میں بدھ کی صبح سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان چھڑنے والے مسلح تصادم میں دو جنگجو اور ایک فوجی جوان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو فوجی زخمی ہو گئے۔
      پولیس نے مہلوک دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت عادل احمد وانی کے بطور کی گئی ہے جو اس کے مطابق پلوامہ کے لتر علاقے میں اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک ترکھان کی ہلاکت میں ملوث تھا۔ وجے کمار نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ شوپیاں تصادم میں مارا جانے والا عادل احمد وانی اترپردیش کے سہارنپور سے تعلق رکھنے والے صغیر احمد انصاری ولد بندو حسین انصاری کی ہلاکت میں ملوث تھا ۔ انہوں نے کہا کہ عادل لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم ٹی آر ایف سے وابستہ تھا اور ضلع شوپیاں کا کمانڈر تھا۔


      اس سے پہلے انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا: 'شوپیاں تصادم میں ہلاک ہونے والے دو دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت عادل احمد وانی کے بطور ہوئی ہے جو جولائی 2020 سے سرگرم تھا مہلوک جنگجو پلوامہ کے لتر علاقے میں ایک غریب مزدور کی ہلاکت میں ملوث تھا'۔ ان کا اس ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اب تک 15 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔


      پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس تصادم میں تین فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ کر دم توڑ بیٹھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کے چھپنے کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کی ایک مشترکہ ٹیم نے چیر باغ درگڈ کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کر دیا۔
      انہوں نے بتایا کہ جوں ہی تلاشی آپریشن کی ایک ٹیم ایک مشتبہ مقام کے نزدیک پہنچی تو وہاں چھپے دہشت گردوں کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا گیا لیکن انہوں نے اس کی بجائے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان تصادم چھڑ گیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: