ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: شوپیاں میں سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے تصادم، ایک دہشت گرد ہلاک

جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) کے شوپیاں (Shopian) ضلع کے راول پورا علاقے میں ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں نے ایک دہشت گرد کو مار گرایا گیا ہے۔ ابھی بھی علاقے سے گولیوں کی آواز سنی جاسکتی ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: شوپیاں میں سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے تصادم، ایک دہشت گرد ہلاک
جموں وکشمیر: شوپیاں میں سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے تصادم، ایک دہشت گرد ہلاک

سری نگر: جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) کے شوپیاں (Shopian) ضلع کے راول پورا علاقے میں ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں (Indian Security Forces) کے جوانوں اور دہشت گردوں کے درمیان ہفتہ کی شام سے ہی تصادم (Encounter) جاری ہے۔ ابھی تک کی جانکاری کے مطابق، علاقے میں دو سے تین دہشت گرد چھپے ہوئے تھے، جس میں سے ایک دہشت گرد کو مار گرایا گیا ہے۔ ابھی بھی علاقے سے گولیوں کی آواز سنی جاسکتی ہے۔ مقامی لوگوں سے گھروں سے باہر نہ نکلنے کی اپیل کی گئی ہے۔


موصولہ اطلاع کے مطابق، ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کچھ دہشت گرد شوپیاں کے راول پورا علاقے میں پوشیدہ ہیں۔ خفیہ جانکاری کی بنیاد پر ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں نے مقامی پولیس کی مدد سے علاقے میں گھیرا بندی کی۔ خود کو گھرتا ہوا دیکھ کر ایک گھر میں چھپے دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی۔ ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں کو خود سپردگی کرنے کو کہا، لیکن دہشت گردوں نے فائرنگ جاری رکھی۔ رات کے وقت گولیوں کی آواز سے اندازہ لگایا گیا تھا کہ علاقے میں دو سے تین دہشت گرد چھپے ہوسکتے ہیں۔


ابھی تک کی جانکاری کے مطابق، دہشت گردوں کے ایک ساتھی کو مارا جا چکا ہے۔ ابھی بھی دونوں طرف سے فائرنگ کی جا رہی ہے۔ صبح کے وقت لوگوں سے گھروں سے باہر نہیں نکلنے کی اپیل کرتے ہوئے گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند کرنے کو کہا گیا ہے،


حزب الجماہدین سے منلک 7 مشتبہ شوپیاں سے گرفتار

جموں وکشمیر کے شوپیاں ضلع سے دہشت گرد تنظیم حزب الجماہدین سے منسلک 7 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کے لئے کام کرنے والے 7 لوگوں کو شوپیاں پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق، گرفتار لوگوں کے پاس سے قابل اعتراض اشیا برآمد کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور جانچ جاری ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 14, 2021 08:24 AM IST