உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں-کشمیر: شوپیاں سیکٹر میں دہشت گردوں اور سیکورٹی فورس کے درمیان انکاؤنٹر جاری

    سیکورٹی فورس کو خفیہ جانکاری ملی تھی کہ شوپیاں سیکٹر کے چیک چولینڈ علاقے میں کچھ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔

    سیکورٹی فورس کو خفیہ جانکاری ملی تھی کہ شوپیاں سیکٹر کے چیک چولینڈ علاقے میں کچھ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔

    معلومات کے مطابق سیکورٹی فورس کو خفیہ جانکاری ملی تھی کہ شوپیاں سیکٹر کے چیک چولینڈ علاقے میں کچھ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں اور کسی بڑی دہشت گردانہ کارروائی کو انجام دینے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔

    • Share this:
      سرینگر: جموں۔کشمیر (Jammu-Kashmir) کے شوپیاں سیکٹر (Shopian Sector) کے چیک چولینڈ علاقے میں دہشت گردوں (Terrorists) اور سیکورٹی فورس کے درمیان انکاؤنٹر شروع ہوچکا ہے۔ ابھی تک کی خبر کے مابق، سیکورٹی فورس نے علاقے میں دو سے تین دہشت گردوں کو گھیر کر رکھا ہوا ہے اور دونوں جانب سے فائرنگ جاری ہے۔ صبح سے جاری اس انکاونٹر میں ابھی تک کسی بھی دہشت گرد کے پکڑے جانے یا پھر مارے جانے کی خبر نہیں آئی ہے۔ مقامی لوگوں سے اپنے گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے کی اپیل کی جارہی ہے۔

      معلومات کے مطابق سیکورٹی فورس کو خفیہ جانکاری ملی تھی کہ شوپیاں سیکٹر کے چیک چولینڈ علاقے میں کچھ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں اور کسی بڑی دہشت گردانہ کارروائی کو انجام دینے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ خفیہ جانکاری کی بنیاد پر سیکورٹی فورس نے مقامی پولیس کے ساتھ مل کر ایک ٹیم تیار کی اور علاقے کو گھیر لیا۔ سیکورٹی فورس نے دہشت گردوں کو خودسپرد کرنے کو کہا لیکن دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی۔

      دہشت گردوں کی فائرنگ کرنے کے بعد ہندوستانی سیکورٹی فورس نے بھی فائرنگ کردی ہے۔ ابھی تک کی خبر کے مطابق علاقے میں دو سے تین دہشت گرد چھپے ہوسکتے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی دہشت گرد کے مارے جانے یا پکڑے جانے کی جانکاری نہیں ملی ہے۔

      بتادیں کہ 15 نومبر تک جموں کشمیر میں 196 دہشت گردانہ حملے ہوچکے ہیں، جو گزشتہ تین سالوں میں سب سے کم ہیں۔ وہیں اس سال شہید جوانوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ جموں کشمیر میں پچھلے تین سالوں کے دوران دہشت گردانہ حملوں کے 1،033 واقعات ہوئے ہیں اور اُن میں سے سب سے زیادہ 594 واقعات 2019 میں درج کیے گئے تھے۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: