உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ آگ کی نذر، کشمیر میں اگ کی بڑھتی واردات کو لے کر چہ مگوئیاں

    J&K News: پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ آگ کی نذر، کشمیر میں اگ کی بڑھتی واردات کو لے کر چہ مگوئیاں

    J&K News: پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ آگ کی نذر، کشمیر میں اگ کی بڑھتی واردات کو لے کر چہ مگوئیاں

    Jammu and Kashmir : جموں و کشمیر میں آگ کی واردات کا سلسلہ تھمتا نظر نہیں آرہا ہے۔ تازہ معاملہ میں پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ سرینگر میں آگ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے آدھی عمارت آگ کی نذر ہوگئی۔

    • Share this:
    سرینگر : جموں و کشمیر میں آگ کی واردات کا سلسلہ تھمتا نظر نہیں آرہا ہے۔ تازہ معاملہ میں پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ سرینگر میں آگ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے آدھی عمارت آگ کی نذر ہوگئی۔ یہ واقعہ گزشتہ روز علی الصبح پیش آیا ۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کشمیر کے جوائنٹ ڈائریکٹر بشیر احمد شاہ نے بتایا کہ آگ کی خبر ملتے ہی فائر سروسز کا آگ بجھانے والا عملہ وہاں پہنچا ، لیکن آگ اتنی تیز تھی کہ آگ کو قابو میں لانے تک آدھی عمارت  تباہ ہوگئی۔ پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ کی یہ عمارت دو منزلہ ہے اور اوپر والی منزل سے آگ نمودار ہوئی اور لکڑی کی کثرت کی وجہ سے آگ جلد ہی پوری منزل میں پھیل گئی ، لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: آئی جی پی کشمیر وجےکمارکا بڑا دعویٰ- کشمیرمیں سرگرم تمام پرانے دہشت گردوں کا خاتمہ


    فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے عہدیداروں کے مطابق یہاں آگ لگنے کے بعد کچھ دھماکے بھی ہوئے جو غالبا گیس سلنڈروں کی وجہ سے ہوئے۔ آگ کی وجوہات کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک دن قبل ہی پولیس اسٹیشن کے متصل ٹریفک پولیس ہیڈ کوارٹر میں آگ لگی اور وہاں بھی کافی نقصان ہوا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں وکشمیر میں سرنگ گرنے کے بعد ایک اورحادثہ، دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑکا ایک حصہ گرا


    کشمیر میں پچھلے چار مہینے میں ہی آگ کی 866 وارداتیں درج کی گئی ہیں، جن میں سے صرف سرینگر ضلع میں 200 سے زائد واردات رونما ہوئیں۔ جنوری سے اپریل تک 45 کروڑ روپے کی مالیت کی املاک آگ کی نذر ہوئی ہیں۔

    آگ کی بڑھتی واردات پر کئی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں ، لیکن محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی نے ان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ زیادہ تر بجلی کے نا مناسب استعمال کی وجہ سے لگتی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: