ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : حضرت سید باقر رضوی کی 700 سالہ قدیم تاریخی زیارت شریف میں لگی آگ

سید باقر وادی کشمیر کے بڑے مبلغین اور اکابرین میں شمار ہوتے ہیں ۔ تاریخی کتب کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ 798 ہجری میں سید باقر رضوی وارد کشمیر ہوئے تھے اور مولہ شولہ میں قیام پذیر ہوئے تھے اور پھر یہی مدفون بھی ہوئے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : حضرت سید باقر رضوی کی 700 سالہ قدیم تاریخی زیارت شریف میں لگی آگ
جموں و کشمیر : حضرت سید باقر رضوی کی 700 سالہ قدیم تاریخی زیارت شریف میں لگی آگ

وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے مولہ شولہ بیروہ میں 700 سالہ قدیم عارف باللہ مبلغ دین حضرت سید باقر رضوی  رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخی زیارت شریف آگ کی ایک ہولناک واردات میں پوری طرح خاکستر ہو گئی ۔ مقامی لوگوں نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ مولہ شولہ میں قائم زیارت شریف میں اچانک آگ کے شعلے نمودار ہوئے ، جس کو دیکھتے ہی مقامی لوگ اپنے گھروں سے باہر آئے اور زیارت کی  جانب دوڑ پڑے ۔ زیارت شریف میں لگی آگ کو بجھانے کی انتھک کوششیں کی گئیں ، لیکن آگ کی شدت اتنی تھی کہ فوراً پورے آستان کواپنی لپیٹ میں لے لیا  اور پوری زیارت راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ۔


لوگوں کا کہنا ہے اس  وقت انہوں نے فائر اینڈ ایمرجنسی سروس اور جموں و کشمیر پولیس  کے اہلکاروں کو فون پر رابطہ کیا ، لیکن جب تک وہ جائے حادثہ پر پہنچے ، تب تک  زیارت شریف راکھ کے ڈھیر میں تبدلی ہوچکی تھی ۔ مولہ شولہ کے لوگوں نے بتایا کہ رابطہ سڑک کی خستہ حالی کی وجہ سے فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کی گاڑی بر وقت جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکی ، جس پر مقامی لوگوں میں کافی غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ لوگ رابطہ سڑک  پر میکڈم بچھانے کا  سرکار سے مطالبہ کررہے ہیں ۔


واضح رہے کہ مولہ شولہ میں مدفون سید باقر وادی کشمیر کے بڑے مبلغین اور اکابرین میں شمار ہوتے ہیں ۔ تاریخی کتب کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ 798 ہجری میں سید باقر رضوی وارد کشمیر ہوئے تھے اور مولہ شولہ میں قیام پذیر ہوئے تھے اور پھر یہی مدفون بھی ہوئے ۔ مولہ شولہ میں ہر مکتب فکر کے لوگ ان کے آستانہ پر حاضری دینے کیلئے آتے تھے ۔ مولہ شولہ میں یہ زیارت روحانی فیض حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ  زیارت شریف اسلامی طرز تعمیر کا ایک نادر و نایاب نمونہ تھا ، جو کشمیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت شیخ  نور الدین ولی کے شہید شدہ روضہ سے من وعن ملتا جلتا تھا ۔ یہ خاص طرز تعمیر کشمیر میں دور سلاطین کا ایک یادگار نمونہ  تھا ۔


بتایا جاتا ہے کہ سید باقر نے اپنی ساری زندگی  دین حق کی تبلیغ اور اس کی نشر و اشاعت میں صرف کی ۔ روحانی اور باطنی کمالات کے ساتھ ساتھ ان کی تصنیف و تالیف بھی کافی مشہور ہیں ۔ ان کی ایک مشہور ومعروف کتاب "کتاب النور" علمی حلقوں میں کافی اہم کتاب مانی جاتی ہے ۔ مولہ شولہ میں ان کی زیارت گاہ پر مجالس عزاء کا بھی اہتمام  ہوتا تھا ۔ لوگ زیارت شریف میں آگ کی واردات کو ایک بڑے صدمے اور سانحہ سے تعبیر کر رہے ہیں ۔
First published: Jun 27, 2020 06:49 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading