உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News : تیزی سے ناپید ہورہے ہانگُل کیلئے برفباری کے دوران میسر کی جارہی ہے غذا

    J&K News : تیزی سے ناپید ہورہے ہانگُل کیلئے برفباری کے دوران میسر کی جارہی ہے غذا

    J&K News : تیزی سے ناپید ہورہے ہانگُل کیلئے برفباری کے دوران میسر کی جارہی ہے غذا

    Jammu and Kashmir : ہانگُل جموں کشمیر ریاست کا ریاستی جانور قرار پایا تھا اور اب یو ٹی کا جانور ہے لیکن یہ خوبصورت  اور حساس جانور اب صرف  کشمیر کی نیشنل پارک داچھی گام نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے۔

    • Share this:
    سری نگر : داچھی گام نیشنل پارک سرینگر کے نچلے حصے میں بلوط کے درختوں کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس حصہ میں آج کل کئی جگہ سبزی، سوکھے پتوں کے ڈھیر اور کہیں کہیں درختوں سے لٹکی نمک کی ڈالیاں دکھائی دیں گی۔ اگر آپ کی قسمت اچھی ہو تو آپ کو اس حصہ میں دنیا میں تیزی سے ناپید ہورہے خوبصورت جنگلی جانور ہانگل کے جھنڈ بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ ہانگل جو اب داچھی گام نیشنل پارک سرینگر کے سوا کہیں موجود نہیں ، عام طور پر 141 مربع کلو میٹر میں پھیلے اس نیشنل پارک کے بالائی حصہ میں رہتا ہے ، لیکن سرما میں برفباری سے جب کھانے کی کمی ہوتی ہے تو یہ پارک کے نچلے حصہ میں آجاتے ہیں۔

    محکمہ وائلڈ لائف جموں و کشمیر کے اہلکار اس حصہ میں ان کے لئے مختلف جگہوں پر ایک طرح سے فوڈ پوائنٹس بناتے ہیں ، جہاں پر آکر یہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں آکر سبزی، پتے، اور دیگر چیزیں کھاتے ہیں۔ وائلڈ لائف محکمہ کے عہدیداروں کے مطابق ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ ناپید ہورہے ہانگل  بھوک مری کے شکار نہ ہوں۔ چونکہ سرما میں ہانگل کو معدنیات کی بھی ضرورت پڑتی ہے ، اس لئے نمک کی ڈالیاں بھی میسر رکھی جاتی ہیں اور جب یہ نمک کو چاٹتی ہیں تو نظارہ دیکھنے لائق ہوتا ہے۔

    یہ نظارہ سب کو نصیب نہیں ہوتا۔ آپ کو دن بھر کے انتظار کے بعد ہی ایسا دیکھنے کو ملے گا ، کیونکہ ہانگل بہت ہی حساس جانور ہے اور معمولی آواز سنتے ہی بھاگ جاتا ہے۔ حالانکہ محکمہ وائلڈ لائف برسوں سے برف باری کے دوران یہ طریقہ کار اپناتا رہا ہے لیکن کچھ ماہرین اس سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگلی حیات کے قدرتی ماحول سے چھیڑ چھاڑ کے مترادف ہے۔

    ریجنل وائلڈ لائف وارڈن راشد نقاش کہتے ہیں کہ ہانگل کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے ، لہذا اس کے معاملہ میں تحفظاتی پراجیکٹس جاری ہیں اور اس حساس جانور کو مدد کی ضرورت ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ان فوڈ پوائنٹس پر شکاری جانور جیسے تیندوے اور انسان انھیں آسانی سے شکار بنا سکتے ہیں کیونکہ یہاں پر یہ جمع ہوجاتے ہیں ، اس پر داچھی گام نیشنل پارک کے فارسٹر نے کہا کہ داچھی گام نیشنل پارک میں مسلسل نظر رکھی جاتی ہے اور انسانوں کی طرف سے کم سے کم اس حصہ میں شکار کرنا ممکن نہیں۔

    ہانگل سرخ ہرن کی ایک نسل مانی جاتی رہی ہے ، جو ایک زمانے میں دنیا کے کئی حصوں میں پائی جاتی تھی ، لیکن اب داچھی گام نیشنل پارک دنیا میں اس کی واحد آماجگاہ بتائی جارہی ہے۔ سال 2021 میں کئے گئے شمار کے مطابق اب یہاں ہانگل کی تعداد 261 ہے جو اس سے پہلے یعنی 2019 میں 237 بتائی گئی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: