اپنا ضلع منتخب کریں۔

    J&K News: کشمیری قالین کی جیو ٹیگنگ اور کیو آر کوڈ کو سرکار نے کیا شروع، جانئے کیا ہوگا فائدہ

    Jammu and Kashmir News : کوڈ پر مبنی میکانزم جو کہ جموں و کشمیر کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی تصدیق اور لیبلنگ کیلئے ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا طریقہ ہے ۔ کیو آر پر مبنی ایپلیکیشن کے ذریعے صارفین جموں و کشمیر میں تیار کردہ قالینوں کی صداقت اور دیگر مطلوبہ تفصیلات کی جانچ اور تصدیق کر سکتے ہیں ۔

    Jammu and Kashmir News : کوڈ پر مبنی میکانزم جو کہ جموں و کشمیر کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی تصدیق اور لیبلنگ کیلئے ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا طریقہ ہے ۔ کیو آر پر مبنی ایپلیکیشن کے ذریعے صارفین جموں و کشمیر میں تیار کردہ قالینوں کی صداقت اور دیگر مطلوبہ تفصیلات کی جانچ اور تصدیق کر سکتے ہیں ۔

    Jammu and Kashmir News : کوڈ پر مبنی میکانزم جو کہ جموں و کشمیر کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی تصدیق اور لیبلنگ کیلئے ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا طریقہ ہے ۔ کیو آر پر مبنی ایپلیکیشن کے ذریعے صارفین جموں و کشمیر میں تیار کردہ قالینوں کی صداقت اور دیگر مطلوبہ تفصیلات کی جانچ اور تصدیق کر سکتے ہیں ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: مرکزی زیر انتظام والے جموں و کشمیر میں ہاتھ سے تیار کردہ قالینوں کیلئے اپنی نوعیت کا پہلا کیو آر کوڈ والا میکانزم یعنی تکنیکی پہلو کو جموں و کشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے لانچ کیا ۔ اس میکانزم کی بدولت اب صارفین کشمیر میں ہاتھ سے بنے جانے والے قالینوں کی سرٹیفکیشن اور لیبلنگ کیلئے جی آئی ٹیگنگ و کیو آر کوڈ کی مدد لے سکتے ہیں ۔

    کوڈ پر مبنی میکانزم جو کہ جموں و کشمیر کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی تصدیق اور لیبلنگ کیلئے ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا طریقہ ہے ۔ کیو آر پر مبنی ایپلیکیشن کے ذریعے صارفین جموں و کشمیر میں تیار کردہ قالینوں کی صداقت اور دیگر مطلوبہ تفصیلات کی جانچ اور تصدیق کر سکتے ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ جموں و کشمیر کی دستکاری ہندوستان کی تخلیقی روایات کا ذخیرہ ہے ، جو صدیوں سے ثقافتی اظہار کے طور پر کام کر رہی ہے۔ یہ تخلیقی روایت پیچیدہ ڈیزائنوں اور باریک رنگوں کے ساتھ ہاتھ سے بنے قالینوں میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم ہاتھ سے بنے ہوئے قالینوں کی انفرادیت کو معیاری بنانے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں جموں و کشمیر کی قالین کی صنعت کی برآمدات کو فروغ دینے کے قابل ہو جائیں گے۔

    اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کے دستکاری اور ہینڈلوم کے ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو بھی مبارکباد دی۔ ایل جی نے کہا : "میں واقعی تمام کاریگروں اور قالین بُننے والوں کے محنتی کام کی تعریف کرتا ہوں۔ حکومت جموں و کشمیر کے انمول فنی اور ثقافتی ورثے کو مضبوط کرنے کے لئے تربیت اور مالی مدد فراہم کر رہی ہے"۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر ہینڈ لوم اور دستکاری کی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپٹ ٹیکنالوجی نے کشمیری قالینوں کو فروغ دینے کے لیے جی آئی سرٹیفیکیشن، ٹیسٹنگ، لیبلنگ اور تربیت کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر نے ایکسپورٹ انسینٹیو اسکیم متعارف کرائی ہے۔ اس اسکیم کے تحت کسی بھی ملک کو برآمد کی جانے والی مصدقہ دستکاری اور ہینڈ لوم مصنوعات کے کل حجم کی 10 فی صدی ہوگی۔ اس موقع پر جانکاری دی گئی کہ دستکاری مصنوعات کی اختراعی اور اقتصادی پیکیجنگ پرنیفٹ سری نگر کے اشتراک سے ایک پروجیکٹ بھی مکمل کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ اس وقت جموں و کشمیر سے کم از کم 25 ممالک کو قالین برآمد کیے جا رہے ہیں۔ 2020-21 میں جرمنی کو 115 کروڑ روپے کے قالین برآمد کئے گئے ہیں۔ جبکہ یو اے ای اور امریکہ کو بھی کروڑوں روپے کے قالین برآمد کئے گئے ہیں۔

    اس موقع پر رنجن پرکاش ٹھاکر، جموں و کشمیر حکومت کے پرنسپل سکریٹری، صنعت و تجارت کے محکمے نے کیو آر کوڈ پر مبنی  ایپلیکیشن کی اہم خصوصیات کے بارے میں آگاہ کیا۔ محمود احمد شاہ، ڈائرکٹر دستکاری اور ہینڈ لوم کشمیر نے جموں کشمیر کے ہاتھ سے بنے ہوئے قالین کی صنعت کے پس منظر اور موجودہ منظر نامے اور اسے فروغ دینے کے لیے  انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے تازہ ترین اقدامات کے بارے میں پاور پوائنٹ پریزنٹیشن دی۔

    درىں اثناء کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے  کشمیری قالین کی جی آئی ٹیگنگ اور کیو آر کوڈ کے متعارف کرنے کو ایک اچھا قدم قرار دیا ہے اور سرکار کا اس حوالے سے شکریہ ادا کیا ہے۔ کے سی سی آئی کے صدر شیخ عاشق احمد نے کہا کہ کشمیری قالینوں کی جیو ٹیگنگ اور کیو آر کوڈ سے یہاں کی دستکاری کو یقینی طور پر فروغ ملے گا اور بین الاقوامی سطح پر کشمیری قالینوں کو صحیح مقام حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کشمیری قالینوں کی ایکسپورٹ شرح جو گزشتہ چار برسوں سے کم ہو رہی تھی میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: