ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جی ایم سی اننت ناگ میں کورونا وائرس سے فوت شدہ افراد کے اہل خانہ نے اسپتال انتظامیہ پر لگائے الزام، کہی یہ بڑی بات

کووڈ کی وجہ سے حالیہ دنوں میں دیگر فوت شدہ افراد کے اہل خانہ کا نے بھی اسی طرح کے الزامات عائد کۓ ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جی ایم سی اننت ناگ ڈاکٹروں کےلئے محض تجربہ گاہ بن گیا ہے جبکہ مریضوں کے لیے یہ اسپتال ذبحہ خانہ بن چکا ہے۔

  • Share this:
جی ایم سی اننت ناگ میں کورونا وائرس سے فوت شدہ افراد کے اہل خانہ نے اسپتال انتظامیہ پر لگائے الزام، کہی یہ بڑی بات
کووڈ کی وجہ سے حالیہ دنوں میں دیگر فوت شدہ افراد کے اہل خانہ کا نے بھی اسی طرح کے الزامات عائد کۓ ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جی ایم سی اننت ناگ ڈاکٹروں کےلئے محض تجربہ گاہ بن گیا ہے جبکہ مریضوں کے لیے یہ اسپتال ذبحہ خانہ بن چکا ہے۔

جموں کشمیر:- کورونا وبا سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کےلئے جہاں سرکاری سطح پر کوششیں جاری ہیں، وہیں گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں کووڈ مریضوں کی حالیہ اموات کےلئے لوگوں نے اسپتال انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ لوگوں کے مطابق حالیہ اموات اسپتال میں جاری بدنظمی اور غیر مستحکم طبی ڈھانچے کا شاخسانہ ہے۔

دراصل کچھ روز قبل اننت ناگ کی ایک خاتون اور اسکی 34 سالہ بہو یکے بعد دیگرے جی ایم سی اننت ناگ میں کورونا کی بھینٹ چڑھ گیئں۔ جسکے بعد فوت شدہ خواتین کے رشتہ داروں نے الزام لگایا کہ دونوں خواتین جو کہ کووڈ کے مرض میں مبتلا تھیں ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور اسپتال میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے جان بحق ہوئ ہیں۔

نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے خواتین کے رشتہ داروں نے الزام لگایا کہ جی ایم سی اننت ناگ میں  جی ایم سی اننت ناگ میں کووڈ مریضوں کو آیسولیشن کے نام پر خدا کے رحم و کرم پر چھوڑا جاتا ہے اور ان مریضوں کا کوئ پرسان حال نہیں ہے ، جبکہ ڈاکٹر دن میں ایک بار راؤنڈ کرنے کےلئے وارڈ میں داخل ہوتا ہے لیکن کسی مریض کو چھونے تک کی تکلیف نہیں اٹھاتے ہیں۔


یہی حال نیم طبی عملے کا بھی ہے۔ عاصف دادا نامی اننت ناگ کے ایک شخص نے کہا کہ اس نے محض دو دنوں میں اپنی والدہ اور اپنی اہلیہ کو کووڈ کی وجہ سے کھو دیا اور انکی موت کےلئے جی ایم سی انتظامیہ ذمہ دار ہے۔ عاصف کے مطابق نا ہی اسپتال میں کووڈ مریضوں کو مناسب آکسیجن سپلائی مل پاتی ہے اور نا ہی طبی نگہداشت۔ عاصف نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر کی جانب سے تجویز کردہ ٹراٹ- ٹی ٹیسٹ کی رپورٹ کےلئے اسے مبینہ طور پر تین روز تک انتظار کرنے کو کہا گیا، جبکہ مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے انکی والدہ اور جواں سال بیوی نے یکے بعد دیگرے اسپتال میں دم توڑا۔ ایک اور شخص عارف دادا کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنی والدہ کو سرینگر منتقل کرنے چاہا تو انہیں اسپتال کی جانب سے مناسب ایمبولینس فراہم نہیں کی گئ جسکی وجہ سے ان کی والدہ کی حالت مزید ابتر ہوگئ۔




کووڈ کی وجہ سے حالیہ دنوں میں دیگر فوت شدہ افراد کے اہل خانہ کا نے بھی اسی طرح کے الزامات عائد کۓ ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جی ایم سی اننت ناگ ڈاکٹروں کےلئے محض تجربہ گاہ بن گیا ہے جبکہ مریضوں کے لیے یہ اسپتال ذبحہ خانہ بن چکا ہے۔ لوگوں کے مطابق اسپتال میں وینٹلیٹرس دھول چاٹ رہے کیونکہ انکو آپریٹ کرنے والے عملے کی کمی ہے۔ جبکہ آئ سی یو وارڈ کا بھی حال کچھ اسی طرح کا ہے۔ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ کووڈ مریضوں کو جونئر ڈاکٹروں اور نا تجربہ کار نیم طبی عملے کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے اور تیمارداروں کو بیماروں کو محض انجیکشن لگوانے کےلئے نرسوں کے سامنے عاجزی اور منتیں کرنی پڑتی ہیں۔ جبکہ کالج کے پرنسپل کی نوٹس میں بارہا یہ مسائل لانے کے باوجود بھی کوئ حل نہیں نکل رہا ہے اور جی ایم سی میں کووڈ مریضوں کی شرح اموات میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر نیوز 18 اُردو نے جب جی ایم سی کے پرنسپل ، ڈاکٹر شوکت جیلانی سے حقائق جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے ان سارے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ ڈاکٹر شوکت جیلانی نے کہا کہ جی ایم سی میں کووڈ کی وجہ سے صرف تشویشناک حالت میں مبتلا مریضوں کی اموات ہوئی ہیں۔ جبکہ مریضوں کی بڑی تعداد بھی کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد اس وقت اپنے گھروں میں ہیں۔ انہوں نے کووڈ مریضہ کو ایمبولینس فراہم نہ کرنے کے الزامات کی بھی تردید کی اور کہا کہ کووڈ مریضوں کے علاج کے لیے جی ایم سی کے ڈاکٹر و نیم طبی عملہ کافی متحرک ہے اور ہر حال میں انہیں بہتر علاج اور طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی ان الزامات کی رو سے جی ایم سی انتظامیہ کی کافی نقطہ چینی ہو رہی ہے۔ جموں کشمیر کے معروف ادیب ، شاعر و قلمکار بشیر دادا نے کووڈ مریضوں کی لگاتار اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اموات کے وجوہات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بشیر دادا کے مطابق یہ اموات صرف اور صرف جی ایم سی اننظامیہ کی لاپرواہی سے رونما ہوئی ہیں جسکے لیے جی ایم سی کے پرنسپل و دیگر عہدیداران کو جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔ تاکہ جی ایم سی میں کووڈ مریضوں کے لیے درکار طبی ڈھانچے کو مزید مضبوط اور بہتر بنایا جا سکے۔ بشیر دادا نے انتظامیہ سے معاملے کا سنگین نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔
ادھر نیوز 18 اُردو کی جانب سے مگلوار کے روز اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ نشر کی گئ تھی۔ جسکے بعد ڈی سی اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے جی ایم سی اننت ناگ کے پرنسپل کو الزامات کی تحقیقات کےلئے ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی۔ معاملے کی سنگینیت اور جی ایم سی میں کووڈ مریضوں کی اموات کی بڑھتی شرح کے مدنظر بار ایسوسی ایشن اننت ناگ نے چیرمین لیگل سروسز اتھارٹی کو ایک عارضی پیش کی۔ جسکے بعد سب جج و سکریٹری ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی میر وجاہت نے جی ایم سی کے پرنسپل اور میڈیکل اسپرانٹینڈٹ کو بار ایسوسی ایشن کے پیٹیشن کا جواب دو دنوں کے اندر دینے کے احکام صادر کۓ ہیں۔ علاؤہ ازیں لیگل سروسز اتھارٹی نے جی ایم سی انتظامیہ کو کووڈ مریضوں کے بہتر علاج اور انکی شکایات کا ازالہ فی الفور ممکن بنانے کی بھی ہدایت جاری کی۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 19, 2021 11:13 AM IST