ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : کورونا وائرس کے بڑھتے قہر کے درمیان اب انتظامیہ نے اٹھایا یہ بڑا قدم، جانئے لوگوں پر کیا پڑے گا اثر

Jammu and Kashmir News : ٹویٹر پر ایل جی منوج سنہا نے لکھا کہ کووڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر تقریبات میں موجودہ دو سو افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو کم کرکے سو افراد کی گئی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے ایل جی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : کورونا وائرس کے بڑھتے قہر کے درمیان اب انتظامیہ نے اٹھایا یہ بڑا قدم، جانئے لوگوں پر کیا پڑے گا اثر
جموں و کشمیر : کورونا وائرس کے بڑھتے قہر کے درمیان اب انتظامیہ نے اٹھایا یہ بڑا قدم، جانئے لوگوں پر کیا پڑے گا اثر

سری نگر : جموں و کشمیر میں کورونا انفیکشن کی روک تھام کے لئے سرکاری سطح پر کئی اقدامات کئے جارہے ہیں۔  ایسے ہی ایک اقدام کے طور پر یوٹی کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے مختلف تقریبات اور میٹنگوں میں لوگوں کی مجموعی تعداد کم کرنے کا حُکم جاری کیا۔ سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر ایل جی منوج سنہا نے لکھا کہ کووڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر تقریبات میں موجودہ دو سو افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو کم کرکے سو افراد کی گئی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے ایل جی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔


نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے عام لوگوں نے کہا کہ یوٹی میں انفیکشن کو کم کرنے کے لئے ایسا کرنا ناگزیر بن گیا ہے ۔ سجاد احمد شاہ نامی ایک شہری نے کہا کہ صحت ہر ایک شخص کی اولین ترجیح ہے ، اسلئے ایسا قدم اٹھانا لازمی تھا اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سرکار کی طرف سے وضع کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا چاہئے ۔ تاکہ انفیکشن کے پھیلاو پر روک لگائی جاسکے ۔ ایک اور شہری راجیش ٹھاکُر کا کہنا تھا کہ بھیڑ کم کرنے سے کووڈ انفیکشن کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو نہ صرف تقریبات سے دور رہنا چاہئے ۔ بلکہ بازاروں میں بھی بلا وجہ گھومنے سے پرہیز کرنا چا ہئے ۔




جموں شہر کے  ترکوٹہ نگر سے تعلق رکھنے والے اروند شرما کا کہنا تھا کہ  یہ اقدام قابل ستائش ہے ۔ تاہم انہوں نے سرکار کو ایک مشورہ بھی دیا ۔ انہوں نے کہا کہ  سرکار کو رات کے کرفیو کی مدت بڑھانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ رات کا کرفیو موجودہ رات دس بجے کی بجائے شام سات بجے سے ہی اگلے دن صُبح چھ بجے تک نافذ رکھے ۔ انہون نے کہا کہ سرکار کو ویک اینڈ لاک ڈائون کو بھی نافذ کرنا چاہئے ۔

واضح رہے کہ سرکار نے کووڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر پہلے ہی کئی اقدامات اٹھائے ہیں ، جن کے تحت پوری یوٹی میں تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں آف لائین تدریسی عمل تیس اپریل تک ملتوی کردیا ہے ۔ پندرہ اپریل کو جاری ایک حُکم نامے کی رو سے یوٹی کے سمر زون میں دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کو فی الحال موخر کردیا گیا ہے ۔

یو ٹی میں کووڈ سے متاثرہ بیماروں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں سرکار کی طرف سے آج ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ تاکہ جموں و کشمیر کے تمام اسپتالوں کو میڈیکل آکسیجن وقت پر فراہم کی جاسکے ۔ آٹھ ممبران پر مشتمل اس کمیٹی سربراہی انڈسٹریز اور کامرس محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری کریں گے ۔ کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر بلا کسی تاخیر کے اسپتالوں میں میڈیکل آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بنائیں ۔

قابل ذکر ہے کہ محکمہ صحت نے کشمیر وادی کے اٹھارہ ڈسٹرکٹ ، سب ڈسٹرکٹ اور ایسوسی ایٹیڈ اسپتالوں میں آکسیجن جنریٹنگ پلانٹ چالو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 17, 2021 07:59 PM IST